حلالہ کا مسئلہ عصر پيغمبر سے ہي شروع ہوا جس کي وجہ سے قرآن کي آيت بھي نازل ہوئي اور اس سلسلے ميں پيغمبر اکرم (ص) نے احاديث بھي ارشاد فرمائيں۔اسلام ميں حلالہ کا مطلب يہ ہے کہ ايک عورت کو جب تين طلاق دے دئے جائيں تو اس کے بعد اس کي طرف رجوع نہيں کيا جا سکتا مگر يہ کہ وہ عورت اپني مرضي سے کسي دوسرے مرد سے شادي کرے اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہمبستري کرے اور يہ مرد اپني مرضي سے بغير کسي کے دباو کے اس عورت کو طلاق دے دے يا وہ عورت اپنے اختيار سے طلاق لے لے اس کے بعد سابقہ شوہر اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے جيسا کہ سورہ بقرہ کي آيت نمبر 230 ميں اس بارے ميں حکم ديا گيا ہے: « فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا» (بقره 230).
يعني اگر شوہر نے عورت کو تين طلاق دے دئے تو اسکے بعد وہ عورت اس مرد کے ليے حلال نہيں ہو گي جب تک کہ وہ کسي دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس صورت ميں پہلے شوہر کے اس کي طرف رجوع کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
يہ چيز اسلام نے اس وجہ سے رکھي ہے تاکہ مسلمانوں کے درميان طلاق کي نحوست کو کم کيا جائے طلاق سے سماج ميں پيدا ہونے والے مسائل کا سد باب کيا جائے چونکہ جب انسان اپني زوجہ کو طلاق بائن يعني تين مرتبہ طلاق دے دے گا اس کے بعد اگر اپنے کئے پر پشيمان بھي ہو تو اس پشيماني کا کوئي فائدہ نہيں ہو گا چونکہ اب اس عورت کو حاصل کرنا گويا انتہائي مشکل ہے اس ليے کہ جب وہ عورت کسي دوسرے مرد سے شادي کرے گي تو ضروري نہيں کہ اس کے بعد اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور بالفرض اگر وہ مطالبہ کرے تو ضروري نہيں کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے اور اس دوسري شادي ميں اسلامي نے ہمبستري کي قيد لگائي ہے کہ دوسرا مرد اس عورت کے ساتھ جو اب اس کي بيوي ہے ہمبستري بھي کرے اس چيز سے پہلے مرد کو يہ احساس بھي ہو گا کہ وہ اپني بيوي کو طلاق بائن دے کر بھيج دے گا وہ کسي دوسرے مرد سے شادي کر کے ہمبستري کر لے گي اس کے بعد اگر بالفرض طلاق کي صورت ميں وہ اس سے شادي بھي کرے تو يہ اسکي بے غيرتي کا ثبوت ہو گا۔
ليکن بعض جاہل لوگ اس مسئلہ کو دوسرے روپ سے پيش کرتے اور اس الہي حکم ميں تحريف پيدا کر کے اپنا مفاد پورا کرتے ہيں جيسا کہ بعض ان اسلامي فرقوں ميں جن ميں صرف تين بار طلاق طلاق طلاق کہنے سے تين طلاق ہو جاتے ہيں حلالہ ايک بڑي مشکل کا علاج ہے۔ عام جاہل لوگ حلالہ کا مطلب يہ سمجھتے ہيں کہ ادھر تين طلاق دينے کے بعد جب اپنے کئے پر پشيمان ہوئے تو اپني بيوي کو کسي مرد کے پاس ايک رات کے ليے بھيج ديا اس کے بعد دوسرے دن وہ حلال ہو کر واپس آگئي۔ اس عمل کو شريعت اسلامي نے صريحا حرام قرار ديا ہے۔ جيسا کہ حديث نبوي(ص) ميں ايسا کرنے والوں پر لعنت بھي کي گئي ہے’’ لعن اللہ المحلل و المحلل لہ‘‘ (ترمذي)’’خدا کي لعنت ہو اس مرد پر جو اپني بيوي کو حلال کرنے کے ليے بھيجے اور اس مرد پر جو دوسرے کي بيوي کو اس طرح حلال کرے‘‘۔ ( يہ حديث أبوداود ،احمد ،النسائي ،الترمذي اورابن ماجه ميں بيان ہوئي ہے)
