بسم اﷲ الرحمٰن الرحيم
اَللہ ربّ العزت خالقِ کائنات ہے، قادرِ مطلق اور حقيقي مُستعان ہے۔ کائناتِ اَرض و سماء ميں جاري و ساري جملہ اَعمال و اِختيارات کا حقيقي مالک وُ ہي ذاتِ حق ہے، جس کے اِذن سے شب و روز کا سلسلہ وُقوع پذير ہے۔ وہ اپني ذات و صفات ميں واحد ہے، يکتا ہے، کوئي اُس کا ہمسر نہيں۔ ارب ہا مخلوقات کو زِندگي عطا کرنے، آنِ واحد ميں دي ہوئي حيات کو سلب کرنے اور وسيع و عريض کائناتوں کا نظام چلانے ميں، کوئي اُس کا مددگار اور شريک نہيں۔ تمام جہانوں ميں تصرّف کرنے والي اور نظامِ حيات کو روز اَفزُوں رکھنے والي ذات فقط اَللہ ربّ العزت کي ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے پر ملکيتِ حقيقي اَللہ تعاليٰ کے سِوا کسي کو حاصل نہيں۔ اَﷲ کے سوا کوئي کسي شے کا از خود مالک نہيں بن سکتا، اِلاّ يہ کہ وہ خود اُسے مالک بنا دے يا تصرّف سے نواز دے، حتي کہ اپني ذات اور چھ فُٹ کے بدن کے اُوپر بھي کسي فردِ بشر کو حقِ ملکيت حاصل نہيں۔ نفع و ضرر، حيات و ممات اور مرنے کے بعد جي اُٹھنے کا اَز خود کوئي مالک نہيں۔ اَللہ ہي مارتا اور وُہي جِلا بخشتا ہے۔ ہماري ہر سانس اُسي کے قبضۂ قدرت ميں ہے۔
اَحکامِ اِسلام اور قرآنِ حکيم کي اَبدي اور لازوال تعليمات کي روشني ميں بندے کي طرف نفع و ضرر اور مِلکيت و تصرّف کي نسبت کرنا محض سبب اور کسب کے اِعتبار سے درست ہے۔ خلق، اِيجاد، تاثير، علّت اور قوّتِ مطلقہ کے اِعتبار سے مخلوق کي طرف نفع و ضرر کي نسبت قطعي طور پر درست نہيں۔ اگر ہم بنظرِ غائر جائزہ ليں تو مخلوق کي طرف موت و حيات، نفع و ضرر، مِلکيت و تصرّف اور اُس کے جملہ کسب کي نسبت حقيقي نہيں بلکہ مجازي ہوتي ہے اور اِن اُمور ميں نسبتِ حقيقي کا حقدار فقط اﷲ ربّ العزت کي ذات ہے۔ اِن حقائق کو بيان کرنے اور قرآنِ مجيد ميں وارِد ہونے والي آياتِ بيّنات سے اِستنباط کرنے ميں بعض لوگ لفظي مُوشگافيوں اور خلطِ مبحث ميں اُلجھ کر گوہرِ مقصود سے تہي دامن رہ جاتے ہيں۔ في زمانہ اُن لوگوں نے آياتِ قرآنيہ کے مفاہيم اَخذ کرنے ميں حقيقت و مجاز کے درميان فرق اور اِعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر فقط حقيقي معنوں سے اِستدلال لينا درست قرار دے رکھا ہے۔ چنانچہ وہ مجازي معني کا جواز تک محلِ نظر سمجھتے ہيں۔ يہي وجہ ہے کہ وہ اَئمۂ اَسلاف کي طرف سے کي گئي تعبيرات و تفسيرات سے رُوگرداں ہيں اور عقائد کے باب ميں تفسير بالرّائے کے ذريعے بدعاتِ سيئات پيدا کرنے اور قرآن و سنت کي حقيقي تعليمات سے ہٹ کر عقائد کو جنم دينے ميں مصروف ہيں۔ ايسے ميں جب ہم غيرجانبداري سے ديکھيں تو دُوسري طرف ہميں لفظي اِشتباہ ميں پڑے ہوئے جاہل عوام بھي بکثرت ملتے ہيں جو مجاز کے اِستعمال ميں حد درجہ زيادتي اور غُلو کے قائل ہيں اور اِعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بيٹھے ہيں۔ اگرچہ وہ دل سے اللہ ربّ العزّت کي توحيد و تنزيہہ اور ديگر اِسلامي عقائد پر پختگي کے ساتھ قائم ہيں مگر باديء النظر ميں مجاز کے اِستعمال کي کثرت کے باعث مجازي معني کے عدم جواز کے قائل گروہ کے ہاں قابلِ دُشنام قرار پاگئے ہيں۔ حرفِ حق کي تلاش ميں نکلنے والے توازن اور اِعتدال کا راستہ اپناتے ہيں۔ حقيقت و مجاز کے اِستعما ل ميں قرآني اِعتدال کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو اِن دونوں اِنتہاؤں ميں حائل خليج کو پاٹ کر اُمت کو پھر سے جسدِ واحد بنايا جاسکتا ہے۔ يہي وطيرہ دينِ حق کي حفاظت اور مقامِ توحيد کي حقيقي تعبير و تفہيم کيلئے ضروري و کارآمد ہے۔
عقائدِ اِسلاميہ کي تعبير وتوجيہہ کے باب ميں اَسلاف اَئمۂ کرام ميں سے اِمام اِبنِ تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کو متنازع گردانا جاتا ہے، جبکہ حقيقتِ حال يہ ہے کہ اُن کا عقيدہ نہايت اِعتدال پر مبني ہے اور اگر موجودہ دَور ميں اُس کي کما حقّہ غيرجانبدارانہ تعبير و تشہير کي جائے تو کچھ بعيد نہيں کہ دونوں اِنتہاؤں پر جا پہنچنے والے مسالِک کو باہم قريب کيا جا سکے۔ سرِدست صورتحال کچھ يوں ہے کہ عقائدِ اِسلاميہ ميں اپني کج فہمي کي بناء پر بِدعات داخل کرنے والا گروہ اِمام اِبنِ تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کي تعليمات کا مَن گھڑت تصوّر پيش کر کے اُن سے اپنے خود ساختہ عقائد کي بے جا تائيد حاصل کر رہا ہے جبکہ صحيح اِسلامي عقيدے پر کاربند کم پڑھے لکھے اَفرادِ اُمت حقائق سے عدم آگہي کے باعث اِمام اِبن تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کو غيراِسلامي عقيدے کا حامل سمجھنے لگ گئے ہيں۔
اِمام اِبن تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کا عقيدہ جمہور اہلِ اسلام کا عقيدہ ہے، اور وہ يہ کہ ’’اللہ ربّ العزّت ايک ہے، اُس کا کوئي ثاني نہيں۔ فقط اُسي کي عبادت رَوا ہے، اُسي سے دُعا کرني چاہئيے اور اُسي کو حقيقي مُستعان سمجھنا چاہئيے۔ اُسي کي ذات پر بھروسہ کرنا چاہئيے اور مشکل وقت ميں اُسي سے مدد مانگني چاہئيے۔ غيراللہ کو مددگارِ حقيقي سمجھنا اِسلام کے دائرے سے خروج کے مُترادِف ہے۔ فقط اللہ نيکي کي توفيق سے نوازتا اور گناہوں کو معاف کرنے پر قُدرت رکھتا ہے۔ اُس کے علاوہ کوئي اَز خود کسي کو گناہ سے روک سکتا ہے اور نہ نيکي کي توفيق دے سکتا ہے۔ اَنبياءے کرام اور اَولياء اﷲ سے مدد صرف اُنہيں مستعانِ مجازي مانتے ہوئے ہي جائز ہے‘‘۔ يہي عين اِسلامي عقيدہ ہے اور اِس سے سرِمُو اِنحراف عقائدِ باطلہ کي طرف رُجحان کا باعث ہو گا۔
لفظِ استغاثہ کي لُغوي تحقيق
لفظِ استغاثہ کا مادۂ اِشتقاق ’’غ، و، ث‘‘ (غوث) ہے، جس کا معني ’’مدد‘‘ کے ہيں۔ اِسي سے اِستغاثہ بنا ہے، جس کا مطلب ’’مدد طلب کرنا‘‘ ہے۔ اِمام راغب اِصفہاني رحمۃ اللہ عليہ اِستغاثہ کا لُغوي معني و مفہوم بيان کرتے ہوئے يوں رقمطراز ہيں :
الغَوثُ : يقال في النُّصرةِ، و الغَيثُ : في المطرِ، واستغثته : طلبت الغوث أو الغيث.
غَوث کے معني ’’مدد‘‘ اور غَيث کے معني ’’بارش‘‘ کے ہيں اور استغاثہ کے معني کسي کو مدد کے لئے پکارنے يا اللہ تعالي سے بارش طلب کرنے کے ہيں۔
(المفردات : 617)
لفظِ استغاثہ کا اِستعمال قرآنِ مجيد ميں بھي متعدّد مقامات پر ہوا ہے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر صحابۂ کرام کي اﷲ ربّ العزت کے حضور فرياد کا ذکر سورۂ انفال ميں يوں وارِد ہوا ہے :
اذْ تَسْتَغِيْثُونَ رَبَّکُمْ.
جب تم اپنے ربّ سے (مدد کے لئے) فرياد کررہے تھے۔
(الانفال، 8 : 9)
سيدنا موسيٰ عليہ السلام سے اُن کي قوم کے ايک فرد کا مدد مانگنا اور آپ کا اُس کي مدد کرنا، اِس واقعے کو بھي قرآنِ مجيد نے لفظِ استغاثہ ہي کے ساتھ ذِکر کيا ہے۔ سورۂ قصص ميں اِرشادِ باري تعاليٰ ہے :
فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِهِ عَلَي الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّه.
تو جو شخص اُن کي قوم ميں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے ميں جو موسيٰ کے دُشمنوں ميں سے تھا موسيٰ سے مدد طلب کي۔
(القصص، 28 : 15)
اَہلِ لُغت کے نزديک استغاثہ اور استعانت دونوں اَلفاظ مدد طلب کرنے کے معني ميں آتے ہيں۔ اِمام راغب اِصفہاني رحمۃ اللہ عليہ لفظِ استعانت کا مفہوم بيان کرتے ہوئے رقمطراز ہيں :
وَ الْاسْتِعَانَةُ : طَلَبُ الْعَوْنِ.
