بسم اللہ الرحمن الرحيم
اللھم صلي علي محمد وآل محمد
اللھم صلي علي محمد وآل محمد
اسلامي تعليمات ميں جن اعمال کو مقدس ترين عبادات ميں شمار کيا گيا ہے اور جن کےانجام دينے پر تاکيد کي گئي ہے ان ميں اوليائے الہي اور آئمۂ معصوميں عليہم السلام کي زيارت بھي شامل ہے چچہلم کے دن حضرت امام حسين عليہ السلام کي زيارت مؤمن کي علامت ميں سے ہے۔
اسلامي تعليمات ميں جن اعمال کو مقدس ترين عبادات ميں شمار کيا گيا ہے اور جن کےانجام دينے پر تاکيد کي گئي ہے ان ميں اوليائے الہي اور آئمۂ معصوميں عليہم السلام کي زيارت بھي شامل ہے۔ معصوميں عليہم السلام کي زيارات ميں امام حسين عليہ السلام کي زيارت کو خصوصي اہميت حاصل ہے؛ چنانچہ کسي بھي امام معصوم (ع) کي زيارت پر اتني تأکيد نہيں کي گئي جتني کہ سيدالشہداء حضرت امام حسين عليہ السلام کي زيارت پر تاکيد کي گئي ہے۔
امام صادق عليہ السلام نے ابن بُکَير سے ـ جو امام حسين عليہ السلام کي راہ ميں خوف و ہراس کے بارے ميں بتارہے تھے ـ سے ارشاد فرمايا: « اما تحب ان يراک اللہ فينا خائفا ؟ اما تعلم انہ من خاف لخوفنا اظلہ اللہ في عرشہ ؛ کيا تم پسند نہيں کرتے ہو کہ خداوند متعال تمہيں ہماري راہ ميں خوف و ہراس کي حالت ميں ديکھے؟ کيا تم نہيں جانتے ہو کہ جو ہمارے خوف کي بنا پر خائف ہوا اللہ تعالي اپنے عرش ميں اس کے سر پر سايہ ڈالے گا؟» چونکہ اللہ تعالي نے لوگوں کے دلوں کو امام حسين عليہ السلام کے عشق سے مالامال کيا ہے اور عشق بہرصورت عاشق کو دوست کي منزل تک پہنچا ہي ديتا ہے لہذا عاشقان حسيني نے پہلے اربعين ہے سے ـ اموي ستم کي حکمراني اور ہر گونہ خفيہ اور اعلانيہ دباؤ کے باوجود ـ زيارت سيدالشہداء عليہ السلام کي راہ پر گامزن ہوئے اور آج تک ہر مسلمان مرد اور عورت کي دلي آرزو امام حسين عليہ السلام کي زيارت ہوتي ہے۔
زيارت امام حسين عليہ السلام کے برکات و اثرات
اسلامي روايات ميں امام حسين عليہ السلام کے لئے بہت سے آثار و برکات بيان ہوئي ہيں؛ بشرطيکہ زيارت ميں تقرب اور اخلاص کے ساتھ ساتھ معرفت اور شناخت کا عنصر شامل ہو۔
علامہ محمد باقر مجلسي رحمةاللہ عليہ سے منقول ہے:
1۔ اللہ تعالي نے اپنے مقرب فرشتوں سے مخاطب ہوکر فرمايا: «کيا تم امام حسين عليہ السلام کے زائرين کو نہيں ديکھ رہے ہو کہ کس طرح شوق و شعف کے ساتھ ان کي زيارت کے لئے آتے ہيں؟»
2۔ «امام حسين عليہالسلام کا زائر عرش کي بلنديوں پر اپنے خالق سے ہم کلام ہوگا»۔
3۔ «امام حسين عليہالسلام کے زائر کو بہشت برين ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور آپ (ص) کے خاندان پاک کي مجاورت اور ہمسائگي کا اعزاز حاصل ہوگا اور وہ ان کا مہمان ہوگا»۔
4۔ «امام حسين عليہالسلام کا زائر اللہ کے محترم فرشتوں کے مقام تک رفعت مقام پائے گا»۔
زيارت اربعين ہر مؤمن کي علامت
مؤمن کي ايک نشاني اربعين کے روز زيارت امام حسين عليہ السلام ہے۔ جيسا کہ اشارہ ہوا امام حسن عسکري عليہ السلام سے روايت ہوئي ہے کہ مؤمن کي پانچ نشانياں ہيں: شب و روز کے دوران 51 رکعات نماز واجب و نماز مستحب، زيارت اربعين (روز اربعين زيارت امام حسين عليہ السلام)، دائيں ہاتھ کي انگلي ميں انگشتري پہننا، سجدے کے وقت پيشاني خاک پر رکھنا اور نماز ميں بسم اللہ الرحمن الرحيم بلند آواز سے تلاوت کرنا» چنانچہ بزرگان دين نے زيارت اربعين کو شيعيان اہل بيت عليہم السلام کے فرائض ميں گردانا ہے۔