إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

مذہب حنبلي کا مختصر احاطہ

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • مذہب حنبلي کا مختصر احاطہ

    حنبلي مذہب کا اجمالي خاکہ


    اہل سنت کے فقہي مذاہب کے درميان حنبلي مذہب اپني پيدائش اور پيروکاروں کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہےغ” حنبلي مذہب کے موسس ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبلي شيباني ہيںغ” آپ عربي الاصل تھےغ”اموي حکومت ميں آپ کے دادا ، سرخس کے والي تھےغ” ابن حنبل 164 ہجري ميں شہر بغداد ميں متولد ہوئے اور بچپن ہي ميں قرآن کو حفظ کيا، پہلے آپ نے علم فقہ ، قاضي ابويوسف سے حاصل کيا ليکن کچھ عرصہ کے بعد آپ اہل حديث کي طرف متوجہ ہوگئے ، جب تک شافعي مصر نہيں گئے يہ ان کے پاس فقہ حاصل کرتے رہے اور آپ ان کے برجستہ شاگرد تھےغ”آپ کا نظريہ تھا کہ قرآن، مخلوق نہيں ہے جس کي وجہ سے بني عباس نے آپ کو بہت تکليف دي اور معتصم کے زمانہ ميں 18 مہينہ تک قيد خانہ ميں رہنا پڑاغ” ليکن جب متوکل کو حکومت ملي تو اس نے آپ کي بہت دلجوئي کي اور آپ کو اپنے نزديک بلاليا يہاں تک کہ متوکل آپ سے مشورہ کئے بغير کوئي کام انجام نہيں ديتا تھاغ”


    احمد بن حنبل نے شافعي سے جدا ہونے کے بعد فقہ کي بنياد پر ايک مذہب کي بنياد ڈالي، اس فقہ کي بنياد پانچ اصل پر استوار تھي: کتاب اللہ، سنت رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)،پيغمبر کے اصحاب کے فتوے، بعض اصحاب کے وہ اقوال جو قرآن سے سازگار تھے اور تمام ضعيف حديثيںغ” انہوں نے حديث سے استناد کرنے ميں اس قدر مبالغہ سے کام ليا کہ طبري اور ابن نديم جيسے بزرگ افراد نے ان کو مجتہد ماننے سے انکار کردياغ” احمد بن حنبل کي سب سے اہم کتاب ”مسند“ ہے جس ميں تقريبا تيس ہزار سے زيادہ حديثيں ہيں، يہ کتاب چھ جلدوں ميں چھپي ہےغ” آپ کي دوسري کتابيں تفسير قرآن، فضائل،طاعة الرسول اور ناسخ و منسوخ ہيںغ” آپ کي فقہي کتاب آپ کے فتوں کا مجموعہ ہے جس کو ابن قيم (متوفي 751)نے جمع کيا ہےغ” يہ مجموعہ 20 جلدوں ميں منتشر ہوا ہے غ” محمد بن اسماعيل بخاري، مسلم بن نيشاپوري آپ کے بہترين شاگرد ہيںغ” ابن حنبل کا 241 ہجري ميں بغداد ميں انتقال ہواغ”


    چھٹي صدي ميں حنبلي مذہب


    احمد بن حنبل پہلے عقايد کے ايک عالم تھے پھر آپ کا شمار فقہي علماء ميں ہونے لگا، متوکل کے زمانہ ميں آپ کے کلامي مذہب کاارتقاء بہت زيادہ ہوا، يہاں تک کہ اہل حديث کے تمام مذاہب آپ کے عقايد ميں گھل مل گئے اور جب اشعري مذہب کا ظہور ہوا تو احمد بن حنبل نے اپنے کلامي مذہب کو ان کے سپرد کردياغ”


    ليکن بہت صدياں گزرنے کے بعد آٹھويں صدي ميں ابن تيميہ (م 728) نے احمد بن حنبل کے کلامي مذہب کو دوبارہ احياء کياغ” ابن تيميہ نے صرف اس کو احياء ہي نہيں کيا بلکہ حنبلي مکتب فکر ميں نئي چيزوں کا اضافہ بھي کياغ” جيسے پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم)کي زيارت کيلئے سفر کرنا بدعت ہے، توحيد کے نقطہ نظر سے تبرک و توسل کرنا صحيح نہيں ہے اور اہل بيت کي بہت سي فضيلتوں کاانکار جو کہ صحاح ستہ اور مسندبن حنبل ميں بيان ہوئي ہيںغ”


    حنابلہ کي يہ نئي فکر علماء اسلام کي مخالفت کي تاب نہ لاسکي اور دم توڑنے لگي يہاں تک کہ محمد بن عبدالوہاب (1115غ” 1206 ہ ق)نے اس کو دوبارہ لوگوں کے سامنے پيش کياغ”


    حنابلہ کي نئي فکر ، جمود سے ملي ہوئي ہے جيسے نئے زمانے کي چيزوں سے استفادہ کرنے کو منع کيا جاتا ہے جيسے فوٹو کھينچنے کو بغير کسي ديني نص کے حرام کي نظر سے ديکھا جاتا ہےغ”


    حنبلي مذہب کے علاقے


    سعودي عرب ميں حنبلي مذہب ، پہلا مذہب ہے ، سعودي عرب کے نجد کے علاقہ ميں زيادہ تر اہل سنت حنبلي ہيں اور حجاز ميں مذہب شافعي اور احساء ميں مذہب مالکي سے مقابلہ کرتا ہےغ”