اِستعانت کا معني مدد طلب کرنا ہے۔
(المفردات : 598)
لفظِ استعانت بھي قرآنِ مجيد ميں طلبِ عون کے معني ميں اِستعمال ہوا ہے۔ سورۂ فاتحہ ميں بندوں کو آدابِ دُعا سکھاتے ہوئے قرآنِ مجيد فرماتا ہے :
ايَّاکَ نَسْتَعِيْنُo
اور ہم تجھي سے مدد چاہتے ہيںo
(فاتحه، 1 : 4)
اِستغاثہ کي اَقسام
عرب اَہلِ لُغت اور مفسرينِ قرآن کي تصريحات کے مطابق اِستغاثہ کا معني مدد طلب کرنا ہے۔ جس کي دو صورتيں ہوسکتي ہيں :
1۔ استغاثہ بالقول
2۔ استغاثہ بالعمل
مُشکل حالات ميں گِھرا ہوا کوئي شخص اگر اپني زبان سے اَلفاظ و کلمات اَدا کرتے ہوئے کسي سے مدد طلب کرے تو اِسے اِستغاثہ بالقول کہتے ہيں اور مدد مانگنے والا اپني حالت و عمل اور زبانِ حال سے مدد چاہے تو اِسے اِستغاثہ بالعمل کہيں گے۔
اِستغاثہ بالقول
قرآن مجيد ميں سيدنا موسيٰ عليہ السلام کے واقعہ کے حوالے سے اِستغاثہ بالقول کي مثال يوں مذکور ہے :
وَ أَوْحَيْنَآ الٰي موسيٰ اذِ اسْتَسْقٰهُ قَوْمُه أَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ.
اور ہم نے موسيٰ کے پاس (يہ) وحي بھيجي جب اس سے اس کي قوم نے پاني مانگا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو۔
(الاعراف، 7 : 160)
اِسلام دينِ فطرت ہے اور سيدنا آدم عليہ السلام سے لے کر نبيء آخرالزماں صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم تک تمام انبياء کا دِين ہے۔ عقيدۂ توحيد تمام انبياء کي شرائع ميں بنيادي اور يکساں اہميت کا حامل ہے۔ شريعتِ مصطفوي سميت کسي بھي شريعت کي تعليمات کے مطابق اَللہ ربّ العزّت کے سِوا مددگارِ حقيقي کوئي نہيں، جبکہ اِس آيتِ مبارکہ ميں سيدنا موسيٰ عليہ السلام سے پاني کا اِستغاثہ کيا گيا ہے۔ اگر يہ عمل شِرک ہوتا تو اِس مطالبۂ شِرک پر مبني معجزہ نہ دکھايا جاتا، کيونکہ تاريخ گواہ ہے کہ جب بھي کبھي اَنبيائے کرام عليہم السلام سے خلافِ توحيد کوئي مطالبہ کيا گيا تو اُنہوں نے شِرک کي تمام تر راہيں مسدُود کرنے کے لئے اُس سے منع فرمايا۔ دُوسري طرف ہم ديکھتے ہيں کہ مذکورۃُ الصّدر آيتِ کريمہ ميں اَللہ تعاليٰ قومِ موسيٰ کے اِستغاثہ پر خود سيدنا موسيٰ عليہ السلام کو اِظہارِ معجزہ کي تاکيد فرما رہا ہے۔ اِس کا مطلب يہ ہوا کہ حقيقي کارساز تو بلا ريب ميں ہي ہوں مگر اے موسيٰ عليک السلام! ميں اِظہارِ معجزہ کے لئے اپنے اِختيارات تمہيں تفويض کرتا ہوں۔
اِستغاثہ بالعمل
مصيبت کے وقت زبان سے کسي قسم کے اَلفاظ ادا کئے بغير کسي خاص عمل اور زبانِ حال سے مدد طلب کرنا استغاثہ بالعمل کہلاتا ہے۔ قرآنِ مجيد ميں اِستغاثہ بالعمل کے جواز ميں بھي اﷲ تعاليٰ کے محبوب و مکرم انبياء عليہم السلام کا واقعہ مذکور ہے۔ سيدنا يوسف عليہ السلام کي جُدائي ميں اُن کے والدِ ماجد سيدنا يعقوب عليہ السلام کي بينائي کثرتِ گريہ کي وجہ سے جاتي رہي۔ حضرت يوسف عليہ السلام کو جب حقيقتِ حال سے آگاہي ہوئي تو اُنہوں نے اپني قميض بھائيوں کے ہاتھ والدِ ماجد سيدنا يعقوب عليہ السلام کي طرف بغرضِ اِستغاثہ بھيجي اور فرمايا کہ اِس قميض کو والد گرامي کي آنکھوں سے مَس کرنا، بينائي لوٹ آئے گي، چنانچہ ايسا ہي ہوا۔ اِس واقعہ کا ذکر اَﷲ ربّ العزّت نے کلامِ مجيد ميں کچھ اِن الفاظ ميں کيا ہے :
اذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَأَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ أَبِيْ يَأْتِ بَصِيْراً.
ميري يہ قميض لے جاؤ، سو اسے ميرے باپ کے چہرے پر ڈال دينا وہ بينا ہو جائيں گے۔
(يوسف، 12 : 93)
حضرت يوسف عليہ السلام کے بھائيوں نے جب وہ قميض لے جا کر سيدنا يعقوب عليہ السلام کي آنکھوں سے مَس کي تو وہ في الحقيقت مشيّتِ اَيزدي سے بينا ہو گئے۔ قرآنِ مجيد ميں ہے :
فَلَمَّآ أَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ أَلْقَاهُ عَلٰي وَجْهِه فَارْتَدَّ بَصِيْراً.
پھر جب خوشخبري سنانے والا آ پہنچا اس نے وہ قميص يعقوب عليہ السلام کے چہرے پر ڈال ديا تو اسي وقت ان کي بينائي لوٹ آئي۔
(يوسف، 12 : 96)
اَﷲ ربّ العزت کے برگزيدہ پيغمبر سيدنا يعقوب عليہ السلام کا عملِ مبارک جس سے اُن کي بينائي لوٹ آئي، عملي طور پر حضرت يوسف عليہ السلام کي قميض سے اِستغاثہ ہے۔ يہ اِستغاثہ بالعمل کي بہترين قرآني مثال ہے، جس ميں سيدنا يوسف عليہ السلام کي قميض اللہ تعاليٰ کي بارگاہ سے حصولِ بينائي کا وسيلہ و ذرِيعہ بني۔
اِستغاثہ اور توسّل ميں باہمي ربط
اِستغاثہ اور توسل دونوں ميں في الحقيقت ايک ہي شئے مطلوب ہوتي ہے اور اِن کے مابين فرق محض فعل کي نسبت ميں ہے۔ جب فعل کي نسبت مدد طلب کرنے والے کي طرف کي جائے تو اُس شخص کا يہ عمل اِستغاثہ کہلائے گا، اور مُستغاثِ مجازي (جس سے مدد طلب کي جا رہي ہے) بحيثيت ’’وسيلہ‘‘ و ’’ذريعہ‘‘ ہوگا، کيونکہ مستغاثِ حقيقي باري تعاليٰ ہے۔ پس حضرت يعقوب عليہ السلام کا عمل اِستغاثہ اور قميض وسيلہ ہے۔ اِس کے برعکس جب براہِ راست اللہ تعاليٰ سے دُعا کرتے ہوئے اُس سے اِستغاثہ کيا جاتا ہے تواﷲ ربّ العزّت کي بارگاہ سے بڑي چونکہ کوئي بارگاہ نہيں اِس لئے وہ وسيلہ کي بجائے حقيقي مستغاث قرار پاتا ہے۔ مختصر يہ کہ مذکورہ قرآني بيان ميں اِستغاثہ بالعمل سنتِ اَنبياء سے ثابت ہے۔
اِستغاثہ اور دُعا ميں بنيادي فرق
دُکھ، درد اور تکليف ميں کسي سے مدد طلب کرنا اِستغاثہ کہلاتا ہے، جبکہ مطلقاً پُکارنا دُعا کہلاتا ہے، اِس ميں دُکھ، درد، مصيبت اور تکليف کي شرط نہيں۔ دُعا اور اِستغاثہ ميں عموم و خصوص مطلق کي نسبت ہے، کيونکہ دُعا مطلق پکارنے کو کہتے ہيں جبکہ اِستغاثہ کے لئے شرط ہے کہ مصيبت يا تکليف ميں پکاراجائے، اِس لئے ہر اِستغاثہ تو دُعا ہے ليکن ہر دُعا اِستغاثہ نہيں ہے۔ اِستغاثہ اور دُعا ميں يہي بنيادي فرق ہے۔
کلامِ باري تعاليٰ ميں لفظِ دُعا کا اِستعمال
دعا، يدعو، دعوۃً کا معني بلانا اور پکارنا ہے۔ قرآنِ حکيم ميں ’’دعا‘‘ کا مادہ متعدّد معاني ميں اِستعمال ہوا ہے۔ ذيل ميں دُعا کا قرآني تصوّر واضح کرنے کے لئے اُن ميں سے چند اہم معاني کا ذِکر کيا جا رہا ہے :
1. النِّدَآءُ
قرآنِ مجيد ميں لفظِ دُعا، نداء کے معني ميں عام اِستعمال ہوا ہے اور کبھي نداء اور دُعا باہم ايک دوسرے کي جگہ بھي اِستعمال ہوئے ہيں۔ مثال کے طور پر قرآن مجيد ميں ہے :
وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ الَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً.
اور ان کافروں (کو ہدايت کي طرف بلانے) کي مثال ايسے شخص کي سي ہے جو کسي ايسے (جانور) کو پکارے جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہيں سنتا۔
(البقره، 2 : 171)
2. التَّسْمِيَةُ
لُغتِ عرب ميں بعض اَوقات لفظِ دُعا تسميہ يعني نام رکھنے يا پکارنے کے معني ميں بھي اِستعمال ہوتا ہے۔ جيسا کہ اِمام راغب اِصفہاني رحمۃ اللہ عليہ مثال پيش فرماتے ہيں :
دَعوتُ ابْني زَيداً.
ميں نے اپنے بيٹے کا نام زيد رکھا۔
(المفردات : 315)
اِسي طرح قرآنِ مجيد ميں اللہ تعاليٰ نے آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے ادب و تعظيم پر رَغبت دلاتے ہوئے فرمايا :
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضاً.
(النور، 24 : 63)
(اَے مسلمانو!) تم رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بلانے کو آپس ميں ايک دوسرے کو (نام لے کر) بلانے کي مثل قرار نہ دو۔
اِس آيتِ کريمہ ميں خود اﷲ تعاليٰ نے بارگاہِ مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا ادب بيان فرمايا ہے۔ پس ہميں چاہيئے کہ تاجدارِ انبياء صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو کبھي بھي اُن کا اسمِ مبارک ’’محمد‘‘ کہہ کر نہ پکاريں بلکہ جب بھي بلانا مقصود ہو يا رسولَ اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم اور يا حبيبَ اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم جيسے اَلقابات سے پکارا کريں۔ جيسا کہ اللہ تعاليٰ نے ربِّ کائنات ہونے کے باوجود پورے قرآنِ مجيد ميں کسي ايک مقام پر بھي سرورِ کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو ’’يا محمد صلي اﷲ عليک وسلم‘‘ کہہ کر مخاطب نہيں کيا۔
3. الِاسْتِغَاثَةُ
لفظِ ’’دُعا‘‘ قرآنِ مجيد ميں بعض مقامات پر سوال اور مدد طلب کرنے کے معني ميں بھي اِستعمال ہوا ہے، جيسا کہ اِرشادِ رباني ہے :
وَ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ.
