إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

آيۂ تبديل کي شان نزول

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • آيۂ تبديل کي شان نزول





    جب خدا وند سبحان نے شريعت موسيٰ کے بعض احکام کو دوسرے احکام سے حضرت خاتم الانبياء ۖ کي شريعت ميں تبديل کرديا( جيسا کہ ہم نے بيان کيا ہے) توقريش نے رسول پر شورش کي اور بولے : تم خدا کي طرف جھوٹي نسبت دے رہے ہو!تو خدا وند عالم نے ا ُن کي بات انھيں کي طرف لوٹاتے ہوئے فرمايا:
    (واِذا بدّلنا آےة مکان آےة و اﷲ اعلم بما ينزّل قالوا اِنّما أنت مفتر...) (اِنما يفتري الکذب الذين لايؤمنون بآيات اﷲ ...)( فکلوا ممّا رزقکم اﷲ حلا لاً طيباً)(1)
    اور جب ہم کسي حکم کو کسي حکم سے تبديل کرتے ہيں (اور خدا بہتر جانتا ہے کہ کونسا حکم نازل کرے )تو وہ کہتے ہيں : تم صرف ايک جھوٹي نسبت دينے والے ہو ...،صرف وہ لوگ جھوٹ بولتے ہيں جو خدا کي آيات پر ايمان نہيں رکھتے… لہٰذا جو کچھ خدا نے تمہارے لئے رزق معين فرمايا ہے اس سے حلال اور پاکيزہ کھاؤ۔
    يعني کچھ چيزيں جيسے اونٹ کا گوشت ،حيوانات کے گوشت کي چربي تم پر حرام نہيں ہے ، صرف مردار ، خون ، سؤر کا گوشت اور وہ تمام جانورجن کے ذبح کے وقت خدا کا نام نہيں ليا گيا ہے، حرام ہيں، نيز وہ قربانياں جو مشرکين مکّہ بتوں کو ہديہ کرتے تھے اسکے بعد خدا وند عالم نے قريش کو خدا پر افترا پردازي سے روکا اور فرمايا : من ماني اور ہٹ دھرمي سے نہ کہو : يہ حلال ہے اور وہ حرام ہے !چنانچہ ان کي گفتگو کي تفصيل سورۂ انعام ميں بيان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
    ( وقالوا ھذہ أنعام و حرث حجر لا يطعمھا اِلاّ من نشاء بزعنمھم و أنعام حرّمت ظھور ھا و أنعام لا يذکرون اْسم اﷲ عليھا أفترائًً عليہ و سيجزيہم بما کانوا يفترون)( و قالوا ما في بطون ھذہ الأنعام خالصة لذکورنا و محرّم عليٰ أزواجنا و ِان يکن ميتةً فھم فيہ شرکاء سيجز يھم و صفھم أنّہ حکيم عليم)(2)
    انھوں نے کہا : يہ چوپائے اور يہ زراعت ممنوع ہے، بجزان لوگوں کے جن کو ہم چاہيں(ان کے اپنے گمان ميں)کوئي دوسرا اس سے نہ کھا ئے اور کچھ ايسے چوپائے ہيں جن پر سواري ممنوع اور حرام ہے ! اور وہ
    ..............
    (1)نحل 101 ، 105، 114
    (2)انعام 138، 139


