بسم اللہ الرحمن الرحيم
اللھم صلي علي محمد وال محمد
اللھم صلي علي محمد وال محمد
کتاب "ھواتف جن" ميں سلمان محمد عليہ الرحمہ سے روايت ہے کہ ايک مرتبہ ھم رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ کے ساتھ بارش ميں ساتھ تھے کہ ايک نداء غيبي آئي کہ : السلام عليک يا رسول اللہ
آپ صلي اللہ عليہ والہ نے سلام جواب ديا اور سوال کيا کہ تم کون ہو؟
جواب آيا کہ ميں " عطرفہ بن شمراخ بني نجاح کے قبيلے سے ہوں ۔
آپ صلي اللہ عليہ والہ نے فرمايا کہ اللہ تعالي تمہارے چہرے پر رحمت فرمائے کہ ہمارے لئے ظاہر ہوجاؤ ۔ پس سلمان روايت کرتے ہيں کہ ہم نے ديکھا کہ ايک انتہائي بوڑھا شخص اور اس کا چہرہ اس کے بالوں سے ڈھکا ہوااور اس کي آنکھيں (عمر رسيدگي کي وجہ سے) لٹکي ہوئي اور اس کے ہونٹ اس کے سينے پر لٹکے ہوئے تھے اور ناخن کسي حيوان کے ناخن کي مانند تھے اس بوڑھے شخص نے کہا کہ ميرے ساتھ کسي کو بھيجيں تاکہ وہ ميري قوم کو دين اسلام کي ہدايت کرے اور ميں اسے صحيح سالم واپس لے آؤنگا ۔
پس رسول اکرم صلي اللہ عليہ والہ نے اپنے اصحاب سے سوال کيا کہ تم ميں سے کون ہے جو جنات کو تبليغ کرے اور اجر ميں جنت پائے پس دوسري اور تيسري مرتبہ سوال کيا مگر کسي کو ہمت نہ ہوئي آخر حضرت علي ابن ابيطالب عليہ السلام نے فرمايا کہ ميں جاؤنگا ۔
پس رسول اکرم صلي اللہ عليہ والہ جن کيطرف متوجہ ہوئے اور فرمايا کہ ميں آج کي رات تمہارے ساتھ ايسے شخص کو بھيج رہا ہوں جو ميرے حکم کے مطابق تم ميں فيصلہ کريگا اورميري زبان ميں تم سے کلام کريگا اور ميري طرف سے تم ميں تبليغ دين کريگا ۔
پس جن غائب ہوگيا اور رات ميں واپس لوٹا اوروہ ايک ايسے اونٹ پر سوار تھا جو کہ شکل ميں بھيڑ کي مانند تھا اور اونچائي ميں گھوڑے کے مساوي تھا ۔
سلمان محمدي روايت کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلي اللہ عليہ والہ حضرت علي ابن ابيطالب عليہ السلام کو اس پر سوار کيا اور پھر مجھے (سلمان عليہ الرحمہ) حضرت عليہ السلام کے پيچھے سوار کيا اور آنکھيں ڈھک ديں
اور فرمايا کہ تب تک آنکھيں مت کھولنا جب تک حضرت علي عليہ السلام اذان نہ ديں اور جو کچھ سنائي دے اس سے مت گھبرانا کيونکہ تم امان ميں ہو پس وہ اونٹ چلا اور ايکدم انتہائي تيز رفتاري سے دوڑنا شروع کيا اور اس دوران حضرت علي عليہ السلام قران کريم کي تلاوت کرتے رہے ۔ اسي طرح ہم نے ساري رات سفر کيا حتي کہ صبح ہوگئي اور اميرالمومنين عليہ السلام نے اذان دي اور اونٹ رک گيا ۔
پس امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا : اے سلمان سواري سے اترآؤ ۔