اور اُنھوں نے کہا آپ ہمارے لئے اپنے ربّ سے دُعا کريں۔
(البقرة، 2 : 68)
4. الحَثُّ عَلَي الْقَصْدِ
لفظِ ’’دُعا ‘‘ کا اِستعمال بعض اَوقات کسي چيز کے قصد پر رغبت دِلانے اور اکسانے کے لئے بھي کيا جاتا ہے۔ قرآن مجيد ميں اِس کي مثال يوں ہے :
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ الَيَ مِمَّا يَدْعُوْنَنِي الَيْهِ.
يوسف عليہ السلام نے(سب کي باتيں سن کر) عرض کيا اے ميرے ربّ مجھے قيد خانہ اس کام سے کہيں زيادہ محبوب ہے جسکي طرف يہ مجھے بلاتي ہيں۔
(يوسف، 12 : 33)
مرغوب اشياء کي طرف رغبت دِلانے کے معني ميںقرآنِ مجيد ميں لفظِ دُعا کا اِستعمال سورۂ يونس ميں اِس طرح ہوا ہے :
وَ اﷲُ يَدْعُوْا الٰي دَارِالسَّلَامِ.
اور اللہ (لوگوں کو) سلامتي کے گھر (جنت) کي طرف بلاتا ہے۔
(يونس، 10 : 25)
5. الطَّلَبُ
طلب کے معني ميںلفظِ دُعا کا اِستعمال لغتِ عرب ميں بکثرت ہوتا ہے۔ قرآنِ مجيد ميں اِس کي مثال يوں ہے :
وَ لَکُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَo
اور تمہارے لئے وہ سب کچھ بھي موجود ہے جو تم مانگو گےo
(حم السجدة، 41 : 31)
6. الدُّعَآءُ
لفظِ دُعا کبھي اﷲ ربّ العزت سے کي جانے والي دُعا کے معني ميں بھي اِستعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ مجيد ميں اﷲ تعاليٰ کے برگزيدہ اَفراد کي دُعا يوں مذکور ہے :
وَ آخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo
اور اُن کي دُعا (اِن کلمات پر) ختم ہوگي کہ ’’تمام تعريفيں اللہ ہي کے لئے ہيں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے‘‘o
(يونس، 10 : 10)
7. العِبَادَة
اﷲ تعاليٰ کي عبادت کو بھي دُعا کہا جاتا ہے، جيسا کہ تاجدارِ کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا اِرشادِ گرامي ہے :
الدُّعَآءُ هُوَ الْعِبَادَةُ.
دُعا عين عبادت ہے۔
(جامع الترمذي، اَبواب الدعوات، 2 : 173)
8. الخِطَابُ
لفظِ دُعا کي مذکورۃ الصدر اَقسام کے علاوہ کبھي اِسے مطلقاً خطاب کے لئے بھي اِستعمال کيا جاتا ہے۔ غزوۂ اُحد کے موقع پر جب دورانِ جنگ صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين کے قدم اُکھڑ گئے اور وہ منتشر ہوکر جنگ کرنے لگے اور صرف ايک مختصر جماعت تاجدارِ ختمِ نبوّت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اِرد گِرد رَہ گئي، تو اُس موقع پر جو لوگ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے دُور ہٹ کر بکھر گئے تھے، مالکِ کون و مکاں صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اُنہيں اپني طرف بلايا۔ محبوبِ کبريا کے اِس رحمت بھرے خطاب کو قرآنِ مجيد نے يوں بيان کياہے :
اذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْونَ عَلٰي أَحَدٍ وَ الرَّسُوْلُ يَدْعُوْکُمْ فِيْ أُخْٰرکُمْ.
جب تم (اَفراتفري کي حالت ميں) بھاگے جا رہے تھے اور کسي کو مڑ کر نہيں ديکھتے تھے اور رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) اُس جماعت ميں (کھڑے) جو تمہارے پيچھے (ثابت قدم) رہي تھي تمہيں پکار رہے تھے۔
(آل عمران، 3 : 153)
اِس آيۂ کريمہ ميں مذکور لفظ ’’يَدْعُوْکُمْ‘‘ يعني رسول تمہيں خطاب کر رہے تھے کا مطلب دُعائے عبادت ہرگز ہرگز قرار نہيں ديا جاسکتا کيونکہ قصرِ نبوت کے (معاذ اللہ) شرک کي آميزشوں ميں ملوّث ہونے کا تصوّر بھي ممکن نہيں۔
دُعا کي خودساختہ تقسيم
قرآنِ مجيد ميں مستعمل اَقسامِ دُعا کے تفصيلي ذِکر کے بعد اَب ہم اِس اَمر کا جائزہ ليتے ہيں کہ کچھ لوگ اِستغاثہ و توسّل کو غيرشرعي ثابت کرنے کے لئے دُعا کي ايک خودساختہ تقسيم کرتے ہيں حالانکہ اُن کے پاس نفيءِ اِستغاثہ پر قرآنِ مجيد کي کوئي ايک آيت بھي بطور دليل موجود نہيں۔ اُن کے تمام مفروضات کي بنياد عقلي مُوشگافياں ہيں، جو بذاتِ خود عقلِ ناقص کي پيداوار ہيں۔ اِستغاثہ کو شِرک قرار دينے کے لئے پہلے اسے دُعا کا مفہوم پہنايا جاتا ہے اور پھر دُعا کي دو خود ساختہ قسميں کر دي جاتي ہيں :
1۔ دُعائے عبادت
2۔ دُعائے سوال
1۔ دُعائے عبادت
دُعا کي پہلي قسم عبادت ہے اور اﷲ ربّ العزت کي تمام عبادات مختلف انداز رکھنے والي دعائيں ہيں۔ جيسا کہ نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا :
أَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَة.
دُعا عبادت کا نچوڑ (مغز ) ہے۔
(جامع الترمذي، اَبواب الدّعوات، 2 : 173)
جبکہ جامع ترمذي ہي ميں مروي ايک اور حديثِ مبارکہ ميں دُعا کو عينِ عبادت قرار ديا گيا ہے :
أَلدُّعَآءُ هُوَ الْعِبَادَةُ.
دُعا عينِ عبادت ہے۔
(جامع الترمذي، اَبواب الدعوات، 2 : 173)
عبادت صرف اﷲ ربّ العزّت ہي کي رَوا ہے، لہٰذا اُن کا خيال ہے کہ اِس معني کي رُو سے غيراﷲ سے کي جانے والي دُعا اُس کي عبادت قرار پانے کي وجہ سے شِرک کا موجب قرار پائي۔
2۔ دُعائے سوال
کسي سے سوال کرنا، کسي کو مشکل کشا ماننا اور اُس کے سامنے دستِ طلب دراز کرنا دُعائے سوال کہلاتا ہے۔
اِس مقام پر يہ اِعتراض کيا جاتا ہے کہ مشکل کشا چونکہ صرف اللہ تعاليٰ کي ذات ہے لہٰذا سوال بھي فقط اُسي سے کيا جا سکتا ہے۔ سائل کا سوال چونکہ اپني عبديت کا اِعتراف ہوتا ہے، اِس لئے غيراللہ سے سوال کرنا اُس کا بندہ بننے کے مترادف ہے اور وہ شِرک ہے۔ اِس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سائل من دون اﷲ مشرک ہے۔
تقسيم کا مفاد ’’مغايرت‘‘ يہاں مفقود ہے
دُعا کي مذکورہ بالا تقسيم جواز و عدم جوازِ اِستغاثہ کے نقطۂ نظر سے اِستغاثہ کے عدم جواز کے قائل گروہ کے لئے بھي غيرضروري ہے، کيونکہ دُعائے عبادت اور دُعائے سوال کو ايک ہي مفہوم دے کر تقسيم کي اِفاديت ضائع کر دي گئي ہے، يوں دُعائے سوال کو بھي گويا دُعائے عبادت ميں داخل کر ديا گيا ہے۔ جب دُعائے عبادت غيراللہ کے لئے رَوا نہيں اور دُعائے سوال بھي غيراللہ سے کرنا شِرک ٹھہرا تو دُعا کي اِن دونوں قسموں ميں فرق کيا رہا؟ دَرحقيقت اِس تقسيم کي قطعاًکوئي ضرورت نہ تھي۔ تقسيم کي اِفاديت تو تب ثابت ہوتي جب دونوں اَقسام پر مختلف نوعيت کے اَحکام مرتّب ہوتے۔ کسي بھي تقسيم کے تحت آنے والي اقسام اگر اپنا جدا جدا حکم نہ رکھيں تو ايسي تقسيم بے فائدہ ہوکر رہ جاتي ہے۔ اِس بات کو ہم ايک سادہ مثال کے ذريعے واضح کرتے ہيں :
مثال : سجدے کي دو اَقسام ہيں :
1۔ سجدۂ عبادت
2۔ سجدۂ تعظيم
سجدے کي اِن دو اقسام ميں سجدۂ تعظيم، سجدۂ عبادت ميں شامل نہيں ہوتا، اگر داخل کريں گے تو بُطلان لازِم آتا ہے۔ علاوہ ازيں دونوں ميں حکمي اِعتبار سے بھي بڑا فرق ہے۔ اگر کسي بندے کے سامنے عبادت کي نيّت سے سجدہ کيا جائے تو يہ اِرتِکابِ شِرک ہوگا اور اگر محض تعظيم کي خاطر سجدہ کيا جائے تو يہ شِرک قرار نہيں پائے گا بلکہ اِس فعل پر حرام کا حکم لگايا جائے گا۔
دُوسري مثال : اِسي طرح ايک اور مثال ديکھئے : کلمہ کي تين قسميں ہيں۔ اِسم، فعل اور حرف۔ يہ تينوں آپس ميں مغاير ہيں اور اِن کا آپس ميں ضم کرنا کسي صور ت بھي درست نہيں ہوسکتا۔
دُعا سے مُراد محض عبادت کا عدم ثبوت
اَب رہي يہ بات کہ لفظِ دُعا صرف دو معنوں ميں اِستعمال ہوتا ہے، تو يہ بھي ہرگز درست نہيں کيونکہ دُعا کے آٹھ معاني آپ سطورِ بالا ميں تفصيل سے پڑھ چکے ہيں۔ اگر دُعا کا مقصد صرف عبادت ليا جائے اور دُعائے سوال کو بھي دُعائے عبادت ميں داخل کر ديا جائے تو سارا معاشرہ شِرک کي دلدل ميں دھنس جائے گا اور انبيائے کرام بھي معاذاﷲ اُس دلدل سے نہيں بچ سکيں گے۔ واضح رہے کہ دُعا (پکارنا) ہر جگہ عبادت کے معني ميں مستعمل نہيں، بصورت ديگر کسي کي عصمت شِرک کي آلائشوں سے محفوظ نظر نہيں آتي۔ کيونکہ خود نصِ قرآني اِس پر شاہد ہے کہ سرورِ کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے بھي غيراللہ کو پکارا اور خود قرآن آپس ميں ايک دوسرے کو مدد کے لئے پکارنے کي اِجازت دے رہا ہے۔ اور اگر بفرضِ محال ہر جگہ دعا، يدعو، تدعو، ندعوا کا معني صرف دُعائے عبادت يا دُعائے سوال (جو بعض حضرات کے ہاں عبادت ہي کي ايک ذيلي صورت ہے) ہي قرار دينے پر اِصرار کيا جائے تو مندرجہ ذيل چند آيات کي کيا توجيہہ پيش کي جائے گي :
1. يَا قَوْمِ مَا لِيْ أَدْعُوْکُمْ الَي النَّجَاةِ وَ تَدْعُوْنَنِيْ الَي النَّارِo
اے ميري قوم يہ کيا ہے کہ ميں تم کو (راہ) نجات کي طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کي طرف دعوت ديتے ہوo
(مومن، 40 : 41)
2. قَالَ رَبِّ انِّيْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّ نَهَاراًo فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآئِيْ الَّا فِرَاراًo
عرض کيا اے ميرے رب! ميں اپني قوم کو رات دن ( دينِ حق کي طرف) بلاتا رہاo ليکن ميرے بلانے سے وہ (دين سے) اور زيادہ بھاگنے لگےo
(نوح، 71 : 5، 6)
3. وَ اﷲُ يَدْعُوْ الٰي دَارِ السَّلٰمِ.