عام لوگوں ميں رائج حلالہ اور قرآن ميں بيان شدہ حکم حلالہ ميں فرق
عوام ميں جو حلالہ رائج ہے وہ يوں ہے کہ جو اپني بيوي کو تين طلاق دينے کے بعد نادم ہو جائے تو وہ حلالہ کو اپني مشکل کا راہ حل سمجھتے ہوئے اپني بيوي کو کسي ملاں کے پاس بھيج ديتا ہے اور وہ ملاں اسے حلال کر کے لوٹا ديتا ہے يہ چيز اہل تشيع کے سماج ميں رائج نہيں ہے کيونکہ اہل تشيع کے نزديک تين بار طلاق کہنے سے طلاق نہيں ہوتي اور جو شخص الگ الگ دفعہ تين بار اپني بيوي کو طلاق دے وہ دوبارہ کم ہي اس کي طرف رجوع کي سوچے گا اور پھر حلالہ کرنے کي کوشش کرے گا اس ليے حلالہ زيادہ تر اہلسنت کے نزديک رائج ہے۔
ليکن قرآن اور شريعت ميں جو حلال کرنے کا طريقہ کار ہے وہ يہ ہے کہ تين طلاق کے بعد عورت کو اختيار حاصل ہے وہ چاہے کسي سے شادي کرے يا نہ کرے اور کسي دوسرے مرد سے شادي کرنے کي صورت ميں بھي اس کو مکمل اختيار ہے کہ وہ دوسرے شوہر سے طلاق لے يا نہ لے اس ميں پہلے مرد کا کوئي رول نہيں ہے اب ايسي صورت ميں يہ عورت دوسرے کے ساتھ سالھا سال زندگي بسر کرے اور فرضا اگر اس کا شوہر اسے اپني مرضي سے طلاق دے دے يا مر جائے تو ايسي صورت ميں اگر وہ عورت چاہے تو پہلے مرد کے ساتھ دوبارہ شادي کر سکتي ہے۔
لہذا وہ حلالہ جو اہل سنت کے سماج ميں رائج ہے بالکل ناجائز اور حرام ہے اور اس بات پر تمام علمائے اہلسنت اور علمائے اہل تشيع کا اتفاق ہے ليکن حلالہ کا وہ طريقہ جو قرآن اور احاديث ميں بيان ہوا ہے وہ تمام علمائے اسلام کے نزديک صحيح اور اسلامي طريقہ ہے۔
يعني اگر شوہر نے عورت کو تين طلاق دے دئے تو اسکے بعد وہ عورت اس مرد کے ليے حلال نہيں ہو گي جب تک کہ وہ کسي دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس صورت ميں پہلے شوہر کے اس کي طرف رجوع کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
يہ چيز اسلام نے اس وجہ سے رکھي ہے تاکہ مسلمانوں کے درميان طلاق کي نحوست کو کم کيا جائے طلاق سے سماج ميں پيدا ہونے والے مسائل کا سد باب کيا جائے چونکہ جب انسان اپني زوجہ کو طلاق بائن يعني تين مرتبہ طلاق دے دے گا اس کے بعد اگر اپنے کئے پر پشيمان بھي ہو تو اس پشيماني کا کوئي فائدہ نہيں ہو گا چونکہ اب اس عورت کو حاصل کرنا گويا انتہائي مشکل ہے اس ليے کہ جب وہ عورت کسي دوسرے مرد سے شادي کرے گي تو ضروري نہيں کہ اس کے بعد اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور بالفرض اگر وہ مطالبہ کرے تو ضروري نہيں کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے اور اس دوسري شادي ميں اسلامي نے ہمبستري کي قيد لگائي ہے کہ دوسرا مرد اس عورت کے ساتھ جو اب اس کي بيوي ہے ہمبستري بھي کرے اس چيز سے پہلے مرد کو يہ احساس بھي ہو گا کہ وہ اپني بيوي کو طلاق بائن دے کر بھيج دے گا وہ کسي دوسرے مرد سے شادي کر کے ہمبستري کر لے گي اس کے بعد اگر بالفرض طلاق کي صورت ميں وہ اس سے شادي بھي کرے تو يہ اسکي بے غيرتي کا ثبوت ہو گا۔
