بسم اللہ الرحمن الرحيم
اللھم صلي علي محمد وال محمد
اللھم صلي علي محمد وال محمد
حضرت امام علي رضا عليہ السلام ولادت باسعادت
علماء ومورخين کابيان ہے کہ آپ بتاريخ 11/ ذي قعدہ 153 ھ يوم پنجشنبہ بمقام مدينہ منورہ متولدہوئے ہيں (اعلام الوري ص 182 ، جلاء اليعون ص 280 ،روضة الصفاجلد 3 ص 13 ، انوارالنعمانيہ ص 127)
آپ کي ولادت کے متعلق علامہ مجلسي اورعلامہ محمدپارساتحريرفرماتے ہيں کہ جناب ام البنين کاکہناہے کہ جب تک امام علي رضا عليہ السلام ميرے بطن ميں رہے مجھے گل کي گرانباري مطلقا محسوس نہيں ہوئي،ميں اکثرخواب ميں تسبيح وتہليل اورتمہيدکي آوازيں سناکرتي تھي جب امام رضا عليہ السلام پيداہوئے توآپ نے زمين پرتشريف لاتے ہي اپنے دونوں ہاتھ زمين پرٹيک دئے اوراپنا فرق مبارک آسمان کي طرف بلندکرديا آپ کے لبہائے مبارک جنبش کرنے لگے ،ايسامعلوم ہوتاتھاکہ جيسے آپ خداسے کچھ باتيں کررہے ہيں ، اسي اثناء ميں امام موسي کاظم عليہ السلام تشريف لائے اورمجھ سے ارشادفرماياکہ تمہيں خداوندعالم کي يہ عنايت وکرامت مبارک ہو،پھرميں نے مولودمسعودکوآپ کي آغوش ميں ديديا آپ نے اس کے داہنے کان ميں اذان اوربائيں کان ميں اقامت کہي اس کے بعدآپ نے ارشادفرماياکہ”بگير اين راکہ بقيہ خدااست درزمين حجت خداست بعدازمن“ اسے لے لويہ زمين پرخداکي نشاني ہے اورميرے بعدحجت اللہ کے فرائض کاذمہ دار ہے ابن بابويہ فرماتے ہيں کہ آپ ديگرآئمہ عليہم السلام کي طرح مختون اورناف بريدہ متولدہوئے تھے(فصل الخطاب وجلاء العيون ص 279) غ”
نام ،کنيت،القاب
آپ کے والدماجدحضرت امام موسي کاظم عليہ السلام نے لوح محفوظ کے مطابق اورتعيين رسول صلعم کے موافق آپ کو”اسم علي“ سے موسوم فرمايا،آپ آل محمد،ميں کے تيسرے ”علي“ ہيں (اعلام الوري ص 225 ،مطالب السئول ص 282) غ”
آپ کي کنيت ابوالحسن ہے اورآپ کے القاب صابر،زکي،ولي،رضي،وصي تھے واشہرھاالرضاء اورمشہورترين لقب رضا ہے
(نورالابصارص 128 وتذکرة خواص الامة ص 198) غ”
لقب رضاکي توجيہ
علامہ طبرسي تحريرفرماتے ہيں کہ آپ کورضااس ليے کہتے ہيں کہ آسمان وزمين ميں خداوعالم ،رسول اکرم اورآئمہ طاہرين،نيزتمام مخالفين وموافقين آپ سے راضي تھے (اعلام الوري ص 182) علامہ مجلسي تحريرفرماتے ہيں کہ بزنطي نے حضرت امام محمدتقي عليہ السلام سے لوگوں کي افواہ کاحوالہ ديتے ہوئے کہاکہ آپ کے والدماجدکولقب رضاسے مامون رشيدنے ملقب کياتھا آپ نے فرماياہرگزنہيں يہ لقب خداورسول کي خوشنودي کاجلوہ بردارہے اورخاص بات يہ ہے کہ آپ سے موافق ومخالف دونوں راضي اورخوشنودتھے
(جلاء العيون ص 279 ،روضة الصفاجلد 3 ص 12) غ”
آپ کي تربيت
آپ کي نشوونمااورتربيت اپنے والدبزرگوارحضرت امام موسي کاظم عليہ السلام کے زيرسايہ ہوئي اوراسي مقدس ماحول ميں بچپنااورجواني کي متعددمنزليں طے ہوئيں اور 30 برس کي عمرپوري ہوئي اگرچہ آخري چندسال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسي کاظم اعراق ميں قيدظلم کي سختياں برداشت کررہے تھے مگراس سے پہلے 24 يا 25/ برس آپ کوبرابراپنے پدربزرگوارکے ساتھ رہنے کاموقع ملاغ”
بادشاہان وقت
آپ نے اپني زندگي کي پہلي منزل سے تابہ عہدوفات بہت سے بادشاہوں کے دورديکھے آپ 153 ھ ميں بہ عہدمنصوردوانقي متولدہوئے (تاريخ خميس) 158 ھ ميں مہدي عباسي 169 ھ ميں ہادي عباسي 170 ھ ميں ہارون رشيدعباسي 194 ھئميں امين عباسي 198 ھئمامون رشيد عباسي علي الترتيب خليفہ وقت ہوتے رہے (ابن الوردي حبيب السيرابوالفداء)غ”
