إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

عصمت انبياء و اہلبيت عليہم السلام

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • عصمت انبياء و اہلبيت عليہم السلام



    معصوم عربي لغت کے اعتبار سے " اسم مفعول" کا صيغہ ہے جو "معلوم " کے وزن پر اتا ہے جس کے معني ہيں " بچايا ہوا يا وہ جسے بچايا گيا " اور يہ "العصمة " سے مشتق ہے جو بچنے بچانے اور محفوظ رہنے کے معنوں ميں اتا ہے.
    علم الصرف کے مطابق يہ از " باب فعل يفعل . ضرب يضرب " کے قبيلے سے ہے . ہم تفصيل ميں گئے بغير اس مختصر ادبياتي بحث کےبعد لفظ معصوم يا عصمت کے عقلي قراني و روائي اور استقرائي مفہوم کيطرف مختصرا نظر کرتے ہيں. اصطلاح ميں عصمت وہ قوت ہے جو اپنے حامل کو خطاء و معصيت سے روکتي ہے. لہذا صاحب عصمت نہ تو کوئي واجب ترک کرتا ہے اور نہ کوئي حرام عمل بجا لاتا ہے جبکہ اسے اختيار ہے کہ وہ چاہتا تو حرام بجا لاتا اور واجب کو ترک کرديتا. ( کيونکہ عصمت کو اگر اجباري مانيں تو اس پر ثواب و اجر کے وہ حقدار نہيں ٹھہرتے) ليکن اسکا علم ا سے غلطيوں سے روکتا ہے اور اسکا تقوي ميں اعلي ترين مقام اسے معصيت وخواہشات نفس کي پيروي سے باز رکہتا ہے .

    1- عصمت پر دليل عقلي

    عقل جسے روايات صحيحہ ميں اللہ کي حجتوں ميں سے حجت باطنيہ کہا گيا ہے يہ حکم صادر کرتا ہے کہ نبي يا امام منصوص من اللہ کا معصوم ہونا ضروري ہے. کيونکہ اگر ان سے غلطيوں اور خطاء کا صدور ممکن فرض کيا جائے تو پھر سارے احکامات دينيہ و شريعت الہيہ مشکوک ہوکر رہ جائيں. کيونکہ سہو نسيان يا غلطي کے صدور کي انکي طرف نسبت سے يہ گمان بہي ممکن ہے کہ شايد انہوں نے کوئي حکم پہنچانے ميں غلطي کي ہو يا بھول گئے ہوں. پس ضروري ہے کہ نبي يا امام کو معصوم مانا جائے . ورنہ پورا دين مشکوک رہ جائيگا. پھر اکمال دين کا دعوي بھي درست نہ ہوگا جبکہ دين کے کامل و نعمتوں کے بذريعہ اسلام تمام ہونے پر سورہ مايدہ کي ايت بطور دليل موجود ہے

    2- عصمت پر دليل قراني

    پہلي دليل ايت تطہير ہے ( انما يريد اللہ ليذہب ....... الاحزاب 33) جس ميں اللہ نے اہل بيت کو ہر رجس و گندگي سے دور رکھنے کا ارادہ ظاہر کيا ہے. پس ارادہ خدا فعل خدا ہے جو کہ پلک جھپکنے سے قبل ہوجاتا ہے جيسا کہ سورہ يس کي اخري ايت ميں ہے کہ " اسکا امر جب وہ اسکا ارادہ کرے تو (کن يعني ہوجا) کہنے کےساتھ ہي ( فيکون) پس ہوجاتا ہے" . لہذا اہل بيت ميں پاکيزگي و عصمت و طہارت ان ميں اللہ عزوجل کے ارادہ کرتے ہي نافذ وجاري ہوچکا ہے اور وہ قيامت تک ہر رجس و گندگي اور غلاظت ( معصيت و خطاء وديگر اخلاقي وانساني رذايل) سے پاک ہيں.

    (الف) اطيعوا اللہ واطيعوا الرسول ( النساء .59)
    يہاں پر اطاعت مطلقہ کا حکم ہے. اگر رسول سے کہيں کوئي غلطي ہوگئي ہوتي تو اللہ لوگوں کو بيان کرتا کہ البتہ فلاں معاملے ميں رسول کي اطاعت نہ کرنا. ليکن ايسا نہ کہا گيا. بلکہ متعدد ديگر ايات ميں بھي رسول کي اطاعت کا مطلقا حکم ديا گيا.