    چوپائے جن پر خدا کا نام نہيں ليتے تھے اور خدا کي طرف ان سب کي جھوٹي نسبت ديتے تھے عنقريب ان تمام بہتانوں کا بدلہ انہيں ديا جائے گا اور وہ کہتے تھے : جو کچھ اس حيوان کے شکم ميں ہے وہ ہم مردوں سے مخصوص ہے اور ہماري عورتوں پر حرام ہے ! اور اگر مر جائے تو سب کے سب اس ميں شريک ہيں خدا وند عالم جلد ہي ان کي اس توصيف کي سزا دے گا وہ حکيم اور دانا ہے۔
    سورۂ يونس ميں بھي اس کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :
    (قل أراْيتم ماأنزل اﷲ لکم من رزق فجعلتم منہ حراماًوحلالاً قل آأﷲ أذن لکم أم عليٰ اﷲ تفترون)(1)
    کہو: جو رزق خدا وند عالم نے تمہارے لئے نازل کيا ہے تم نے اس ميں سے بعض کو حلال اور بعض کو حرام کر ديا، کيا خدا نے تمھيں اس کي اجازت دي ہے ؟ يا خدا پر افترا پردازي کر رہے ہو؟
    اس طرح رسول خدا ۖ اور مشر کين قريش کے درميان حلال و حرام کا مسٔلہ قريش کے خود ساختہ موضوعات سے لے کر شريعت موسيٰ کے احکام تک کہ جنہيں جسے خدا نے مصلحت کي بناء پر حضرت خاتم ۖ کي شريعت ميں دوسرے احکام سے تبديل کر ديا ،سب کے سب موضوع بحث تھے۔
    مکہ ميںقريش ہر وہ حلال و حرام جسے رسول اکرم ۖخداکے فرمان کے مطابق پيش کرتے تھے اور وہ ان کے ديني ماحول کے اور جو کچھ موسيٰ ابن عمران کي شريعت کے بارے ميں جانتے تھے اس کے مخالف ہوتا تو عداوت و دشمي کے لئے آمادہ ہو جاتے تھے اسي دشمني کا مدنيہ ميں بھي يہود کي طرف سے سامناہوا، وہ پيغمبرۖ سے ان احکام کے بارے ميں جو توريت کے بعض حصے کو نسخ کرتے تھے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے خدا وندعالم سورۂ بقرہ ميں اس جدال کو بيان کرتے ہوئے بني اسرائيل کو خطاب کر کے فرماتا ہے:
    ( أفکلما جاء کم رسول بما لا تھوي انٔفسکم اْستکبرتم ففر يقاً کذبتم و فريقاً تقتلون) (2)
    کيا ايسا نہيں ہے کہ جب بھي کسي رسول نے تمہاري نفساني خواہشات کے برعکس کوئي کسي چيز پيش کي ، تو تم نے تکبر سے کام ليا،لہٰذا کچھ کو جھوٹا کہا اور کچھ کو قتل کر ڈالا؟
    ..............
    (1)يونس 59
    (2)بقرہ 87


    (و اِذا قيل لھم آمنوا بما أنزل اﷲ قالوا نؤمن بما أنزل علينا ويکفرون بما ورائہ...)(1)
    اور جب ان سے کہا گيا :جو کچھ خدا نے نازل کيا ہي اسپر ايمان لاؤ!تو کہتے ہيں: ہم اس پر ايمان لاتے ہيں جو خود ہم پر نازل ہو اہے اوراس کے علاوہ کا انکار کرتے ہيں۔
    اور پيغمبر سے فرماتا ہے:
    (ما ننسخ من آےة أو ننسھا نأت بخير منھا أَومثلھا…)
    ہم اُس وقت تک کوئي حکم نسخ نہيں کرتے يااسے تاخير ميں نہيں ڈالتے ہيں جب تک کہ ا س سے بہتر يااس جيسا نہ لے آئيں۔(2)
    (ولن ترضيٰ عنک اليھودولا النّصاريٰ حتيٰ تتّبع ملّتھم…)(3)
    يہود ونصاريٰ ہر گز تم سے راضي نہيں ہوں گے جب تک کے ان کے دين کا اتباع نہ کرلو۔
    توريت کے نسخ شدہ احکام بالخصوص تبديلي قبلہ سے متعلق بني اسرائيل کے رسول خدا ۖ سے نزاع و جدال کرنے کي خبر ديتے ہوئے خدا وند عالم سورئہ بقرہ ميں فرماتا ہے :
    'ہم آسمان کي جانب تمھاري انتظار آميز نگاہ کو ديکھ رہے ہيں ؛ اب اس قبلہ کي سمت جس سے تم راضي اور خشنود ہو جاؤ گے تمہيں موڑ ديں گے ،جہاں کہيں بھي ہو اپنا رخ مسجد الحرام کي طرف کر لو،اہل کتاب(يہود و نصاريٰ ) خوب جانتے ہيں کہ يہ حق ہے اوران کے رب کي طرف سے ہے اور تم جيسي بھي آيت اور نشاني اہل کتاب کے سامنے پيش کرو وہ لوگ تمہارے قبلہ کي پيروي نہيں کريں گے۔ (4)
    پس اس مقام پر نسخ آيت سے مراد اس حکم خاص کا نسخ تھا ، جس طرح ايک آيت کو دوسري آيت سے بدلنے سے مراد کہ جس کے بارے ميںقريش رسول اکرم ۖ سے نزاع کر رہے تھے، مکّہ ميں قريش اور غير قريش کے درميان بعض حلال و حرام احکام کو تبديل کرنا ہے ۔
    بنابراين واضح ہوا کہ خدا کے کلام : ' واِذا بدّلنا آےة مکان آےة ' ميں لفظ آيت سے مراد حکم ہے ، يعني :' اِذا بدلنا حکماً مکان حکم' جب بھي کسي حکم کو حکم کي جگہ قرار ديں…
    اور خدا وندعالم کے اس کلام ' ما ننسخ من آےة أو ننسھا' سے بھي مراد يہ ہے : جب کبھي کو ئي حکم ہم نسخ کرتے يا اسے تاخير ميں ڈالتے ہيں تواس سے بہتر يااس جيسا اس کي جگہ لاتے ہيں۔
    ..............
    (1)بقرہ 91
    (2)بقرہ 106
    (3)بقرہ 120
    (4) بقرہ144 145