آپ نے ہرايک کادوربچشم خودديکھااورآپ پدربزرگوارنيزديگراولادعلي وفاطمہ کے ساتھ جوکچھ ہوتارہا،اسے آپ ملاحظہ فرماتے رہے يہاں تک کہ 230 ھ ميں آپ دنياسے رخصت ہوگئے اورآپ کوزہردے کرشہيدکردياگياغ”
جانشيني
آپ کے پدربزرگوارحضرت امام موسي کاظم عليہ السلام کومعلوم تھا کہ حکومت وقت جس کي باگ ڈوراس وقت ہارون رشيدعباسي کے ہاتھوں ميں تھي آپ کوآزادي کي سانس نہ لينے دے گي اورايسے حالات پيش آجائيں گے کہ آب کي عمرکے آخري حصہ ميں اوردنياکوچھوڑنے کے موقع پردوستان اہلبيت کاآپ سے ملنايابعدکے ليے راہنماکادريافت کرناغيرممکن ہوجائے گااس ليے آپ نے انہيں ازادي کے دنوں اورسکون کے اوقات ميں جب کہ آپ مدينہ ميں تھے پيروان اہلبيت کواپنے بعدہونے والے امام سے روشناس کرانے کي ضرورت محسوس فرمائي چنانچہ اولادعلي وفاطمہ ميں سے سترہ آدمي جوممتازحيثيت رکھتے تھے انہيں جمع فرماکراپنے فرزندحضرت علي رضاعليہ السلام کي وصايت اورجانشيني کااعلان فرماديا اورايک وصيت نامہ تحريرابھي مکمل فرمايا جس پرمدينہ کے معززين ميں سے ساٹھ آدميوں کي گواہي لکھي گئي يہ اہتمام دوسرے آئمہ کے يہاں نظرنہيں آيا صرف ان خصوصي حالات کي بناء پرجن سے دوسرے آئمہ اپني وفات کے موقعہ پردوچارنہيں ہونے والے تھےغ”
امام موسي کاظم کي وفات اورامام رضاکے درامامت کاآغاز
183 ھ ميں حضرت اما م موسي کاظم عليہ السلام نے قيدخانہ ہارون رشيدميں اپني عمرکاايک بہت بڑاحصہ گذارکردرجہ شہادت حاصل فرمايا، آپ کي وفات کے وقت امام رضاعليہ السلام کي عمرميري تحقيق کے مطابق تيس سال کي تھي والدبزرگوارکي شہادت کے بعدامامت کي ذمہ دارياں آپ کي طرف منتقل ہوگئيں يہ وہ وقت تھا جب کہ بغدادميں ہارون رشيدتخت خلافت پرمتمکن تھا اوربني فاطمہ کے ليے حالات بہت ہي ناسازگارتھےغ”
ہاروني فوج اورخانہ امام رضاعليہ السلام
حضرت امام موسي کاظم عليہ السلام کے بعد دس برس ہارون رشيدکادوررہايقينا وہ امام رضاعليہ السلام کے وجودکوبھي دنياميں اسي طرح برداشت نہيں کرسکتاتھا جس طرح اس کے پہلے آپ کے والدماجدکارہنااس نے گوارانہيں کيامگرياتوامام موسي کاظم عليہ السلام کے ساتھ جو طويل مدت تک تشدداورظلم ہوتارہا اورجس کے نتيجہ ميں قيدخانہ ہي کے اندرآپ دنياسے رخصت ہوگئے اس سے حکومت وقت کي عام بدنامي ہوگئي تھي اورياواقعي ظالم کو بدسلوکيوں کااحساس اورضميرکي طرف سے ملامت کي کيفيت تھي جس کي وجہ سے کھلم کھلاامام رضاکے خلاف کوئي کاروائي نہيں کي تھي ليکن وقت سے پہلے اس نے امام رضاعليہ السلام کوستانے ميں کوئي دقيقہ فروگزاشت نہيں کياحضرت کے عہدہ امامت کوسنبھالتے ہي ہارون رشيدنے آپ کاگھرلٹواديا،اورعورتوں کے زيوارت اورکپڑے تک اترواليے تھےغ”
تاريخ اسلام ميں ہے کہ ہارون رشيدنے اس حوالہ اوربہانے سے کہ محمدبن جعفرصادق عليہ السلام نے اس کي حکومت وخلافت سے انکارکردياہے ايک عظيم فوج عيسي جلودي کي ماتحتي ميں مدينہ منورہ بھيج کرحکم دياکہ علي و فاطمہ کي تمام اولادکي بالکل ہي تباہ وبربادکردياجائے ان کے گھروں ميں آگ لگادي جائے ان کے سامان لوٹ ليے جائيں اورانہيں اس درجہ مفلوج اورمفلوک کردياجائے کہ پھران ميں کسي قسم کے حوصلہ کے ابھرنے کاسوال ہي پيدانہ ہوسکے اورمحمدبن جعفرصادق کوگرفتارکرکے قتل کردياجائے، عيسي جلودي نے مدينہ پہنچ کرتعميل حکم کي سعي بليغ کي اورہرممکن طريقہ سے بني فاطمہ کوتباہ وبربادکيا، حضرت محمدبن جعفرصادق عليہ السلام نے بھرپورمقابلہ کيا ليکن آخرميں گرفتار ہوکرہارون رشيدکے پاس پہنچاديئے گئےغ”