    شام کے ايک چوتھائي مسلمان حنبلي ہيں، فلسطين ميں يہ چوتھا مذہب شمار ہوتا ہے اور اس کے بہت کم پيروکار مصر، عمان اور افغانستان ميں ہيںغ”


    خصوصيات اور حنبلي مذہب کے مآخذ


    احمد بن حنبل سنت کو قرآن پر حاکم سمجھتے ہيں، اور اپنے فتووں ميں احاديث اور اصحاب کے فتووں پر تکيہ کرتے ہيں، آپ مصلحت کي بناء پر فتوي نہيں ديتے تھے ، جب نص کو ايک دوسرے کے مخالف ديکھتے تھے تو مالک کے برخلاف عمل کرتے تھے اور جب بھي نص کو مصلحت کے ساتھ نہيں ديکھتے تھے تو اس کو حکم کا مبنا قرار ديتے تھے اور شافعي کي طرح مصلحت سے فرار نہيں کرتے تھےغ”





    احمد بن حنبل، حديث مرسل اور ضعيف کو معتبر سمجھتے تھے اور ان کو قياس پر مقدم کرتے تھےغ”


    آپ کے نزديک قياس صرف ضرورت کے وقت جائز تھاغ”


    حنبلي مذہب کے بعض اعتقادات


    1غ” فقہ حنبلي ميں معاملات کے اصلي ارکان ، عاقلوں کي رضايت تھي اور ان کي نظر ميں تمام معاملے صحيح تھے مگر يہ کہ اس معاملہ کے باطل ہونے پر کوئي نص موجود ہوغ”


    2غ” حنبلي ، طہارت اور نجاست کے سلسلہ ميں بہت زيادہ حساس تھے اور اس وجہ سے مذاہب کے درميان يہ بہت زيادہ مشہور ہيںغ”


    3غ” فقہ حنبلي اصل ذرايع کو قبول کرنے کي وجہ سے بہت زيادہ پھيلاغ”


    4غ” حنبليوں کي اہم خصوصيت ،امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے قضيہ ميں بہت زيادہ افراطي ہونا ہےغ”


    احمد بن حنبل کے بعض نظريات، کلام، سياست اور فقہ سے متعلق مندرجہ ذيل ہيں:


    1غ” جن روايات ميں خداوند عالم کي تشبيہ يا تجسيم يا رويت سے متعلق مسائل بيان ہوے ہيں، آپ ان کي تاويل کو جائز نہيں سمجھتے تھےغ”


    2غ” احمد بن حنبل کے نزديک صحابي کے معني بہت زيادہ وسيع تھے ،اگر کسي نے پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم)سے صرف ايک گھنٹہ ملاقات کي ہو اس کو بھي صحابي کہتے ہيں، جو مسلمان صحابي کو برا کہتا تھا وہ اس کے اسلام کو صحيح نہيں سمجھتے تھےغ”


    3غ” احمد بن حنبل ، پہلے والے خليفہ کا اپنے بعد والے خليفہ کو انتخاب کرنا صحيح سمجھتے تھے غ” احمد بن حنبل ، فتح پانے والے بادشاہ يا حاکم کي اطاعت ضروري سمجھتے تھے چاہے وہ حاکم ظالم ہي کيوں نہ ہوغ” آپ ايسے فاتح حاکم کي اقتداء ميں نماز پڑھنے کو جائز سمجھتے تھے يا اگر يہ کسي کو نماز وغيرہ کے لئے منتخب کرے تو اس کے پيچھے نماز پڑھنے کو ضروري سمجھتے تھے اور اس نماز کو دوبارہ پڑھنا بدعت جانتے تھےغ”


    4غ” احمد بن حنبل ، تارک نماز کو کافر اور اس کا قتل واجب سمجھتے تھےغ”


    حنبلي مذہب کے فقہاء اور کتابيں


    اس مذہب کے مشہور فقہاء درج ذيل ہيں:


    احمد بن شہاب الدين معروف بہ ابن تيميہ (م 738)صاحب مجموعة الرسائل الکبر و منھاج السنہ والفتاوي ، يہ کتاب پانچ جلدوں ميںچھپ کر منتشر ہوئي ہےغ”


    ابن قيم جوزي (م 751)، اعلام الموقعين عن رب العالمين کے مولف، يہ کتاب چار جلدوں ميں چھپي ہے اس کے علاوہ آپ الطرق الحکميہ في السياسة الشرعيہ اور زاد المعاد في ھدي خير العباد کے بھي مولف ہيںغ”


    ابوالفرج عبدالرحمن معروف بہ ابن رجب ، صاحب الفوائد في الفقہ الاسلاميغ”


    موفق الدين ، معروف بہ ابن قدامہ (م 620)، کتاب المغني کے موظ´ لف ، اس کتاب کے 12 جزء ہيںغ”


    شمس الدين ابن قدامہ، مقدسي(م 682)، کتاب الشرح الکبير کے مصنف جو کہ المقنع کي شرح ہےغ”


    عبدالرحمان مقدس ، صاحب المعدة في شرح العمدةغ”


    ابوبکر بن ھاني معروف بہ الاثرم، صاحب کتاب السننغ”


    ماخوذ مضمون کتاب رہ توشہ حج، ج1، ص 155غ”
    التعديل الأخير تم بواسطة توصيف رضا خان ; الساعة 12-08-2014, 01:12 PM. سبب آخر:
يعمل...
X