اور اللہ سلامتي کے گھر (جنت) کي طرف بلاتاہے۔
(يونس، 10 : 25)
4. أُدْعُوْهُمْ لِأَبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِ.
ان (متبنّي بيٹوں ) کو ان کے باپوں کي طرف (نسبت) کر کے پکارا کرو، يہي اللہ کے نزديک درست بات ہے۔
(الاحزاب 33 : 5)
5. فَلْيَدْعُ نَادِيُهo سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَo
پس وہ اپنے ہم نشينوں کو (مدد کيلئے) بلالےo ہم بھي عنقريب (اپنے) سپاہيوں کو بلاليں گےo
(العلق، 96 : 17، 18)
6. فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ.
سو وہ انہيں بلائيں گے مگر وہ انہيں کوئي جواب نہ ديں گے۔
(الکهف، 18 : 52)
7. يَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ أُنَاسِمْ بِامَامِهِمْ.
جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پيشوا کے ساتھ بلائيں گے۔
(بني اسرائيل، 17 : 71)
8. وَ انْ تَدْعُهُمْ الَي الْهُدٰي.
اور اگر آپ انھيں ہدايت کي طرف بلائيں۔
(الکهف، 18 : 57)
سورۂ فاتحہ اور تصورِ اِستعانت و اِستغاثہ
سورۂ فاتحہ ميں جہاں اِسلام کے اور بہت سے عقائد و تعليمات کے تصوّر کو واضح کيا گيا ہے وہاں تصوّرِ اِستغاثہ کو بھي بڑے دلنشيں انداز ميں بيان کيا گيا ہے۔ اِرشادِ رباني ہے :
ايَاکَ نَعْبُدُ وَ ايَاکَ نَسْتَعِيْنُo
(الفاتحه، 1 : 4)
اے اﷲ ہم تيري ہي عبادت کرتے ہيں اور تجھ ہي سے مدد چاہتے ہيںo
يہي آيت مبارکہ مسئلہ اِستعانت و اِستغاثہ کي بنياد ہے جس ميں عبادت اور اِستعانت کو يکے بعد ديگرے ذِکر کيا گيا ہے۔ آيتِ کريمہ کا پہلا حصہ ’’ايَاکَ نَعْبُدُ‘‘ اِسلام کے تصوّرِ عبادت پر مشتمل ہے اور دُوسرا حصہ ’’ايَاکَ نَسْتَعِيْنُ‘‘ تصوّرِ اِستعانت کو واضح کرتا ہے۔ يہي وہ آيتِ مبارکہ ہے جس کے سطحي مطالعہ سے حاصل ہونے والے باطل اِستنباط کے ذريعے کچھ لوگ جميع امتِ مسلمہ پر شِرک کا فتويٰ لگانے کا آغاز کرتے ہيں۔
دراصل اِس آيت کے سطحي مطالعہ سے اُن کے ذِہنوں ميں يہ خيال جنم ليتا ہے کہ آيت کے دونوں حصے ايک جيسے اَلفاظ پر مشتمل ہيں۔ پہلے حصے ميں عبادت کا ذِکر ہے جو محض اﷲ ربّ العزّت کے لئے خاص ہے، تو دُوسرے حصے ميں اِستعانت مذکور ہے۔ ايک جيسے اَلفاظ کے استعمال کي وجہ سے ايک سے اَحکام کا حاصل ہونا ايک بديہي سي بات ہے۔ يوں وہ لوگ اِس سطحي اِستدلال کے ذريعے يہاں دھوکہ کھا جاتے ہيں اور اِستعانت و اِستغاثہ کو بھي عبادت کي طرح فقط اﷲ ربّ العزّت کے ساتھ مختص قرار دينے لگتے ہيں۔
اگر ہم بنظرِ غائر اِس آيتِ کريمہ کا مطالعہ کريں تو صورتحال يکسر مختلف نظر آتي ہے۔ ايک جيسے اَلفاظ کا وُرود بجا مگر آيت کے دونوں حصوں کے درميان حرفِ عطف واؤ کا پايا جانا بھي کسي حقيقت کا غماز ہے! اگر عبادت و اِستعانت کا حکم ايک ہي ہوتا تو اِن دونوں جملوں کے درميان اﷲ تعاليٰ کبھي بھي ’’واؤ‘‘ کا اِضافہ نہ کرتا۔ اِس واؤ کے لانے سے ہي ما قبل اور ما بعد ميں مغايرت ظاہر ہو رہي ہے۔ دو جملوں کے درميان پائے جانے والے حرفِ مغايرت کي وجہ سے دونوں جملوں کے اَحکام جدا جدا ہوتے ہيں۔ اگر ’’إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘ ميں طلبِِ عون سے مراد عبادتِ خداوندي ہوتي تو قرآنِ مجيد اُسے واؤ عاطفہ کے ذريعے ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ‘‘ سے جدا نہ کرتا۔ حرفِ مغايرت واؤ کا اِستعمال يہ بتا رہا ہے کہ ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ‘‘ اور ’’إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘ دونوں الگ الگ حقيقتيں ہيں۔ اگر عبادت و اِستعانت کے اَحکام ايک سے ہوتے تو اِن دونوں کے درميان حرفِ مغايرت ’’واؤ عاطفہ‘‘ لانے کي ضرورت نہ ہوتي، بلکہ کلام يوں ہوتا : ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO‘‘۔
قرآنِ مجيد جو خدائے ذوالجلال کا کلام ہونے کے ناطے اپني جامعيت ميں کسي بھي اِنساني کاوِش سے بڑھ کر ہے اور اُس کا يہ اُسلوب ہے کہ اُس کا ہر حرف اپنا مخصوص معني و مفہوم رکھتا ہے اور اُس کے کسي ايک حرف کو بھي غيرضروري قرار نہيں دِيا جا سکتا۔ اگر اِس مقام پر عبادت اور اِستعانت کے مابين مغايرت کا ذِکر مقصود نہ ہوتا تو حرفِ مغايرت ہرگز نہ لايا جاتا۔ قرآنِ مجيد ميں اِس کي تائيد ميں بيسيوں مثاليں موجود ہيں۔ اِسي طرح جہاں مغايرت مقصود نہ ہو وہاں مغايرت کے لئے واؤ نہيں لائي جاتي۔ عدمِ مغايرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حرفِ مغايرت کا عدم اِستعمال سورۂ فاتحہ ہي کي اِبتدائي تين آيات ميں بخوبي ملاحظہ کيا جاسکتا ہے۔ اﷲ ربّ العزّت کا اِرشادِ گرامي ہے :
أَلْحَمْدُِﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo مٰلِکِ يَوْمِ الدِّيْنِo ايَاکَ نَعْبُدُ وَ ايَاکَ نَسْتَعِينُo
(الفاتحه، 1 : -41)
سب تعريفيں اللہ ہي کے لئے ہيں جو تمام جہانوں کي پرورش فرمانے والا ہےo نہايت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہےo روز جزا کا مالک ہےo (اے اﷲ) ہم تيري ہي عبادت کرتے ہيں اور تجھ ہي سے مدد چاہتے ہيںo
آپ نے ملاحظہ فرمايا کہ مسلسل تين اِبتدائي آيات ميں اِسمِ جلالت کے بعد پے در پے چار صفاتِ باري تعاليٰ کا ذِکر ہے اور اُن کے درميان کسي قسم کي مغايرت نہ ہونے کي وجہ سے کہيں بھي واؤ عاطفہ نہيں لائي گئي۔ جبکہ اگلي آيات ميں جہاں مختلف اور متغاير اَعمال و اَفعال کا ذِکر مقصود تھا، وہاں مغايرت کے لئے واؤ عاطفہ لائي گئي۔ پس اِس سے پتہ چلا کہ دُعا اور اِستعانت و اِستغاثہ (مدد چاہنا) دو مختلف چيزيں ہيں اور اِن ميں اِنضمام و اِختلاط کي کوشش مدّعائے نزولِ قرآن کي خلاف ورزي ہے جو ہرگز درست نہيں۔ عقلِ ناقص پر کلي اِنحصار گمراہيوں کو جنم ديتا ہے اور فلسفيانہ مُوشگافيوں ميں اُلجھ کر رہ جانے والے حقيقت کي منزل سے بہت دُور رہ جاتے ہيں، دُوسروں کو بھي ذِہني خلفشار کي دلدل کا رِزق بناتے ہيں اور اپنے ذِہن کو بھي غلط سوچوں کي آماجگاہ بنا کر شکوک و شبہات کے بے معنٰي جہان تخليق کرتے ہيں
اَللہ ربّ العزت خالقِ کائنات ہے، قادرِ مطلق اور حقيقي مُستعان ہے۔ کائناتِ اَرض و سماء ميں جاري و ساري جملہ اَعمال و اِختيارات کا حقيقي مالک وُ ہي ذاتِ حق ہے، جس کے اِذن سے شب و روز کا سلسلہ وُقوع پذير ہے۔ وہ اپني ذات و صفات ميں واحد ہے، يکتا ہے، کوئي اُس کا ہمسر نہيں۔ ارب ہا مخلوقات کو زِندگي عطا کرنے، آنِ واحد ميں دي ہوئي حيات کو سلب کرنے اور وسيع و عريض کائناتوں کا نظام چلانے ميں، کوئي اُس کا مددگار اور شريک نہيں۔ تمام جہانوں ميں تصرّف کرنے والي اور نظامِ حيات کو روز اَفزُوں رکھنے والي ذات فقط اَللہ ربّ العزت کي ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے پر ملکيتِ حقيقي اَللہ تعاليٰ کے سِوا کسي کو حاصل نہيں۔ اَﷲ کے سوا کوئي کسي شے کا از خود مالک نہيں بن سکتا، اِلاّ يہ کہ وہ خود اُسے مالک بنا دے يا تصرّف سے نواز دے، حتي کہ اپني ذات اور چھ فُٹ کے بدن کے اُوپر بھي کسي فردِ بشر کو حقِ ملکيت حاصل نہيں۔ نفع و ضرر، حيات و ممات اور مرنے کے بعد جي اُٹھنے کا اَز خود کوئي مالک نہيں۔ اَللہ ہي مارتا اور وُہي جِلا بخشتا ہے۔ ہماري ہر سانس اُسي کے قبضۂ قدرت ميں ہے۔