عيسي جلودي سادات کرام کولوٹ کرحضرت امام علي رضاعليہ السلام کے دولت کدہ پرپہنچااوراس نے خواہش کي کہ وہ حسب حکم ہارون رشيد،خانہ امام ميں داخل ہوکراپنے ساتھيوں سے عورتوں کے زيورات اورکپڑے اتارے ،امام عليہ السلام نے فرمايايہ نہيں ہوسکتا،ميں خودتمہيں ساراسامان لاکردئے ديتاہوں پہلے تووہ اس پرراضي نہ ہواليکن بعدميں کہنے لگاکہ اچھاآپ ہي اتارلائيے آپ محل سراميں تشريف لے گئے اورآپ نے تمام زيورات اورسارے کپڑے ايک سترپوش چادرکے علاوہ لاکرديديااوراسي کے ساتھ ساتھ اثاث البيت نقدوجنس يہاں تک کہ بچوں کے کان کے بندے سب کچھ اس کے حوالہ کردياوہ ملعون تمام سامان لے کر بغدادروانہ ہوگيا،يہ واقعہ آپ کے آغازامامت کاہےغ”
علامہ مجلسي بحارالانوارميں لکھتے ہين کہ محمدبن جعفرصادق کے واقعہ سے امام علي رضا عليہ السلام کاکوئي تعلق نہ تھا وہ اکثراپنے چچامحمدکو خاموشي کي ہدايت اورصبرکي تلقين فرماياکرتے تھے ابوالفرج اصفہاني مقاتل الطالبين ميں لکھتے ہيں کہ محمدبن جعفرنہايت متقي اورپرہيزگارشخص تھے کسي ناصبي نے دستي کتبہ لکھ کر مدينہ کي ديواروں پرچسپاں کردياتھا جس ميں حضرت علي وفاطمہ کے متعلق ناسزاالفاظ تھے يہي آپ کے خروج کاسبب بناغ”
آپ جب نمازکونکلتے تھے توآپ کے ساتھ دوسوصلحاواتقياہواکرتے تھے علامہ شبلنجي لکھتے ہيں کہ امام موسي کاظم عليہ السلام کي وفات کے بعدصفوان بن يحي نے حضرت امام علي رضاعليہ السلام سے کہاکہ مولاہم آپ کے بارے ميں ہارون رشيدسے بہت خائف ہيں ہميں ڈرہے کہ يہ کہيں آپ کے ساتھ وہي سلوک نہ کرے جوآپ کے والدکے ساتھ کرچکاہے حضرت نے ارشادفرماياکہ يہ تواپني سعي کرے گاليکن مجھ پرکامياب نہ ہوسکے گاچنانچہ ايساہي ہوااورحالات نے اسے کچھ اس اس درجہ آخرميں مجبورکردياتھا کہ وہ کچھ بھي نہ کرسکايہاں تک کہ جب خالدبن يحي برمکي نے اس سے کہاکہ امام رضااپنے باپ کي طرح امرامامت کااعلان کرتے اوراپنے کوامام زمانہ کہتے ہيں تواس نے جواب دياکہ ہم جوان کے ساتھ کرچکے ہيں وہي ہمارے ليے کافي ہے اب توچاہتاہے کہ ”ان نقتلہم جميعا“ ہم سب کے سب کوقتل کرڈاليں،اب ميں ايسانہيں کروں گا
(نورالابصارص 144 طبع مصر)غ”
علامہ علي نقي لکھتے ہيں کہ پھربھي ہارون رشيدکااہلبيت رسول سے شديداختلاف اورسادات کے ساتھ جوبرتاؤاب تک رہاتھا اس کي بناء پرعام طورسے عمال حکومت ياعام افرادبھي جنہيں حکومت کوراضي رکھنے کي خواہش تھي اہلبيت کے ساتھ کوئي اچھارويہ رکھنے پرتيارنہيں ہوسکتے تھے اورنہ امام کے پاس آزادي کے ساتھ لوگ استفادہ کے ليے آسکتے تھے نہ حضرت کوسچے اسلامي احکام کي اشاعت کے مواقع حاصل تھےغ”
ہارون کاآخري زمانہ اپنے دونوں بيٹوں،امين اورمامون کي باہمي رقابتوں سے بہت بے لطفي ميں گزرا،امين پہلي بيوي سے تھا جوخاندان شاہي سے منصوردوانقي کي پوتي تھي اوراس ليے عرب سردارسب اس کے طرف دارتھے اورمامون ايک عجمي کنيزکے پيٹ سے تھااس ليے دربارکاعجمي طبقہ اس سے محبت رکھتاتھا ،دونوں کي آپس کي رسہ کشي ہارون کے ليے سوہان روح بني ہوئي تھي اس نے اپنے خيال ميں اس کاتصفيہ مملکت کي تقسيم کے ساتھ يوں کردياکہ دارالسلطنت بغداداوراس کے چاروں طرف کے