پس سلمان نے اپني آنکھيں کھوليں اور اونٹ سے اتر آئے اور کيا ديکھتے ہيں کہ ايک بستي ميں ہيں پس نماز کي ادائيگي کے لئے صفيں بچھ گئيں اور نماز باجماعت ادا ہوئي اور ميں آخر نماز تک اس(جن) کي طرف ملتفت نہ ہوا يہاں تک کہ اس نے مجھے نماز کے آخر ميں سلام کيا اور کيا ديکھا کہ ايک عظيم خلق ہے اور پھر حضرت علي عليہ السلام نے تسبيح الہي شروع کي حتي کہ صبح ہوگئي اور ان ميں سے ايک خطيب بلند ہوا اور قوم سے خطاب شروع کيا اور جونہي اس نے دليليں پيش کيں حضرت عليہ السلام نے ان جھوٹي دليلوں کو رد کرديا پس اس(ميزبان جن)نے آپ عليہ السلام کو دعوت خطاب دي ۔
آپ عليہ السلام منبر پر رونما ہوئے اور فرمايا : کيا تم قران کريم سے جنگ کرتے ہو؟ اور حق سے روگرداني کرتے ہو؟ اور اللہ کيا آيات سے جہاد کرتے ہو ؟
پس آپ عليہ السلام نے اللہ تعالي سے دعا کے لئے ہاتھ بلند کيا ۔
اور فرمايا :
" اللهم بالكلمة العظمى ، والأسماء الحُسنى ، والعزائم الكُبرى ، والحي القيوم ، مُحيي الموتى ، ومميت الأحياء ، ورب الأرض والسماء ، ياحرسة الجن ، ورصدة الشياطين ، وخدام الله ، وذوي الأرواح الطاهرة ، أهبطوا بالجمرة التي لا تطفأ ، والشاب الثاقب ، والشواظ المحرق ، والنحاس القاتل ، بكهيعص ، والطواسين ، والحواميم ، ويس ، ون والقلم وما يسطرون ، والذاريات ، والنجم إذا هوى ، والطور وكتاب مسطور في رق منشور والبيت المعمور ، والأقسام العظام ، ومواقع النجوم ، لما أسرعتم الإغدار الى المردة المتولعين المتكبرين الجاحدين آثار رب العالمين
پس سلمان کہتے ہيں کہ ميں نے محسوس کيا کہ زمين ميرے نيچے سے ہل رہي ہے اور فضا ميں ايک انتہائي خوفناک آواز سنائي دي اور اچانک فضا سے آگ گري اور جس جس جن نے اسے ديکھا اسے جلا کر بھسم کرگئي اور اس خوف سے ميں اپنے منہ کے بل گر پڑا اور جب افاقہ ہوا تو ديکھا کہ زمين سے دھواں اٹھ رہا ہے
اور حضرت علي عليہ السلام نے بلند آواز سے انہيں مخاطب کيا کہ اپنے سروں کو بلند کرو اور ديکھو کہ اللہ تعالي نے ظالموں کو ھلاک کرديا ہے اور پھر حضرت علي عليہ السلام اپنے خطبہ کو جاري رکھتے ہوئے فرمايا کہ اے قوم جنات اور شياطين اور بني جمراخ اور آل نجاح اور ويران جگہوں ، ريتلي زمينوں اور تمام علاقوں کے شياطين کو کہا کہ پس زمين آج کے روز عدل و انصاف سے پر ہوگئي کہ جس طرح يہ ظلم و جور سے بھري ہوئي تھي اور يہي حق ہے اور حق سے روگرداني کرنا گمراہي کے سوا کچھ نہيں ہے تب سب نے يک زبان ہوکر عرض کي کہ ہم اللہ تعالي اور اس کے رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ پر ايمان لے آئے ہيں
پس جب ہم مدينہ ميں داخل ہوئے تو رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ نے واقعہ حال پوچھا ۔
حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا کہ وہ لوگ ايمان لائے
پس نبي کريم صلي اللہ عليہ والہ نے فرمايا کہ يہ قوم ہميشہ قيامت تک ثابت قدم رہيں گے ۔