اَحکامِ اِسلام اور قرآنِ حکيم کي اَبدي اور لازوال تعليمات کي روشني ميں بندے کي طرف نفع و ضرر اور مِلکيت و تصرّف کي نسبت کرنا محض سبب اور کسب کے اِعتبار سے درست ہے۔ خلق، اِيجاد، تاثير، علّت اور قوّتِ مطلقہ کے اِعتبار سے مخلوق کي طرف نفع و ضرر کي نسبت قطعي طور پر درست نہيں۔ اگر ہم بنظرِ غائر جائزہ ليں تو مخلوق کي طرف موت و حيات، نفع و ضرر، مِلکيت و تصرّف اور اُس کے جملہ کسب کي نسبت حقيقي نہيں بلکہ مجازي ہوتي ہے اور اِن اُمور ميں نسبتِ حقيقي کا حقدار فقط اﷲ ربّ العزت کي ذات ہے۔ اِن حقائق کو بيان کرنے اور قرآنِ مجيد ميں وارِد ہونے والي آياتِ بيّنات سے اِستنباط کرنے ميں بعض لوگ لفظي مُوشگافيوں اور خلطِ مبحث ميں اُلجھ کر گوہرِ مقصود سے تہي دامن رہ جاتے ہيں۔ في زمانہ اُن لوگوں نے آياتِ قرآنيہ کے مفاہيم اَخذ کرنے ميں حقيقت و مجاز کے درميان فرق اور اِعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر فقط حقيقي معنوں سے اِستدلال لينا درست قرار دے رکھا ہے۔ چنانچہ وہ مجازي معني کا جواز تک محلِ نظر سمجھتے ہيں۔ يہي وجہ ہے کہ وہ اَئمۂ اَسلاف کي طرف سے کي گئي تعبيرات و تفسيرات سے رُوگرداں ہيں اور عقائد کے باب ميں تفسير بالرّائے کے ذريعے بدعاتِ سيئات پيدا کرنے اور قرآن و سنت کي حقيقي تعليمات سے ہٹ کر عقائد کو جنم دينے ميں مصروف ہيں۔ ايسے ميں جب ہم غيرجانبداري سے ديکھيں تو دُوسري طرف ہميں لفظي اِشتباہ ميں پڑے ہوئے جاہل عوام بھي بکثرت ملتے ہيں جو مجاز کے اِستعمال ميں حد درجہ زيادتي اور غُلو کے قائل ہيں اور اِعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بيٹھے ہيں۔ اگرچہ وہ دل سے اللہ ربّ العزّت کي توحيد و تنزيہہ اور ديگر اِسلامي عقائد پر پختگي کے ساتھ قائم ہيں مگر باديء النظر ميں مجاز کے اِستعمال کي کثرت کے باعث مجازي معني کے عدم جواز کے قائل گروہ کے ہاں قابلِ دُشنام قرار پاگئے ہيں۔ حرفِ حق کي تلاش ميں نکلنے والے توازن اور اِعتدال کا راستہ اپناتے ہيں۔ حقيقت و مجاز کے اِستعما ل ميں قرآني اِعتدال کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو اِن دونوں اِنتہاؤں ميں حائل خليج کو پاٹ کر اُمت کو پھر سے جسدِ واحد بنايا جاسکتا ہے۔ يہي وطيرہ دينِ حق کي حفاظت اور مقامِ توحيد کي حقيقي تعبير و تفہيم کيلئے ضروري و کارآمد ہے۔
عقائدِ اِسلاميہ کي تعبير وتوجيہہ کے باب ميں اَسلاف اَئمۂ کرام ميں سے اِمام اِبنِ تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کو متنازع گردانا جاتا ہے، جبکہ حقيقتِ حال يہ ہے کہ اُن کا عقيدہ نہايت اِعتدال پر مبني ہے اور اگر موجودہ دَور ميں اُس کي کما حقّہ غيرجانبدارانہ تعبير و تشہير کي جائے تو کچھ بعيد نہيں کہ دونوں اِنتہاؤں پر جا پہنچنے والے مسالِک کو باہم قريب کيا جا سکے۔ سرِدست صورتحال کچھ يوں ہے کہ عقائدِ اِسلاميہ ميں اپني کج فہمي کي بناء پر بِدعات داخل کرنے والا گروہ اِمام اِبنِ تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کي تعليمات کا مَن گھڑت تصوّر پيش کر کے اُن سے اپنے خود ساختہ عقائد کي بے جا تائيد حاصل کر رہا ہے جبکہ صحيح اِسلامي عقيدے پر کاربند کم پڑھے لکھے اَفرادِ اُمت حقائق سے عدم آگہي کے باعث اِمام اِبن تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کو غيراِسلامي عقيدے کا حامل سمجھنے لگ گئے ہيں۔
اِمام اِبن تيميہ رحمۃ اللہ عليہ کا عقيدہ جمہور اہلِ اسلام کا عقيدہ ہے، اور وہ يہ کہ ’’اللہ ربّ العزّت ايک ہے، اُس کا کوئي ثاني نہيں۔ فقط اُسي کي عبادت رَوا ہے، اُسي سے دُعا کرني چاہئيے اور اُسي کو حقيقي مُستعان سمجھنا چاہئيے۔ اُسي کي ذات پر بھروسہ کرنا چاہئيے اور مشکل وقت ميں اُسي سے مدد مانگني چاہئيے۔ غيراللہ کو مددگارِ حقيقي سمجھنا اِسلام کے دائرے سے خروج کے مُترادِف ہے۔ فقط اللہ نيکي کي توفيق سے نوازتا اور گناہوں کو معاف کرنے پر قُدرت رکھتا ہے۔ اُس کے علاوہ کوئي اَز خود کسي کو گناہ سے روک سکتا ہے اور نہ نيکي کي توفيق دے سکتا ہے۔ اَنبياءے کرام اور اَولياء اﷲ سے مدد صرف اُنہيں مستعانِ مجازي مانتے ہوئے ہي جائز ہے‘‘۔ يہي عين اِسلامي عقيدہ ہے اور اِس سے سرِمُو اِنحراف عقائدِ باطلہ کي طرف رُجحان کا باعث ہو گا۔
لفظِ استغاثہ کي لُغوي تحقيق
لفظِ استغاثہ کا مادۂ اِشتقاق ’’غ، و، ث‘‘ (غوث) ہے، جس کا معني ’’مدد‘‘ کے ہيں۔ اِسي سے اِستغاثہ بنا ہے، جس کا مطلب ’’مدد طلب کرنا‘‘ ہے۔ اِمام راغب اِصفہاني رحمۃ اللہ عليہ اِستغاثہ کا لُغوي معني و مفہوم بيان کرتے ہوئے يوں رقمطراز ہيں :
الغَوثُ : يقال في النُّصرةِ، و الغَيثُ : في المطرِ، واستغثته : طلبت الغوث أو الغيث.
غَوث کے معني ’’مدد‘‘ اور غَيث کے معني ’’بارش‘‘ کے ہيں اور استغاثہ کے معني کسي کو مدد کے لئے پکارنے يا اللہ تعالي سے بارش طلب کرنے کے ہيں۔
(المفردات : 617)
لفظِ استغاثہ کا اِستعمال قرآنِ مجيد ميں بھي متعدّد مقامات پر ہوا ہے۔ غزوۂ بدر کے موقع پر صحابۂ کرام کي اﷲ ربّ العزت کے حضور فرياد کا ذکر سورۂ انفال ميں يوں وارِد ہوا ہے :
اذْ تَسْتَغِيْثُونَ رَبَّکُمْ.
جب تم اپنے ربّ سے (مدد کے لئے) فرياد کررہے تھے۔
(الانفال، 8 : 9)
سيدنا موسيٰ عليہ السلام سے اُن کي قوم کے ايک فرد کا مدد مانگنا اور آپ کا اُس کي مدد کرنا، اِس واقعے کو بھي قرآنِ مجيد نے لفظِ استغاثہ ہي کے ساتھ ذِکر کيا ہے۔ سورۂ قصص ميں اِرشادِ باري تعاليٰ ہے :
فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِهِ عَلَي الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّه.
تو جو شخص اُن کي قوم ميں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے ميں جو موسيٰ کے دُشمنوں ميں سے تھا موسيٰ سے مدد طلب کي۔
(القصص، 28 : 15)
اَہلِ لُغت کے نزديک استغاثہ اور استعانت دونوں اَلفاظ مدد طلب کرنے کے معني ميں آتے ہيں۔ اِمام راغب اِصفہاني رحمۃ اللہ عليہ لفظِ استعانت کا مفہوم بيان کرتے ہوئے رقمطراز ہيں :
وَ الْاسْتِعَانَةُ : طَلَبُ الْعَوْنِ.