عربي حصہ جسے شام،مصرحجاز،يمن، وغيرہ محمدامين کے نام کئے اورمشرقي ممالک جيسے ايران،خراسان، ترکستان، وغيرہ مامون کے ليے مقررکئے مگريہ تصفيہ تواس وقت کارگرہوسکتاتھا جب جودونوں فريق ”جيواورجينے دو“ کے اصول پرعمل کرتے ہوتے ليکن جہاں اقتدارکي ہوس کارفرماہو، وہاں بني عباس ميں ايک گھرکے اندردوبھائي اگرايک دوسرے کے مدمقابل ہوں توکيوں نہ ايک دوسرے کے خلاف جارحانہ کاروائي کرنے پرتيارنظرآئے اورکيوں نہ ان طاقتوں ميں باہمي تصادم ہوجب کہ ان ميں سے کوئي اس ہمدردي اورايثاراورخلق خداکي خيرخواہي کابھي حامل نہيں ہے جسے بني فاطمہ اپنے پيش نظررکھ کراپنے واقعي حقوق سے چشم پوشي کرلياکرتے تھے اسي کانتيجہ تھا کہ ادھرہارون کي آنکھ بندہوئي اورادھربھائيوں ميں خانہ جنگيوں کے شعلے بھڑک اٹھے آخرچاربرس کي مسلسل کشمکش اورطويل خونريزي کے بعدمامون کوکاميابي حاصل ہوئي اوراس کابھائي امين محرم 198 ھ ميں تلواکے گھاٹ اتاردياگيااورمامون کي خلافت تمام بني عباس کے حدودسلطنت پرقائم ہوگئيغ”
يہ سچ ہے کہ ہارون رشيدکے ايام سلطنت ميں آپ کي امامت کے دس سال گزرے اس زمانہ ميں عيسي جلودي کي تاخت کے بعدپھراس نے آپ کے معاملات کي طرف بالکل سکوت اورخاموشي اختيارکرلي اس کي دووجہيں معلوم ہوتي ہيں:
اول تويہ کہ اس س سالہ زندگي کے ابتدائي ايام ميں وہ آل برامکہ کے استيصال رافع بن ليث ابن تيارکے غداورفسادکے انسدادميں جوسمرقندکے علاقہ سے نمودارہوکرماوراء النہراورحدودعرب تک پھيل چکاتھاايساہمہ وقت اورہمہ دم الجھارہاکہ پھراس کوان امورکي طرف توجہ کرنے کي ذرابھي فرصت نہ ملي
دوسرے يہ کہ اپني دس سالہ مدت کے آخري ايام ميں يہ اپنے بيٹوں ميں ملک تقسيم کردينے کے بعدخودايساکمزوراورمجبور ہو گيا تھا کہ کوئي کام اپنے اختيارسے نہيں کرسکتاتھانام کابادشاہ بنابيٹھاہوا،اپني زندگي کے دن نہايت عسرت اورتنگي کي حالتوں ميں کاٹ رہاتھااس کے ثبوت کے ليے واقعہ ذيل ملاحظہ فرمائيں:
صباح طبري کابيان ہے کہ ہارون جب خراسان جانے لگا توميں نہروان تک اس کي مشايعت کوگياراستہ ميں اس نے بيان کياکہ اےصباح تم اب کے بعدپھرمجھے زندہ نہ پاؤگے ميں نے کہااميرالمومنين ايساخيال نہ کريں آپ انشاء اللہ صحيح وسالم اس سفرسے واپس آئيں گے يہ سن کراس نے کہاکہ شايدتجھ کوميراحال معلوم نہيں ہے آؤ ميں دکھادوں ،پھرمجھے راستہ کاٹ کرايک سمت درخت کے نيچے لے گيااوروہاں سے اپنے خواصوں کوہٹاکرآپنے بدن کاکپڑااٹھاکرمجھے دکھايا،توايک پارچہ ريشم شکم پرلپيٹاہواتھا،اوراس سے سارابدن کساہواتھا يہ دکھاکرمجھ سے کہاکہ ميں مدت سے بيمارہوں تمام بدن ميں درداٹھتاہے مگرکسي سے اپناحال نہيں کہہ سکتاتمہارے پاس بھي يہ رازامانت رہے ميرے بيٹوں ميں سے ہرايک کاگماشتہ ميرے اوپرمقررہے ماموں کي طرف سے مسرور،امين کي جانب سے بختيشوع ،يہ لوگ ميري سانس تک گنتے رہتے ہيں ،اورنہيں چاہتے کہ ميں ايک روزبھي زندہ رہوں، اگرتم کويقين نہ ہوتوديکھوميں تمہارے سامنے گھوڑاسوارہونے کومانگتاہوں ،ايسالاغرٹٹوميرے ليے لائيں گے جس پرسوارہوکرميں اورزيادہ بيمارہوجاؤں،يہ کہہ کرگھوڑاطلب کياواقعي ايساہي لاغراڑيل ٹٹوحاضرکيااس پرہارون نے بے چون وچراسوارہوگيااورمجھ کووہاں سے رخصت کرکے جرجان کاراستہ پکڑليا
(لمعة الضياء ص 92) غ”