    حکم کو تاخير ميں ڈالنے کي مثال : موسي کي شريعت ميں کعبہ کي طرف رخ کرنے کوتاخير ميں ڈالنا اوراس کا بيت المقدس کي طرف رخ کرنے کے حکم سے تبديل کرنا ہے کہ اس زمانہ ميں بني اسرائيل کے لئے مفيداور سود مند تھا۔
    نسخ حکم اور اسے اسي سے بہتر حکم سے تبديل کرنے کي مثال خاتم الانبياء کي شريعت ميں بيت المقدس کي طرف رخ کرنے کے حکم کا منسوخ کرنا ہے کہ تمام لوگ تاريخ ميں ہميشہ ہميشہ کے لئے اپنا رخ کعبہ کي طرف کريں۔پس ايک آيت کے دوسري آيت سے تبديل کرنے کا مطلب ايک حکم کو دوسرے حکم سے تبديل کرنا ہے ، اس طرح واضح ہو گيا کہ خدا وند عالم جو احکام لوگوں کے لئے مقرر کرتا ہے کبھي انسان کي مصلحت اس حيثيت سے کہ وہ انسان ہے اسميں لحاظ کي جاتي ہے ايسے احکام نا قابل تغييرو تبديل ہوتے ہيں جيسا کہ خداوندعالم نے سورۂ روم ميں اس کي خبر ديتے ہوئے فرمايا:
    (فأ قم وجھک للدين حنيفاً فطرت اﷲ التي فطر الناس عليھا لا تبديل لخلق اﷲ ذلک الدين القيم و لٰکنّ أکثر الناس لا يعلمون) (1)
    اپنے رخ کو پروردگار کے خالص اور پاکيزہ دين کي طرف کر لو، ايسي فطرت کہ جس پر خدا وندعالم نے انسان کي تخليق فرمائي ہے آفرينش خدا وندي ميں کسي قسم کي کوئي تبديلي نہيں ہے يہي محکم و استوار دين ہے ليکن اکثر لوگ نہيں جانتے۔
    يعني اُن قوانين ميںجنھيں خدا وند عالم نے لوگوں کي فطرت کے مطابق بنائے ہيں کسي قسم کي تبديلي ممکن نہيں ہے ،سورۂ بقرہ ميں اسي کے مانندخدا کا کلام ہے:
    (والوالدات يرضعن أولا دھنّ حولين کاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة) (2)
    اور جو مائيں زمانہ رضاعت کو کامل کرنا چاہتي ہيں ، وہ اپنے بچوں کو مکمل دو سال دودھ پلائيں۔
    يہ مائيں کوئي بھي ہوں اور کہيں بھي زندگي گزارتي ہوں ان ميںکوئي فرق نہيں ، خواہ حضرت آدم کي بيوي حواہوں جو اپنے نومولودکو درخت کے سائے ميں يا غار ميں دودھ پلائيں، ياان کے بعد کي نسل ہو ، جو غاروں، خيموںاور محلوں ميں دودھ پلاتي ہے دو سال مکمل دودھ پلانا ہے۔
    اسي طرح بني آدم کے لئے کسي تبديلي کے بغير روزہ ، قصاص اور ربا (سود) کي حرمت کا حکم ہے، جيسا
    ..............
    (1)روم 30
    (2)بقرہ 233۔