اِستعانت کا معني مدد طلب کرنا ہے۔
(المفردات : 598)
لفظِ استعانت بھي قرآنِ مجيد ميں طلبِ عون کے معني ميں اِستعمال ہوا ہے۔ سورۂ فاتحہ ميں بندوں کو آدابِ دُعا سکھاتے ہوئے قرآنِ مجيد فرماتا ہے :
ايَّاکَ نَسْتَعِيْنُo
اور ہم تجھي سے مدد چاہتے ہيںo
(فاتحه، 1 : 4)
اِستغاثہ کي اَقسام
عرب اَہلِ لُغت اور مفسرينِ قرآن کي تصريحات کے مطابق اِستغاثہ کا معني مدد طلب کرنا ہے۔ جس کي دو صورتيں ہوسکتي ہيں :
1۔ استغاثہ بالقول
2۔ استغاثہ بالعمل
مُشکل حالات ميں گِھرا ہوا کوئي شخص اگر اپني زبان سے اَلفاظ و کلمات اَدا کرتے ہوئے کسي سے مدد طلب کرے تو اِسے اِستغاثہ بالقول کہتے ہيں اور مدد مانگنے والا اپني حالت و عمل اور زبانِ حال سے مدد چاہے تو اِسے اِستغاثہ بالعمل کہيں گے۔
اِستغاثہ بالقول
قرآن مجيد ميں سيدنا موسيٰ عليہ السلام کے واقعہ کے حوالے سے اِستغاثہ بالقول کي مثال يوں مذکور ہے :
وَ أَوْحَيْنَآ الٰي موسيٰ اذِ اسْتَسْقٰهُ قَوْمُه أَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ.
اور ہم نے موسيٰ کے پاس (يہ) وحي بھيجي جب اس سے اس کي قوم نے پاني مانگا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو۔
(الاعراف، 7 : 160)
اِسلام دينِ فطرت ہے اور سيدنا آدم عليہ السلام سے لے کر نبيء آخرالزماں صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم تک تمام انبياء کا دِين ہے۔ عقيدۂ توحيد تمام انبياء کي شرائع ميں بنيادي اور يکساں اہميت کا حامل ہے۔ شريعتِ مصطفوي سميت کسي بھي شريعت کي تعليمات کے مطابق اَللہ ربّ العزّت کے سِوا مددگارِ حقيقي کوئي نہيں، جبکہ اِس آيتِ مبارکہ ميں سيدنا موسيٰ عليہ السلام سے پاني کا اِستغاثہ کيا گيا ہے۔ اگر يہ عمل شِرک ہوتا تو اِس مطالبۂ شِرک پر مبني معجزہ نہ دکھايا جاتا، کيونکہ تاريخ گواہ ہے کہ جب بھي کبھي اَنبيائے کرام عليہم السلام سے خلافِ توحيد کوئي مطالبہ کيا گيا تو اُنہوں نے شِرک کي تمام تر راہيں مسدُود کرنے کے لئے اُس سے منع فرمايا۔ دُوسري طرف ہم ديکھتے ہيں کہ مذکورۃُ الصّدر آيتِ کريمہ ميں اَللہ تعاليٰ قومِ موسيٰ کے اِستغاثہ پر خود سيدنا موسيٰ عليہ السلام کو اِظہارِ معجزہ کي تاکيد فرما رہا ہے۔ اِس کا مطلب يہ ہوا کہ حقيقي کارساز تو بلا ريب ميں ہي ہوں مگر اے موسيٰ عليک السلام! ميں اِظہارِ معجزہ کے لئے اپنے اِختيارات تمہيں تفويض کرتا ہوں۔
اِستغاثہ بالعمل
مصيبت کے وقت زبان سے کسي قسم کے اَلفاظ ادا کئے بغير کسي خاص عمل اور زبانِ حال سے مدد طلب کرنا استغاثہ بالعمل کہلاتا ہے۔ قرآنِ مجيد ميں اِستغاثہ بالعمل کے جواز ميں بھي اﷲ تعاليٰ کے محبوب و مکرم انبياء عليہم السلام کا واقعہ مذکور ہے۔ سيدنا يوسف عليہ السلام کي جُدائي ميں اُن کے والدِ ماجد سيدنا يعقوب عليہ السلام کي بينائي کثرتِ گريہ کي وجہ سے جاتي رہي۔ حضرت يوسف عليہ السلام کو جب حقيقتِ حال سے آگاہي ہوئي تو اُنہوں نے اپني قميض بھائيوں کے ہاتھ والدِ ماجد سيدنا يعقوب عليہ السلام کي طرف بغرضِ اِستغاثہ بھيجي اور فرمايا کہ اِس قميض کو والد گرامي کي آنکھوں سے مَس کرنا، بينائي لوٹ آئے گي، چنانچہ ايسا ہي ہوا۔ اِس واقعہ کا ذکر اَﷲ ربّ العزّت نے کلامِ مجيد ميں کچھ اِن الفاظ ميں کيا ہے :
اذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَأَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ أَبِيْ يَأْتِ بَصِيْراً.
ميري يہ قميض لے جاؤ، سو اسے ميرے باپ کے چہرے پر ڈال دينا وہ بينا ہو جائيں گے۔
(يوسف، 12 : 93)
حضرت يوسف عليہ السلام کے بھائيوں نے جب وہ قميض لے جا کر سيدنا يعقوب عليہ السلام کي آنکھوں سے مَس کي تو وہ في الحقيقت مشيّتِ اَيزدي سے بينا ہو گئے۔ قرآنِ مجيد ميں ہے :
فَلَمَّآ أَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ أَلْقَاهُ عَلٰي وَجْهِه فَارْتَدَّ بَصِيْراً.
پھر جب خوشخبري سنانے والا آ پہنچا اس نے وہ قميص يعقوب عليہ السلام کے چہرے پر ڈال ديا تو اسي وقت ان کي بينائي لوٹ آئي۔
(يوسف، 12 : 96)
اَﷲ ربّ العزت کے برگزيدہ پيغمبر سيدنا يعقوب عليہ السلام کا عملِ مبارک جس سے اُن کي بينائي لوٹ آئي، عملي طور پر حضرت يوسف عليہ السلام کي قميض سے اِستغاثہ ہے۔ يہ اِستغاثہ بالعمل کي بہترين قرآني مثال ہے، جس ميں سيدنا يوسف عليہ السلام کي قميض اللہ تعاليٰ کي بارگاہ سے حصولِ بينائي کا وسيلہ و ذرِيعہ بني۔
اِستغاثہ اور توسّل ميں باہمي ربط
اِستغاثہ اور توسل دونوں ميں في الحقيقت ايک ہي شئے مطلوب ہوتي ہے اور اِن کے مابين فرق محض فعل کي نسبت ميں ہے۔ جب فعل کي نسبت مدد طلب کرنے والے کي طرف کي جائے تو اُس شخص کا يہ عمل اِستغاثہ کہلائے گا، اور مُستغاثِ مجازي (جس سے مدد طلب کي جا رہي ہے) بحيثيت ’’وسيلہ‘‘ و ’’ذريعہ‘‘ ہوگا، کيونکہ مستغاثِ حقيقي باري تعاليٰ ہے۔ پس حضرت يعقوب عليہ السلام کا عمل اِستغاثہ اور قميض وسيلہ ہے۔ اِس کے برعکس جب براہِ راست اللہ تعاليٰ سے دُعا کرتے ہوئے اُس سے اِستغاثہ کيا جاتا ہے تواﷲ ربّ العزّت کي بارگاہ سے بڑي چونکہ کوئي بارگاہ نہيں اِس لئے وہ وسيلہ کي بجائے حقيقي مستغاث قرار پاتا ہے۔ مختصر يہ کہ مذکورہ قرآني بيان ميں اِستغاثہ بالعمل سنتِ اَنبياء سے ثابت ہے۔
اِستغاثہ اور دُعا ميں بنيادي فرق
دُکھ، درد اور تکليف ميں کسي سے مدد طلب کرنا اِستغاثہ کہلاتا ہے، جبکہ مطلقاً پُکارنا دُعا کہلاتا ہے، اِس ميں دُکھ، درد، مصيبت اور تکليف کي شرط نہيں۔ دُعا اور اِستغاثہ ميں عموم و خصوص مطلق کي نسبت ہے، کيونکہ دُعا مطلق پکارنے کو کہتے ہيں جبکہ اِستغاثہ کے لئے شرط ہے کہ مصيبت يا تکليف ميں پکاراجائے، اِس لئے ہر اِستغاثہ تو دُعا ہے ليکن ہر دُعا اِستغاثہ نہيں ہے۔ اِستغاثہ اور دُعا ميں يہي بنيادي فرق ہے۔
کلامِ باري تعاليٰ ميں لفظِ دُعا کا اِستعمال
دعا، يدعو، دعوۃً کا معني بلانا اور پکارنا ہے۔ قرآنِ حکيم ميں ’’دعا‘‘ کا مادہ متعدّد معاني ميں اِستعمال ہوا ہے۔ ذيل ميں دُعا کا قرآني تصوّر واضح کرنے کے لئے اُن ميں سے چند اہم معاني کا ذِکر کيا جا رہا ہے :
1. النِّدَآءُ
قرآنِ مجيد ميں لفظِ دُعا، نداء کے معني ميں عام اِستعمال ہوا ہے اور کبھي نداء اور دُعا باہم ايک دوسرے کي جگہ بھي اِستعمال ہوئے ہيں۔ مثال کے طور پر قرآن مجيد ميں ہے :
وَ مَثَلُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ الَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً.
اور ان کافروں (کو ہدايت کي طرف بلانے) کي مثال ايسے شخص کي سي ہے جو کسي ايسے (جانور) کو پکارے جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہيں سنتا۔
(البقره، 2 : 171)
2. التَّسْمِيَةُ
لُغتِ عرب ميں بعض اَوقات لفظِ دُعا تسميہ يعني نام رکھنے يا پکارنے کے معني ميں بھي اِستعمال ہوتا ہے۔ جيسا کہ اِمام راغب اِصفہاني رحمۃ اللہ عليہ مثال پيش فرماتے ہيں :
دَعوتُ ابْني زَيداً.
ميں نے اپنے بيٹے کا نام زيد رکھا۔
(المفردات : 315)
اِسي طرح قرآنِ مجيد ميں اللہ تعاليٰ نے آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے ادب و تعظيم پر رَغبت دلاتے ہوئے فرمايا :
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضاً.
(النور، 24 : 63)
(اَے مسلمانو!) تم رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بلانے کو آپس ميں ايک دوسرے کو (نام لے کر) بلانے کي مثل قرار نہ دو۔
اِس آيتِ کريمہ ميں خود اﷲ تعاليٰ نے بارگاہِ مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا ادب بيان فرمايا ہے۔ پس ہميں چاہيئے کہ تاجدارِ انبياء صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو کبھي بھي اُن کا اسمِ مبارک ’’محمد‘‘ کہہ کر نہ پکاريں بلکہ جب بھي بلانا مقصود ہو يا رسولَ اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم اور يا حبيبَ اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم جيسے اَلقابات سے پکارا کريں۔ جيسا کہ اللہ تعاليٰ نے ربِّ کائنات ہونے کے باوجود پورے قرآنِ مجيد ميں کسي ايک مقام پر بھي سرورِ کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو ’’يا محمد صلي اﷲ عليک وسلم‘‘ کہہ کر مخاطب نہيں کيا۔
3. الِاسْتِغَاثَةُ
لفظِ ’’دُعا‘‘ قرآنِ مجيد ميں بعض مقامات پر سوال اور مدد طلب کرنے کے معني ميں بھي اِستعمال ہوا ہے، جيسا کہ اِرشادِ رباني ہے :
وَ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ.