بہرحال ہارون رشيدکي يہي مجبورياں تھيں جنہوں نے اس کوحضرت امام علي رضاعليہ السلام کے مخالفانہ امورکي طرف متوجہ نہيں ہونے دياورنہ اگراسے فرصت ہوتي اوروہ اپني قديم ذي اختياري کي حالتوں پرقائم رہتاتواس سلسلہ کي غارت گري وبربادي کوکبھي بھولنے والانہيں تھا، مگراس وقت کياکرسکتاتھا اپنے ہي دست وپااپنے اختيارميں نہيں تھے بہرحال حارون رشيداسي ضيق النفس مجبوري ناداري اوربے اختياري کي غيرمتحمل مصيبتوں ميں خراسان پہنچ کرشروع 193 ھ مرگياغ”
ان دونوں بھائيوں امين اورمامون کے متعلق مورخين کاکہناہے کہ مامون توپھربھي سوجھ بوجھ اوراچھے کيرکٹرکاآدمي تھا ليکن امين عياش،لاابالي اورکمزور طبيعت کاتھا سلطنت کے تمام حصوں ،بازي گر،مسخرے اورنجومي جوتشي بلوائے، نہايت خوبصورت طوائف اورنہايت کامل گانے واليوں اورخواجہ سراوں کوبڑي بڑي رقميں خرچ کرکے اورناٹک کي ايک محفل مثل اندرسبھاکے ترتيب دي،يہ تھيٹر اپنے زرق برق سامانوں سے پريوں کااکھاڑاہوتاتھا سيوطي نے ابن جريرسے نقل کياہے کہ امين اپني بيويوں اورکنيزوں کوچھوڑکرخصيوں سے لواطت کرتاتھا (تاريخ اسلام جلد 1 ص 60) غ”
امام علي رضاکاحج اورہارون رشيدعباسي
زمانہ ہارون رشيدميں حضرت امام علي رضاعليہ السلام حج کے ليے مکہ معظمہ تشريف لے گئے اسي سال ہارون رشيدبھي حج کے ليے آياہواتھا خانہ کعبہ ميں داخلہ کے بعد امام علي رضاعليہ السلام ايک دروازہ سے اورہارون رشيد دوسرے دروازہ سے نکلے امام عليہ السلام نے فرماياکہ يہ دوسرے دروازہ سے نکلنے والاجوہم سے دورجارہاہے عنقريب طوس ميں دونوں ايک جگہ ہوں گے ايک روايت ميں ہے کہ يحي ابن خالدبرمکي کوامام عليہ السلام نے مکہ ميں ديکھاکہ وہ رومال سے گردکي وجہ سے منہ بندکئے ہوئے جارہاہے آپ نے فرماياکہ اسے پتہ بھي نہيں کہ اس کے ساتھ امسال کياہونے والاہے يہ عنقريب تباہي کي منزل ميں پہنچادياجائے گاچنانچہ ايساہوي ہواغ”
راوي مسافرکابيان ہے کہ حج کے موقع پرامام عليہ السلام نے ہارون رشيدکوديکھ کراپنے دونوں ہاتھوں کي انگلياں ملاتے ہوئے فرماياکہ ميں اوريہ اسي طرح ايک ہوجائيں گے وہ کہتاہے کہ ميں اس ارشادکامطلب اس وقت سمجھاجب آپ کي شہادت واقع ہوئي اوردونوں ايک مقبرہ ميں دفن ہوئے موسي بن عمران کاکہناہے کہ اسي سال ہارون رشيدمدينہ منورہ پہنچااورامام عليہ السلام نے اسے خطبہ ديتے ہوئے ديکھ کرفرماياکہ عنقريب ميں اورہارون ايک ہي مقبرہ ميں دفن کئے جائيں گے (نورالابصار ص 144) غ”
حضرت امام رضا عليہ السلام کا مجدد مذہب اماميہ ہونا
حديث ميں ہرسوسال کے بعد ايک مجدداسلام کے نمودوشہودکانشان ملتاہے يہ ظاہرہے کہ جواسلام کامجددہوگااس کے تمام ماننے والے اسي کے مسلک پرگامزن ہوں گے اورمجددکاجوبنيادي مذہب ہوگااس کے ماننے والوں کابھي وہي مذہب ہوگا،حضرت امام رضاعليہ السلام جوقطعي طورپرفرزندرسول اسلام تھے وہ اسي مسلک پرگامزن تھے جس مسلک کي بنيادپيغمبراسلام اورعلي خيرالانام کاوجودذي وجودتھا يہ مسلمات سے ہے کہ آل محمدعليہم السلام پيغمبرعليہ السلام کے نقش قدم پرچلتے تھے اورانہيں کے خدائي منشاء اوربنيادي مقصدکي تبليغ فرماياکرتے تھے يعني آل محمدکامسلک وہ تھاجومحمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کامسلک تھاغ”
علامہ ابن اثيرجزري اپني کتاب جامع الاصول ميں لکھتے ہيں کہ حضرت امام رضا عليہ السلام تيسري صدي ہجري ميں اورثقة الاسلام علامہ کليني چوتھي صدي ہجري ميں مذہب اماميہ کے مجددتھے علامہ قونوي اورملامبين نے اسي کودوسري صدي کے حوالہ سے تحريرفرماياہے (وسيلةالنجات ص 376 ،شرح جامع صغير)غ”
