إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

امام محمد تقي عليہ السلام

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • امام محمد تقي عليہ السلام

    اناللہ وانا اليہ راجعون

    حضرت امام محمد تقي ،جواد الائمہ عليہ السلام ماہ رجب سن195 هجري قمري ميں پيدا ھوئے
    اور آخر ذيقعدہ سن220 هجري قمري ميں شھادت کے درجہ پر فائز ھوئے، آپ کي عظمت کے سلسلہ ميں گفتگو بہت زيادہ ليکن قلم ناتواں ھے، يھاں تک کہ آپ کي ولادتِ باسعادت کے موقع پر آپ کے والد گرامي حضرت امام رضا عليہ السلام نے مولود خواني ميں فرمايا کہ شيعوں کے لئے ان سے زيادہ بابرکت کوئي بھي بچہ پيدا نھيں ھوا ھے۔
    آپ کي نوراني اور خير و برکت والي زندگي ميں ايک دوسرا نکتہ يہ ھے کہ آپ نو سال کي عمر ميں امامت کے درجہ پر فائز ھوئے۔ جي ھاں، نبوت و امامت جيسے الٰھي منصب ميں عمر کي کوئي قيد نھيں ھے، خداو ندعالم ايک نبي يا امام کے تمام خصوصيات جيسے علم و عصمت کو بچپن ميں يا نو مولود بچہ کو بھي عطا کرسکتا ھے، (جيسا کہ حضرت عيسيٰ عليہ السلام نے گھوارہ ميں کلام کيا کہ خدانے مجھے نبي بنا کر بھيجا ھے) حضرت امام جواد عليہ السلام بھي امام رضا عليہ السلام کي شھادت کے بعد بچپن ميں امامت کے درجہ پر فائز ھوئے ۔
    حالانکہ ظالموں اور ستمگروں نے آپ کو زيادہ دن جينے نہ ديا اور جواد الائمہ عليہ السلام 25سال کي عمر ميں شھيد کردئے گئے ليکن آپ کے مکارم اخلاق اور آپ کے بہت سے فضائل و مناقب نيز آپ کے معجزات و کرامات شيعہ سني کتابوں ميں منقول ھيں، منجملہ يہ کہ:
    مامون عباسي نے بڑے بڑے علماءاھل سنت کو جمع کيا تاکہ وہ آپ کا امتحان لے سکے، اگرچہ آپ کم سن تھے۔ يحييٰ بن اکثم (دربار کے بڑے عالم) نے حج کے سلسلہ ميں ايک سوال کيا، چنانچہ امام عليہ السلام سے دقيق اور مستحکم جواب سن کر اُسے آپ کے علم و دانش پر بہت تعجب ھوا اور اس کے چہرہ پر عجز و ناتواني اور شکست کے آثار دکھائي دے رھے تھے۔1
    سر انجام آخري ذي ذيقعدہ سن 220 هجري قمري ميں آپ کو خليفہ عباسي کي سازش سے آپ کي زوجہ امّ فضل کے ذريعہ زہر ديا گيا جس کے ذريعہ آپ شھيد ھوگئے۔
    آپ کا روضہ مبارک آپ کے داد ا حضرت امام موسيٰ کاظم عليہ السلام کے برابر ميں شہر کاظمين ميں اھل بيت عليھم السلام کے دوستداروں کي زيارت گاہ بنا ھوا ھے۔
يعمل...
X