اور اُنھوں نے کہا آپ ہمارے لئے اپنے ربّ سے دُعا کريں۔
(البقرة، 2 : 68)
4. الحَثُّ عَلَي الْقَصْدِ
لفظِ ’’دُعا ‘‘ کا اِستعمال بعض اَوقات کسي چيز کے قصد پر رغبت دِلانے اور اکسانے کے لئے بھي کيا جاتا ہے۔ قرآن مجيد ميں اِس کي مثال يوں ہے :
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ الَيَ مِمَّا يَدْعُوْنَنِي الَيْهِ.
يوسف عليہ السلام نے(سب کي باتيں سن کر) عرض کيا اے ميرے ربّ مجھے قيد خانہ اس کام سے کہيں زيادہ محبوب ہے جسکي طرف يہ مجھے بلاتي ہيں۔
(يوسف، 12 : 33)
مرغوب اشياء کي طرف رغبت دِلانے کے معني ميںقرآنِ مجيد ميں لفظِ دُعا کا اِستعمال سورۂ يونس ميں اِس طرح ہوا ہے :
وَ اﷲُ يَدْعُوْا الٰي دَارِالسَّلَامِ.
اور اللہ (لوگوں کو) سلامتي کے گھر (جنت) کي طرف بلاتا ہے۔
(يونس، 10 : 25)
5. الطَّلَبُ
طلب کے معني ميںلفظِ دُعا کا اِستعمال لغتِ عرب ميں بکثرت ہوتا ہے۔ قرآنِ مجيد ميں اِس کي مثال يوں ہے :
وَ لَکُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَo
اور تمہارے لئے وہ سب کچھ بھي موجود ہے جو تم مانگو گےo
(حم السجدة، 41 : 31)
6. الدُّعَآءُ
لفظِ دُعا کبھي اﷲ ربّ العزت سے کي جانے والي دُعا کے معني ميں بھي اِستعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ مجيد ميں اﷲ تعاليٰ کے برگزيدہ اَفراد کي دُعا يوں مذکور ہے :
وَ آخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ ﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo
اور اُن کي دُعا (اِن کلمات پر) ختم ہوگي کہ ’’تمام تعريفيں اللہ ہي کے لئے ہيں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے‘‘o
(يونس، 10 : 10)
7. العِبَادَة
اﷲ تعاليٰ کي عبادت کو بھي دُعا کہا جاتا ہے، جيسا کہ تاجدارِ کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا اِرشادِ گرامي ہے :
الدُّعَآءُ هُوَ الْعِبَادَةُ.
دُعا عين عبادت ہے۔
(جامع الترمذي، اَبواب الدعوات، 2 : 173)
8. الخِطَابُ
لفظِ دُعا کي مذکورۃ الصدر اَقسام کے علاوہ کبھي اِسے مطلقاً خطاب کے لئے بھي اِستعمال کيا جاتا ہے۔ غزوۂ اُحد کے موقع پر جب دورانِ جنگ صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين کے قدم اُکھڑ گئے اور وہ منتشر ہوکر جنگ کرنے لگے اور صرف ايک مختصر جماعت تاجدارِ ختمِ نبوّت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اِرد گِرد رَہ گئي، تو اُس موقع پر جو لوگ آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے دُور ہٹ کر بکھر گئے تھے، مالکِ کون و مکاں صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اُنہيں اپني طرف بلايا۔ محبوبِ کبريا کے اِس رحمت بھرے خطاب کو قرآنِ مجيد نے يوں بيان کياہے :
اذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْونَ عَلٰي أَحَدٍ وَ الرَّسُوْلُ يَدْعُوْکُمْ فِيْ أُخْٰرکُمْ.
جب تم (اَفراتفري کي حالت ميں) بھاگے جا رہے تھے اور کسي کو مڑ کر نہيں ديکھتے تھے اور رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) اُس جماعت ميں (کھڑے) جو تمہارے پيچھے (ثابت قدم) رہي تھي تمہيں پکار رہے تھے۔
(آل عمران، 3 : 153)
اِس آيۂ کريمہ ميں مذکور لفظ ’’يَدْعُوْکُمْ‘‘ يعني رسول تمہيں خطاب کر رہے تھے کا مطلب دُعائے عبادت ہرگز ہرگز قرار نہيں ديا جاسکتا کيونکہ قصرِ نبوت کے (معاذ اللہ) شرک کي آميزشوں ميں ملوّث ہونے کا تصوّر بھي ممکن نہيں۔
دُعا کي خودساختہ تقسيم
قرآنِ مجيد ميں مستعمل اَقسامِ دُعا کے تفصيلي ذِکر کے بعد اَب ہم اِس اَمر کا جائزہ ليتے ہيں کہ کچھ لوگ اِستغاثہ و توسّل کو غيرشرعي ثابت کرنے کے لئے دُعا کي ايک خودساختہ تقسيم کرتے ہيں حالانکہ اُن کے پاس نفيءِ اِستغاثہ پر قرآنِ مجيد کي کوئي ايک آيت بھي بطور دليل موجود نہيں۔ اُن کے تمام مفروضات کي بنياد عقلي مُوشگافياں ہيں، جو بذاتِ خود عقلِ ناقص کي پيداوار ہيں۔ اِستغاثہ کو شِرک قرار دينے کے لئے پہلے اسے دُعا کا مفہوم پہنايا جاتا ہے اور پھر دُعا کي دو خود ساختہ قسميں کر دي جاتي ہيں :
1۔ دُعائے عبادت
2۔ دُعائے سوال
1۔ دُعائے عبادت
دُعا کي پہلي قسم عبادت ہے اور اﷲ ربّ العزت کي تمام عبادات مختلف انداز رکھنے والي دعائيں ہيں۔ جيسا کہ نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا :
أَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَة.
دُعا عبادت کا نچوڑ (مغز ) ہے۔
(جامع الترمذي، اَبواب الدّعوات، 2 : 173)
جبکہ جامع ترمذي ہي ميں مروي ايک اور حديثِ مبارکہ ميں دُعا کو عينِ عبادت قرار ديا گيا ہے :
أَلدُّعَآءُ هُوَ الْعِبَادَةُ.
دُعا عينِ عبادت ہے۔
(جامع الترمذي، اَبواب الدعوات، 2 : 173)
عبادت صرف اﷲ ربّ العزّت ہي کي رَوا ہے، لہٰذا اُن کا خيال ہے کہ اِس معني کي رُو سے غيراﷲ سے کي جانے والي دُعا اُس کي عبادت قرار پانے کي وجہ سے شِرک کا موجب قرار پائي۔
2۔ دُعائے سوال
کسي سے سوال کرنا، کسي کو مشکل کشا ماننا اور اُس کے سامنے دستِ طلب دراز کرنا دُعائے سوال کہلاتا ہے۔
اِس مقام پر يہ اِعتراض کيا جاتا ہے کہ مشکل کشا چونکہ صرف اللہ تعاليٰ کي ذات ہے لہٰذا سوال بھي فقط اُسي سے کيا جا سکتا ہے۔ سائل کا سوال چونکہ اپني عبديت کا اِعتراف ہوتا ہے، اِس لئے غيراللہ سے سوال کرنا اُس کا بندہ بننے کے مترادف ہے اور وہ شِرک ہے۔ اِس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سائل من دون اﷲ مشرک ہے۔
تقسيم کا مفاد ’’مغايرت‘‘ يہاں مفقود ہے
دُعا کي مذکورہ بالا تقسيم جواز و عدم جوازِ اِستغاثہ کے نقطۂ نظر سے اِستغاثہ کے عدم جواز کے قائل گروہ کے لئے بھي غيرضروري ہے، کيونکہ دُعائے عبادت اور دُعائے سوال کو ايک ہي مفہوم دے کر تقسيم کي اِفاديت ضائع کر دي گئي ہے، يوں دُعائے سوال کو بھي گويا دُعائے عبادت ميں داخل کر ديا گيا ہے۔ جب دُعائے عبادت غيراللہ کے لئے رَوا نہيں اور دُعائے سوال بھي غيراللہ سے کرنا شِرک ٹھہرا تو دُعا کي اِن دونوں قسموں ميں فرق کيا رہا؟ دَرحقيقت اِس تقسيم کي قطعاًکوئي ضرورت نہ تھي۔ تقسيم کي اِفاديت تو تب ثابت ہوتي جب دونوں اَقسام پر مختلف نوعيت کے اَحکام مرتّب ہوتے۔ کسي بھي تقسيم کے تحت آنے والي اقسام اگر اپنا جدا جدا حکم نہ رکھيں تو ايسي تقسيم بے فائدہ ہوکر رہ جاتي ہے۔ اِس بات کو ہم ايک سادہ مثال کے ذريعے واضح کرتے ہيں :
مثال : سجدے کي دو اَقسام ہيں :
1۔ سجدۂ عبادت
2۔ سجدۂ تعظيم
سجدے کي اِن دو اقسام ميں سجدۂ تعظيم، سجدۂ عبادت ميں شامل نہيں ہوتا، اگر داخل کريں گے تو بُطلان لازِم آتا ہے۔ علاوہ ازيں دونوں ميں حکمي اِعتبار سے بھي بڑا فرق ہے۔ اگر کسي بندے کے سامنے عبادت کي نيّت سے سجدہ کيا جائے تو يہ اِرتِکابِ شِرک ہوگا اور اگر محض تعظيم کي خاطر سجدہ کيا جائے تو يہ شِرک قرار نہيں پائے گا بلکہ اِس فعل پر حرام کا حکم لگايا جائے گا۔
دُوسري مثال : اِسي طرح ايک اور مثال ديکھئے : کلمہ کي تين قسميں ہيں۔ اِسم، فعل اور حرف۔ يہ تينوں آپس ميں مغاير ہيں اور اِن کا آپس ميں ضم کرنا کسي صور ت بھي درست نہيں ہوسکتا۔
دُعا سے مُراد محض عبادت کا عدم ثبوت
اَب رہي يہ بات کہ لفظِ دُعا صرف دو معنوں ميں اِستعمال ہوتا ہے، تو يہ بھي ہرگز درست نہيں کيونکہ دُعا کے آٹھ معاني آپ سطورِ بالا ميں تفصيل سے پڑھ چکے ہيں۔ اگر دُعا کا مقصد صرف عبادت ليا جائے اور دُعائے سوال کو بھي دُعائے عبادت ميں داخل کر ديا جائے تو سارا معاشرہ شِرک کي دلدل ميں دھنس جائے گا اور انبيائے کرام بھي معاذاﷲ اُس دلدل سے نہيں بچ سکيں گے۔ واضح رہے کہ دُعا (پکارنا) ہر جگہ عبادت کے معني ميں مستعمل نہيں، بصورت ديگر کسي کي عصمت شِرک کي آلائشوں سے محفوظ نظر نہيں آتي۔ کيونکہ خود نصِ قرآني اِس پر شاہد ہے کہ سرورِ کائنات صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے بھي غيراللہ کو پکارا اور خود قرآن آپس ميں ايک دوسرے کو مدد کے لئے پکارنے کي اِجازت دے رہا ہے۔ اور اگر بفرضِ محال ہر جگہ دعا، يدعو، تدعو، ندعوا کا معني صرف دُعائے عبادت يا دُعائے سوال (جو بعض حضرات کے ہاں عبادت ہي کي ايک ذيلي صورت ہے) ہي قرار دينے پر اِصرار کيا جائے تو مندرجہ ذيل چند آيات کي کيا توجيہہ پيش کي جائے گي :
1. يَا قَوْمِ مَا لِيْ أَدْعُوْکُمْ الَي النَّجَاةِ وَ تَدْعُوْنَنِيْ الَي النَّارِo
اے ميري قوم يہ کيا ہے کہ ميں تم کو (راہ) نجات کي طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کي طرف دعوت ديتے ہوo
(مومن، 40 : 41)
2. قَالَ رَبِّ انِّيْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّ نَهَاراًo فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَآئِيْ الَّا فِرَاراًo
عرض کيا اے ميرے رب! ميں اپني قوم کو رات دن ( دينِ حق کي طرف) بلاتا رہاo ليکن ميرے بلانے سے وہ (دين سے) اور زيادہ بھاگنے لگےo
(نوح، 71 : 5، 6)
3. وَ اﷲُ يَدْعُوْ الٰي دَارِ السَّلٰمِ.