محدث دہلوي شاہ عبدالعزيزابن اثيرکاقول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ ابن اثيرجذري صاحب جامع الاصول کہ حضرت امام علي بن موسي الرضامجددمذہب اماميہ دوقرن ثالث گفتہ است ابن اثيرجذري صاحب جامع الاصول نے حضرت امام رضاعليہ السلام کوتيسري صدي ميں مذہب اماميہ کامجددہوناظاہروواضح فرماياہے (تحفہ اثناعشريہ کيد 85 ص 83)
بعض علماء اہل سنت نے آپ کودوسري صدي کااوربعض نے تيسري صدي کامجدد بتلاياہے ميرے نزديک دونوں درست ہے کيوں کہ دوسري صدي ميں امام رضاعليہ السلام کي ولادت اورتيسري صدي کے آغازميں آپ کي شہادت ہوئي ہے غ”
حضرت امام رضاعليہ السلام کے اخلاق و عادات اورشمائل وخصائل
آپ کے اخلاق وعادات اورشمائل وخصائل کالکھنااس ليے دشوارہے کہ وہ بے شمارہيں ”مشتي نمونہ ازخرداري“يہ ہيں بحوالہ علامہ شبلنجي ابراہيم بن عباس تحرير فرماتے ہيں کہ حضرت امام علي رضاعليہ السلام نے کبھي کسي شخص کے ساتھ گفتگوکرنے ميں سختي نہيں کي،اورکبھي کسي بات کوقطع نہيں فرمايا آپ کے مکارم عادات سے تھا کہ جب بات کرنے والااپني بات ختم کرليتاتھا تب اپني طرف سے آغازکلام فرماتے تھے کسي کي حاجت روائي اورکام نکالنے ميں حتي المقدوردريغ نہ فرماتے ،کبھي ہمنشين کے سامنے پاؤں پھيلاکرنہ بيٹھتے اورنہ اہل محفل کے روبروتکيہ لگاکربيٹھتے تھے کبھي اپنے غلاموں کوگالي نہ دي اورچيزوں کاکياذکر،ميں نے کبھي آپ کے تھوکتے اورناک صاف کرتے نہيں ديکھا،آپ قہقہہ لگاکرہرگز نہيں ہنستے تھے خندہ زني کے موقع پرآپ تبسم فرماياکرتے تھے محاسن اخلاق اورتواضع وانکساري کي يہ حالت تھي کہ دسترخوان پرسائيس اوردربان تک کواپنے ساتھ بٹھاليتے ،راتوں کوبہت کم سوتے اوراکثرراتوں کوشام سے صبح تک شب بيداري کرتے تھے اکثراوقات روزے سے ہوتے تھے مگرہرمہينے کے تين روزےتوآپ سے کبھي قضانہيں ہوئے ارشادفرماتے تھے کہ ہرماہ ميں کم ازکم تين روزے رکھ ليناايساہے جيسے کوئي ہميشہ روزے سے رہے غ”
آپ کثرت سے خيرات کياکرتے تھے اوراکثررات کے تاريک پردہ ميں اس استحباب کوادافرماياکرتے تھے موسم گرماميں آپ کافرش جس پرآپ بيٹھ کرفتوي ديتے يامسائل بيان کياکرتے بورياہوتاتھااورسرماميں کمبل آپ کايہي طرزاس وقت بھي رہا جب آپ ولي عہدحکومت تھے آپ کالباس گھرميں موٹااورخشن ہوتاتھا اوررفع طعن کے ليے باہرآپ اچھالباس پہنتے تھے ايک مرتبہ کسي نے آپ سے کہاکہ حضوراتنا عمدہ لباس کيوں استعمال فرماتے ہيں آپ نے اندرکاپيراہن دکھلاکرفرمايااچھالباس دنياوالوں کے ليے اورکمبل کاپيراہن خداکے ليے ہےغ”
علامہ موصوف تحريرفرماتے ہيں کہ ايک مرتبہ آپ حمام ميں تشريف رکھتے تھے کہ ايک شخص جندي نامي آگيااوراس نے بھي نہاناشروع کيادوران غسل ميں اس نے بھي نہاناشروع کيادوران غسل ميں اس نے امام رضاعليہ السلام سے کہاکہ ميرے جسم پرپاني ڈالئے آپ نے پاني ڈالناشروع کيااتنے ميں ايک شخص نے کہااے جندي فرزندرسول سے خدمت لے رہاہے ارے يہ امام رضاہيں، يہ سنناتھا کہ وہ پيروں پرگرپڑااورمعافي مانگنے لگا
(نورالابصار ص 38،39) غ”
ايک مردبلخي ناقل ہے کہ حضرت کے ساتھ ايک سفرميں تھاايک مقام پردسترخوان بچھاتوآپ نے تمام غلاموں کوجن ميں حبشي بھي شامل تھے بلاکربٹھلالياميں نے عرض کيامولاانہيں عليحدہ بٹھلائيں توکياحرج ہے آپ نے فرماياکہ سب کارب ايک ہے اورماں باپ آدم وحوابھي ايک ہيں اور جزاوسزا اعمال پرموقوف ہے، توپھرتفرقہ کياآپ کے ايک خادم ياسرکاکہناہے کہ آپ کايہ تاکيدي حکم تھا کہ ميرے آنے پرکوئي خادم کھاناکھانے کي حالت ميں ميري تعظيم کونہ اٹھےغ”