    کہ خدا وند سبحان سورۂ بقرہ ميں ارشاد فرماتا ہے :
    1۔(يا أےّھا الذين آمنوا کتب عليکم الصيام کما کتب علي الذين من قبلکم لعلکم تتقون)(1)
    اے صاحبان ايمان! روزہ تم پراسي طرح فرض کيا گيا ہے جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض تھا شايد پرہيز گار ہو جاؤ۔
    2۔ (يا أےّھا الذين آمنواکتب عليکم القِصاص…)(2)
    اے صاحبان ايمان ! تم پر قصاص فرض کيا گيا ہے۔
    3۔(و أحلّ اﷲ البيع وحرّم الرّبا…)(3)
    خدا وندعالم نے بيع کو حلال اور ربا کو حرام کياہے۔
    يہ اور ديگر وہ احکام جسے خدا وندعالم نے انسان کي انساني فطرت کے مطابق اسکے لئے مقرر فرمايا ہے کسي بھي آسماني شريعت ميں تغيير نہيں کرتے، يہ احکام قرآن ميں لفظ'وصّٰي ، يوصيکم، وصےةاور کتب' جيسے الفاظ سے تعبير ہوئے ہيں۔
    ليکن جن احکام کو خداوندعالم نے خاص حالات کے تحت بعض لوگوں کے لئے مقرر کيا ہے ، ان کي مدت بھي ان حالات کے ختم ہو جانے سے ختم ہوجاتي ہے جيسے وہ احکام جنھيں بني اسرائيل سے متعلق ہم نے اس سے پہلے ذکر کيا جواُن کے خاص حالات سے مطابقت رکھتے تھے، يا وہ احکام جو خدا وندعالم نے پيغمبرۖ کے ہمراہ مکّہ سے ہجرت کرنے والوں کے لئے مقرر فرمائے اور عقد مواخات کے ذريعہ ايک دوسرے کا وارث ہونا انصار مدنيہ کے ساتھ ہجرت کے آغاز ميں قانوني حيثيت سے متعارف اور شناختہ شدہ تھا پھر فتح مکّہ کے بعداس کي مدت تمام ہوگئي اور يہ حکم منسوخ ہو گيا، خدا وند عالم سورۂ انفال کي 72 ويں 75 ويں آيت تک اس کي خبر ديتے ہوئے فرماتا ہے:
    (اِنّ الذين آمنو أوھاجروا)
    وہ لوگ جو ايمان لائے اور مکّہ سے ہجرت کي۔
    (واّلذين آووا ونصروا)
    ..............
    (1)بقرہ 183
    (2) بقرہ 178
    (3) بقرہ 275.


    اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دي اور نصرت فرمائي يعني مدينہ ميں پيغمبر ۖکے انصار ۔
    (أولآء ک بعضھم أولياء بعض)
    ان لوگوں ميں بعض ، بعض کے وارث اور ولي ہيں،يعني ميراث لينے اور نصرت کرنے کي ولايت رکھتے ہيں.
    ( والذين آمنوا ولم يھاجروا مالکم من ولايتھم من شيئٍ حتّيٰ يھاجروا… والذين کفروا بعضھم أولياء بعض)
    جن لوگوں نے ايمان قبول کيا ليکن ہجرت نہيں کي تم لوگ کسي قسم کي ولايت ان کي بہ نسبت نہيں رکھتے، يہاں تک کہ وہ ہجرت کريں... اور جو لوگ کافر ہو گئے ہيںاُن ميں سے بعض، بعض کے ولي اور سرپرست ہيں۔
    پھر خدا نے اس حکم کے نسخ ہونے کو اس طرح بيان فرمايا ہے :
    (وأولوا الأرحام بعضھم أولي ببعض في کتا ب اﷲ)
    اقرباء کتاب الٰہي ميں آپس ميں ايک دوسرے کي بہ نسبت اوليٰ اور سزاوار ترہيں۔
    يعني ان احکام ميں جنھيں خدا وند عالم نے تمام انسانوں کے لئے مقرر فرمايا ہے اقرباء کو حق تقدم اور اولويت حاصل ہے۔(1)
    خلاصہ، قوم يہود نے جب قرآن کي الٰہي آيات کو سنا اور ديکھا کہ صفات قرآن جو کچھ حضرت خاتم الانبياء ۖ کي بعثت کے متعلق ان کے پاس موجود ہے اس کي تصديق اور اس کاا ثبات کر رہے ہيں تو وہ اس کے منکر ہوگئے اور بولے: ہم صرف اس توريت پر جو ہم پر نازل ہوئي ہے ايمان رکھتے ہيں اور اس کے علاوہ انجيل اور قرآن پر ايمان و يقين نہيں رکھتے ،خدا وندعالم نے بھي قرآن کي روشن آيات اور اسکے معجزات اور احکا م کے ارسال کي خبر ديتے ہوئے فرماتا ہے: فاسقوں(کافروں )کے سوا کوئي اس کا منکر نہيں ہوگا اور پھر فرمايا: ہم شريعت کے ہر حکم کو نسخ کرتے ہيں( جيسے بيت المقدس کے قبلہ ہونے کے حکم کا منسوخ ہونا) ياہم اسے مؤخرکرتے ہيں تواُس سے بہتر يااسي جيسا حکم لوگوں کے لئے پيش کرتے ہيں ، خدا وند عالم خود زمين و آسمان کا مالک ہے ،وہ جو چاہتا ہے انجام ديتا ہے يہود و نصاريٰ رسول اﷲ ۖ سے ہر گز راضي نہيں ہوںگے مگر يہ کہ جوان پر احکام نازل ہوئے ہيںان سے دست بردار ہو جائيں اوران کي شريعت کے احکام کے پابند ہوجائيں۔
    خدا وندعالم اسي مفہوم کي دوسرے انداز ميں تکرار کرتے ہوئے سورئہ اسراء ميں فرماتا ہے:
    ..............
    (1)اس آيت کي تفسير کے لئے مجمع البيان ، تفسير طبري اور دوسري روائي تفاسيرکي جانب رجوع کيجئے.


    (و آتينا موسيٰ الکتاب و جعلنا ہ ھديً لبني اِسرائيل) (1)
    ہم نے موسيٰ کو کتا ب دي اوراسے بني اسرائيل کي ہدايت کا ذريعہ بنايا،پھر فرماتا ہے :
    (انّ ھذا القرآن يھدي للتي ھي اقوم)(2)
    يہ قرآن محکم اور استوارترين راہ کي ہدايت کرتا ہے،يعني قرآن کا راستہ اس سے وسيع اوراستوارتر ہے جو موسي کي کتاب ميںآيا ہے۔
    ہم نے ربوبيت کے مباحث ميں بات يہاں تک پہنچائي کہ رب العالمين نے انسان کے لئے اسکي فطرت اور سرشت کے مطابق ايک نظام معين کيا ہے پھر راہ عمل ميں ان مقررات اور قوانين کي طرف راہنمائي فرمائي ہے ، انشاء اﷲ آئندہ بحث ميں اس بات کي تحقيق و بر رسي کريں گے کہ رب العالمين کس طرح سے انسان کو دنيا و آخرت ميں پاداش و جزا ديتا ہے۔
    ..............
    (1) اسرائ2
    (2)اسرائ9


    منبع : اسلام کے عقائد ، جلد2، مؤلّف : علّامہ سيد مرتضيٰ عسکري
يعمل...
X