    (ب) ( وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوہ) يعني جو رسول ديں وہ لو اور جس سے منع کريں اسے رک جاو.(الحشر.7)

    (ج) ( واطيعوا اللہ واطيعوا الرسول واحذروا المايدہ.92) اور اللہ اور اسکے رسول کي اطاعت کرو اور اللہ کا خوف کرو " ايسي بيشمار ايات ہيں جن کے ذکر سے طوالت کا خوف ہے. جن ميں مطلق اطاعت رسول طلب کي گئي اور سرتا پا تسليم کا کہا گيا ورنہ دايرہ ايمان سے خارج يا اعمال کو حبط کرنے کي خبر دي گئي

    3- عصمت پر دليل روائي

    (الف) تفسير صافي ميں امام باقر و صادق عليہما السلام سے روايت نقل کي گئي ہے. آپ نے فرمايا. ( اللہ نے جناب ايوب عليہ السلام کو سات سال ازمايش ميں مبتلاء کيا جبکہ ان سے کوئي غلطي سرزد نہ ہوئي تھي کيونکہ انبياء معصوم ہوتے ہيں.انکے دل زنگ الود نہيں ہوتے. وہ معصيت نہيں بجا لاتے اور صغيرہ و کبيرہ سے بچتے ہيں ) (1)

    (ب) امام صادق فرماتے ہيں ( ہم ہي خزينہ علم الہي ہيں. اور ہم ہي اس کے امر کے ترجمان ہيں. اور ہم ہي وہ لوگ ہيں جو معصوم ہيں ) (2) اس مضمون کي روايات بے حد زيادہ ہيں ہم اسي پر اکتفاء کرتے ہيں.

    (ج) اہل سنت کے جيد عالم الذہبي جو نقد حديث ميں ايک اعلي مقام کے حامل ہيں انہوں نے اس حديث کو بيان کيا ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ والہ نے فرمايا.( جس نے ميري اطاعت کي اس نے اللہ کي اطاعت کي اور جس نے ميري نافرماني کي اس نے اللہ کي معصيت کي اور جس نے علي کي اطاعت کي اس نے ميري اطاعت کي اور جس نے علي کي نافرماني کي اس نے ميري نافرماني کي ) (3)
    پس ارادہ نبي و علي ( بمطابق مقدمہ صغري کبري ) ارادہ خدا ہے لہذا اگر ارادہ اللہ کا ہو تو اس ميں غلطي کا کوئي امکان نہيں رہتا . پس لا محالہ امام و رسول کا معصوم ہونا لازم آتا ہے.

    ( د) مولا علي عليہ السلام کا قول ہے ( اللہ نے ہميں پاکيزہ بنايا اور ہميں محفوظ رکھا. اور ہميں اپني خلق پر گواہ قرار ديا. قران کو ہمارے ساتھ اور ہميں قران کيساتھ قرار ديا ) پس جس طرح قرآن محفوظ و معصوم ہے اسي طرح نبي وآل نبي بھي معصوم ہيں . اسي ليے امام زمان كو شريك القران كهتے ہيں اور وہي ناطق قران بھي ہيں.

    4- عصمت پر دليل استقرائي

    يعني مصداق خارجي ميں بھي ہميں رسول اللہ اور انکي پاک آل کي پوري حيات ميں قول و فعل کي کوئي غلطي يا تسامح نظر نہيں آتا. يہ بھي ان کے معصوم ہونے کي دليل ہے . ان کے دشمن تک انکي پاکيزگي. سچائي اور امانت کي تعريف کرتے تھے. کوئي شخص ايسا نہيں ملتا جو انکے کردار اقوال يا افعال ميں غلطياں ثابت کرسکے .
    ------------------------------------------------------------------------------------------------------



    ( (1) تفسير الصافي -450 و البحار 12/348
    ( 2) اصول کافي 1/268
    (3) جامع احاديث الشيعہ بحوالہ وسايل الشيعہ3/389
    احتجاج الطبرسي1/ 58
يعمل...
X