معمر بن خلادکابيان ہے کہ جب بھي دسترخوان بچھتاآپ ہرکھانے ميں سے ايک ايک لقمہ نکال ليتے تھے ،اوراسے مسکينوں اوريتيموں کوبھيج دياکرتے تھے شيخ صدوق تحريرفرماتے ہيں کہ آپ نے ايک سوال کاجواب ديتے ہوئے فرماياکہ بزرگي تقوي سے ہے جومجھ سے زيادہ متقي ہے وہ مجھ سے بہترہےغ”
ايک شخص نے آپ سے درخواست کي کہ آپ مجھے اپني حيثيت کے مطابق کچھ مال عنايت کيجيے، فرمايايہ ممکن ہے چنانچہ آپ نے اسے دوسواشرفي عنايت فرمادي، ايک مرتبہ نويں ذي الحجہ يوم عرفہ آپ نے راہ خداميں ساراگھرلٹاديا يہ ديکھ کرفضل بن سہيل وزيرمامون نے کہاحضرت يہ توغرامت يعني اپنے آپ کونقصان پہنچاناہے آپ نے فرمايايہ غرامت نہيں ہے غنيمت ہے ميں اس کے عوض ميں خداسے نيکي اورحسنہ لوں گاغ”
آپ کے خادم ياسرکابيان ہے کہ ہم ايک دن ميوہ کھارہے تھے اورکھانے ميں ايساکرتے تھے کہ ايک پھل سے کچھ کھاتے اورکچھ پھينک ديتے ہمارے اس عمل کوآپ نے ديکھ ليا اورفرمايانعمت خداکوضائع نہ کروٹھيک سے کھاؤ اورجوبچ جائے اسے کسي محتاج کوديدو،آپ فرماياکرتے تھے کہ مزدورکي مزدوري پہلے طے کرناچاہئے کيونکہ ںچکائي ہوئي اجرت سے زيادہ جوکچھ دياجائے گاپانے والااس کوانعام سمجھے گاغ”
صولي کابيان ہے کہ آپ اکثرعودہندي کابخورکرتے اورمشک وگلاب کاپاني استعمال کرتے تھے عطريات کاآپ کوبڑاشوق تھانمازصبح اول وقت پڑھتے اس کے بعدسجدہ ميں چلے جاتے تھے اورنہايت ہي طول ديتے تھے پھرلوگوں کوپندونصائح فرماتےغ”
سليمان بن جعفرکاکہناہے کہ آپ آباؤاجدادکي طرح خرمے کوبہت پسندفرماتے تھے آپ شب وروزميں ايک ہزاررکعت نمازپڑھتے تھے جب بھي آپ بسترپرليٹتے تھے تابہ خواب قرآن مجيدکے سورے پڑھاکرتے تھے موسي بن سيار کاکہناہے کہ آپ اکثراپنے شيعوں کي ميت ميں شرکت فرماتے تھے اورکہاکرتے تھے کہ ہرروزشام کے وقت امام وقت کے سامنے شيعوں کے اعمال پيش ہوتے ہيں اگرکوئي شيعہ گناہ گارہوتاہے توامام اس کے ليے استغفارکرتے ہيں علامہ طبرسي لکھتے ہيں کہ آپ کے سامنے جب بھي کوئي آتاتھا آپ پہچان ليتے تھے کہ مومن ہے يامنافق (اعلام الوري، تحفہ رضويہ ،کشف الغمہ ص 112) غ”
علامہ محمدرضا لکھتے ہيں کہ آپ ہرسوال کاجواب قرآن مجيدسے ديتے تھے اورروزانہ ايک قرآن ختم کرتے تھے (جنات الخلود ص 31) غ”
حضرت امام رضاعليہ السلام کاعلمي کمال
مورخين کابيان ہے کہ آل محمدکے اس سلسلہ ميں ہرفردحضرت احديت کي طرف سے بلندترين علم کے درجے پرقرارديا گياتھاجسے دوست اوردشمن کومانناپڑتاتھا يہ اوربات ہے کہ کسيکوعلمي فيوض پھيلانے کازمانے نے کم موقع ديا اورکسي کوزيادہ، چنانچہ ان حضرات ميں سے امام جعفرصادق عليہ السلام کے بعداگرکسي کوسب سے زيادہ موقع حاصل ہواہے تو وہ حضرت امام رضاعليہ السلام ہيں ،جب آپ امامت کے منصب پرنہيں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسي کاظم عليہ السلام اپنے تمام فرزندوں اورخاندان کے لوگوں کو نصيحت فرماتے تھے کہ تمہارے بھائي علي رضا عالم آل محمدہيں، اپنے دين مسائل کوان سے دريافت کرلياکرو، اورجوکچھ اسے کہيں يادرکھو،اورپھرحضرت امام موسي کاظم عليہ السلام کي وفات کے بعد جب آپ مدينہ ميں تھے اورروضہ رسول پرتشريف فرمارہے تھے توعلمائے اسلام مشکل مسائل ميں آب کي طرف رجوع کرتے تھےغ”