اور اللہ سلامتي کے گھر (جنت) کي طرف بلاتاہے۔
(يونس، 10 : 25)
4. أُدْعُوْهُمْ لِأَبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِ.
ان (متبنّي بيٹوں ) کو ان کے باپوں کي طرف (نسبت) کر کے پکارا کرو، يہي اللہ کے نزديک درست بات ہے۔
(الاحزاب 33 : 5)
5. فَلْيَدْعُ نَادِيُهo سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَo
پس وہ اپنے ہم نشينوں کو (مدد کيلئے) بلالےo ہم بھي عنقريب (اپنے) سپاہيوں کو بلاليں گےo
(العلق، 96 : 17، 18)
6. فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ.
سو وہ انہيں بلائيں گے مگر وہ انہيں کوئي جواب نہ ديں گے۔
(الکهف، 18 : 52)
7. يَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ أُنَاسِمْ بِامَامِهِمْ.
جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پيشوا کے ساتھ بلائيں گے۔
(بني اسرائيل، 17 : 71)
8. وَ انْ تَدْعُهُمْ الَي الْهُدٰي.
اور اگر آپ انھيں ہدايت کي طرف بلائيں۔
(الکهف، 18 : 57)
سورۂ فاتحہ اور تصورِ اِستعانت و اِستغاثہ
سورۂ فاتحہ ميں جہاں اِسلام کے اور بہت سے عقائد و تعليمات کے تصوّر کو واضح کيا گيا ہے وہاں تصوّرِ اِستغاثہ کو بھي بڑے دلنشيں انداز ميں بيان کيا گيا ہے۔ اِرشادِ رباني ہے :
ايَاکَ نَعْبُدُ وَ ايَاکَ نَسْتَعِيْنُo
(الفاتحه، 1 : 4)
اے اﷲ ہم تيري ہي عبادت کرتے ہيں اور تجھ ہي سے مدد چاہتے ہيںo
يہي آيت مبارکہ مسئلہ اِستعانت و اِستغاثہ کي بنياد ہے جس ميں عبادت اور اِستعانت کو يکے بعد ديگرے ذِکر کيا گيا ہے۔ آيتِ کريمہ کا پہلا حصہ ’’ايَاکَ نَعْبُدُ‘‘ اِسلام کے تصوّرِ عبادت پر مشتمل ہے اور دُوسرا حصہ ’’ايَاکَ نَسْتَعِيْنُ‘‘ تصوّرِ اِستعانت کو واضح کرتا ہے۔ يہي وہ آيتِ مبارکہ ہے جس کے سطحي مطالعہ سے حاصل ہونے والے باطل اِستنباط کے ذريعے کچھ لوگ جميع امتِ مسلمہ پر شِرک کا فتويٰ لگانے کا آغاز کرتے ہيں۔
دراصل اِس آيت کے سطحي مطالعہ سے اُن کے ذِہنوں ميں يہ خيال جنم ليتا ہے کہ آيت کے دونوں حصے ايک جيسے اَلفاظ پر مشتمل ہيں۔ پہلے حصے ميں عبادت کا ذِکر ہے جو محض اﷲ ربّ العزّت کے لئے خاص ہے، تو دُوسرے حصے ميں اِستعانت مذکور ہے۔ ايک جيسے اَلفاظ کے استعمال کي وجہ سے ايک سے اَحکام کا حاصل ہونا ايک بديہي سي بات ہے۔ يوں وہ لوگ اِس سطحي اِستدلال کے ذريعے يہاں دھوکہ کھا جاتے ہيں اور اِستعانت و اِستغاثہ کو بھي عبادت کي طرح فقط اﷲ ربّ العزّت کے ساتھ مختص قرار دينے لگتے ہيں۔
اگر ہم بنظرِ غائر اِس آيتِ کريمہ کا مطالعہ کريں تو صورتحال يکسر مختلف نظر آتي ہے۔ ايک جيسے اَلفاظ کا وُرود بجا مگر آيت کے دونوں حصوں کے درميان حرفِ عطف واؤ کا پايا جانا بھي کسي حقيقت کا غماز ہے! اگر عبادت و اِستعانت کا حکم ايک ہي ہوتا تو اِن دونوں جملوں کے درميان اﷲ تعاليٰ کبھي بھي ’’واؤ‘‘ کا اِضافہ نہ کرتا۔ اِس واؤ کے لانے سے ہي ما قبل اور ما بعد ميں مغايرت ظاہر ہو رہي ہے۔ دو جملوں کے درميان پائے جانے والے حرفِ مغايرت کي وجہ سے دونوں جملوں کے اَحکام جدا جدا ہوتے ہيں۔ اگر ’’إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘ ميں طلبِِ عون سے مراد عبادتِ خداوندي ہوتي تو قرآنِ مجيد اُسے واؤ عاطفہ کے ذريعے ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ‘‘ سے جدا نہ کرتا۔ حرفِ مغايرت واؤ کا اِستعمال يہ بتا رہا ہے کہ ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ‘‘ اور ’’إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘ دونوں الگ الگ حقيقتيں ہيں۔ اگر عبادت و اِستعانت کے اَحکام ايک سے ہوتے تو اِن دونوں کے درميان حرفِ مغايرت ’’واؤ عاطفہ‘‘ لانے کي ضرورت نہ ہوتي، بلکہ کلام يوں ہوتا : ’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO‘‘۔
قرآنِ مجيد جو خدائے ذوالجلال کا کلام ہونے کے ناطے اپني جامعيت ميں کسي بھي اِنساني کاوِش سے بڑھ کر ہے اور اُس کا يہ اُسلوب ہے کہ اُس کا ہر حرف اپنا مخصوص معني و مفہوم رکھتا ہے اور اُس کے کسي ايک حرف کو بھي غيرضروري قرار نہيں دِيا جا سکتا۔ اگر اِس مقام پر عبادت اور اِستعانت کے مابين مغايرت کا ذِکر مقصود نہ ہوتا تو حرفِ مغايرت ہرگز نہ لايا جاتا۔ قرآنِ مجيد ميں اِس کي تائيد ميں بيسيوں مثاليں موجود ہيں۔ اِسي طرح جہاں مغايرت مقصود نہ ہو وہاں مغايرت کے لئے واؤ نہيں لائي جاتي۔ عدمِ مغايرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حرفِ مغايرت کا عدم اِستعمال سورۂ فاتحہ ہي کي اِبتدائي تين آيات ميں بخوبي ملاحظہ کيا جاسکتا ہے۔ اﷲ ربّ العزّت کا اِرشادِ گرامي ہے :
أَلْحَمْدُِﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo مٰلِکِ يَوْمِ الدِّيْنِo ايَاکَ نَعْبُدُ وَ ايَاکَ نَسْتَعِينُo
(الفاتحه، 1 : -41)
سب تعريفيں اللہ ہي کے لئے ہيں جو تمام جہانوں کي پرورش فرمانے والا ہےo نہايت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہےo روز جزا کا مالک ہےo (اے اﷲ) ہم تيري ہي عبادت کرتے ہيں اور تجھ ہي سے مدد چاہتے ہيںo
آپ نے ملاحظہ فرمايا کہ مسلسل تين اِبتدائي آيات ميں اِسمِ جلالت کے بعد پے در پے چار صفاتِ باري تعاليٰ کا ذِکر ہے اور اُن کے درميان کسي قسم کي مغايرت نہ ہونے کي وجہ سے کہيں بھي واؤ عاطفہ نہيں لائي گئي۔ جبکہ اگلي آيات ميں جہاں مختلف اور متغاير اَعمال و اَفعال کا ذِکر مقصود تھا، وہاں مغايرت کے لئے واؤ عاطفہ لائي گئي۔ پس اِس سے پتہ چلا کہ دُعا اور اِستعانت و اِستغاثہ (مدد چاہنا) دو مختلف چيزيں ہيں اور اِن ميں اِنضمام و اِختلاط کي کوشش مدّعائے نزولِ قرآن کي خلاف ورزي ہے جو ہرگز درست نہيں۔ عقلِ ناقص پر کلي اِنحصار گمراہيوں کو جنم ديتا ہے اور فلسفيانہ مُوشگافيوں ميں اُلجھ کر رہ جانے والے حقيقت کي منزل سے بہت دُور رہ جاتے ہيں، دُوسروں کو بھي ذِہني خلفشار کي دلدل کا رِزق بناتے ہيں اور اپنے ذِہن کو بھي غلط سوچوں کي آماجگاہ بنا کر شکوک و شبہات کے بے معنٰي جہان تخليق کرتے ہيں