ليکن بعض جاہل لوگ اس مسئلہ کو دوسرے روپ سے پيش کرتے اور اس الہي حکم ميں تحريف پيدا کر کے اپنا مفاد پورا کرتے ہيں جيسا کہ بعض ان اسلامي فرقوں ميں جن ميں صرف تين بار طلاق طلاق طلاق کہنے سے تين طلاق ہو جاتے ہيں حلالہ ايک بڑي مشکل کا علاج ہے۔ عام جاہل لوگ حلالہ کا مطلب يہ سمجھتے ہيں کہ ادھر تين طلاق دينے کے بعد جب اپنے کئے پر پشيمان ہوئے تو اپني بيوي کو کسي مرد کے پاس ايک رات کے ليے بھيج ديا اس کے بعد دوسرے دن وہ حلال ہو کر واپس آگئي۔ اس عمل کو شريعت اسلامي نے صريحا حرام قرار ديا ہے۔ جيسا کہ حديث نبوي(ص) ميں ايسا کرنے والوں پر لعنت بھي کي گئي ہے’’ لعن اللہ المحلل و المحلل لہ‘‘ (ترمذي)’’خدا کي لعنت ہو اس مرد پر جو اپني بيوي کو حلال کرنے کے ليے بھيجے اور اس مرد پر جو دوسرے کي بيوي کو اس طرح حلال کرے‘‘۔ ( يہ حديث أبوداود ،احمد ،النسائي ،الترمذي اورابن ماجه ميں بيان ہوئي ہے)
عام لوگوں ميں رائج حلالہ اور قرآن ميں بيان شدہ حکم حلالہ ميں فرق
عوام ميں جو حلالہ رائج ہے وہ يوں ہے کہ جو اپني بيوي کو تين طلاق دينے کے بعد نادم ہو جائے تو وہ حلالہ کو اپني مشکل کا راہ حل سمجھتے ہوئے اپني بيوي کو کسي ملاں کے پاس بھيج ديتا ہے اور وہ ملاں اسے حلال کر کے لوٹا ديتا ہے يہ چيز اہل تشيع کے سماج ميں رائج نہيں ہے کيونکہ اہل تشيع کے نزديک تين بار طلاق کہنے سے طلاق نہيں ہوتي اور جو شخص الگ الگ دفعہ تين بار اپني بيوي کو طلاق دے وہ دوبارہ کم ہي اس کي طرف رجوع کي سوچے گا اور پھر حلالہ کرنے کي کوشش کرے گا اس ليے حلالہ زيادہ تر اہلسنت کے نزديک رائج ہے۔
ليکن قرآن اور شريعت ميں جو حلال کرنے کا طريقہ کار ہے وہ يہ ہے کہ تين طلاق کے بعد عورت کو اختيار حاصل ہے وہ چاہے کسي سے شادي کرے يا نہ کرے اور کسي دوسرے مرد سے شادي کرنے کي صورت ميں بھي اس کو مکمل اختيار ہے کہ وہ دوسرے شوہر سے طلاق لے يا نہ لے اس ميں پہلے مرد کا کوئي رول نہيں ہے اب ايسي صورت ميں يہ عورت دوسرے کے ساتھ سالھا سال زندگي بسر کرے اور فرضا اگر اس کا شوہر اسے اپني مرضي سے طلاق دے دے يا مر جائے تو ايسي صورت ميں اگر وہ عورت چاہے تو پہلے مرد کے ساتھ دوبارہ شادي کر سکتي ہے۔
لہذا وہ حلالہ جو اہل سنت کے سماج ميں رائج ہے بالکل ناجائز اور حرام ہے اور اس بات پر تمام علمائے اہلسنت اور علمائے اہل تشيع کا اتفاق ہے ليکن حلالہ کا وہ طريقہ جو قرآن اور احاديث ميں بيان ہوا ہے وہ تمام علمائے اسلام کے نزديک صحيح اور اسلامي طريقہ ہے۔