محمدبن عيسي يقطيني کابيان ہے کہ ميں نے ان تحريري مسائل کو جوحضرت امام رضاعليہ السلام سے پوچھے گئے تھے اورآپ نے ان کاجواب تحريرفرماياتھا،اکھٹا کياتواٹھارہ ہزارکي تعدادميں تھے، صاحب لمعة الرضاء تحريرکرتے ہيں کہ حضرت آئمہ طاہرين عليہم السلام کے خصوصيات ميں يہ امرتمام تاريخي مشاہداورنيزحديث وسيرکے اسانيدمعتبرسے ثابت ہے ،باوجوديکہ اہل دنياکوآپ حضرات کي تقليداورمتابعت في الاحکام کابہت کم شرف حاصل تھا،مگرباين ہمہ تمام زمانہ وہرخويش وبيگانہ آپ حضرات کوتمام علوم الہي اوراسرارالہي کاگنجينہ سمجھتاتھا اورمحدثين ومفسرين اورتمام علماء وفضلاء جوآپ کے مقابلہ کادعوي رکھتے تھے وہ بھي علمي مباحث ومجالس ميں آپ حضرات کے آگے زانوئے ادب تہ کرتے تھے اورعلمي مسائل کوحل کرنے کي ضرورتوں کے وقت حضرت اميرالمومنين عليہ السلام سے لے کرامام زين العابدين عليہ السلام تک استعفادے کئے وہ سب کتابوں ميں موجودہےغ”
جابربن عبداللہ انصاري اورحضرت امام محمدباقرعليہ السلام کي خدمت ميں سمع حديث کے واقعات تمام احاديث کي کتابوں ميں محفوظ ہيں ،اسي طرح ابوالطفيل عامري اورسعيدين جبيرآخري صحابہ کي تفصيل حالات جوان بزرگون کے حال ميں پائے جاتے ہيں وہ سيروتواريخ ميں مذکورومشہورہيں صحابہ کے بعدتابعين اورتبع تابعين اوران لوگوں کي فيض يابي کي بھي يہي حالت ہے ،شعبي ،زہري، ابن قتيبہ ،سفيان ثوري،ابن شيبہ ،عبدالرحمن ،عکرمہ،حسن بصري ،وغيرہ وغيرہ يہ سب کے سب جواس وقت اسلامي دنياميں دينيات کے پيشوااورمقدس سمجھے جاتے تھے ان ہي بزرگوں کے چشمہ فيض کے جرعہ نوش اورانہي حضرات کے مطيع وحلقہ بگوش تھے غ”
جناب امام رضاعليہ السلام کواتفاق حسنہ سے اپنے علم وفضل کے اظہارکے زيادہ موقع پيش آئے کيوں کہ مامون عباسي کے پاس جب تک دارالحکومت مروتشريف فرمارہے، بڑے بڑے علماء وفضلاء علوم مختلفہ ميں آپ کي استعداداور فضيلت کااندازہ کراياگيااورکچھ اسلامي علماء پرموقوف نہيں تھا بلکہ علماء يہودي ونصاري سے بھي آپ کامقابلہ کراياگيا،مگران تمام مناظروں ومباحثوں مين ان تمام لوگوں پرآ پ کي فضيلت وفوقيت ظاہرہوئي،خودمامون بھي خلفائے عباسيہ ميں سب سے زيادہ اعلم وافقہ تھا باوجوداس کے تبحرفي العلوم کالوہامانتاتھا اورچاروناچاراس کااعتراف پراعتراف اوراقرارپراقرارکرتاتھا چنانچہ علامہ ابن حجرصواعق محرقہ ميں لکھتے ہيں کہ آپ جلالت قدرعزت وشرافت ميں معروف ومذکورہيں ،اسي وجہ مامون آپ کوبمنزلہ اپني روح وجان جانتاتھا اس نے اپني دخترکانکاح آنحضرت عليہ السلام سے کيا،اورملک ولايت ميں اپناشريک گردانا، مامون برابرعلماء اديان وفقہائے شريعت کوجناب امام رضاعليہ السلام کے مقابلہ ميں بلاتااورمناظرہ کراتا،مگرآپ ہميشہ ان لوگوں پرغالب آتے تھے اورخودارشادفرماتے تھے کہ ميں مدينہ ميں روضہ حضرت رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں بيٹھتا،وہاں کے علمائے کثيرجب کسي علمي مسئلہ ميں عاجزآجاتے توبالاتفاق ميري طرف رجوع کرتے،جواب ہائے شافي دےکران کي تسلي وتسکين کرديتاغ”
ابوصلت ابن صالح کہتے ہيں کہ حضرت امام علي بن موسي رضاعليہماالسلام سے زيادہ کوئي عالم ميري نظرسے نہيں گزرا ،اورمجھ پرموقوف نہيں جوکوئي آپ کي زيارت سے مشرف ہوگا وہ ميري طرح آپ کي اعلميت کي شہادت دے گاغ”