انا للہ وانا اليہ راجعون
حضرت امام حسن کي ہجرت کے تيسرے سال پندرہ رمضان المبارک کومدينے ميں ولادت ہوئي اور 40ھ کو امامت ملي ، آپ کي مدت امامت دس سال ہے ، آخر کار 28 صفر 50ھ کو 47يا 48 سال کي عمر ميں امير شام معاويہ کے حکم سے بذريعہ جعدہ زہردياگيا اور مدينہ منورہ ميں شہادت ہوئي ،آپ کا مرقد جنت البقيع ميں ہے ۔ آپ حضرت علي عليہ السلام کي شہادت کے بعد مسلسل دشمنوں کے مصائب کا نشانہ رہے، خاص طور سے امير شام کے ظلم و ستم برداشت کرتے رہے ۔ آپ نے صرف چھ مہينے خلافت کي اور صلح کے بعد مدينہ چلے گئے اور تا عمروہيں رہے ۔ امير شام کي سازش معاويہ بن ابي سفيان کي قاتلانہ سازش يہ تھي کہ اس نے تہيہ کر ليا تھا کہ پوشيدہ طريقے سے امام حسن عليہ السلام کو قتل کر ديا جائے اپنے اس ارادے کو پورا کرنے کے لئے اس نے چار منافقوں کا الگ الگ انتخاب کيا ، ہر ايک سے کہا کہ اگر تم نے حسن بن علي کو قتل کر ديا تو ميں تمہيں دو لاکھ درہم اور شام کا فوجي افسر بنا دوں گا ۔ اس کے علاوہ اپني بيٹي سے شادي کردوں گا ۔ ان چار کا نام تھا ۔1۔ عمر و بن حريث۔2۔ اشعث بن قيس ۔3۔ حجر بن الحارث اور ۔4۔ شبث بن ربعي ۔ معاويہ نے جن انعامات کا اعلان کيا تھا انہيں حاصل کرنے کے لئے ان سب نے حامي بھر لي ۔ معاويہ نے ان سب پر جاسوس مقرر کر ديئے جو پوشيدہ طريقے پر ان کي کارکردگي کي رپورٹ معاويہ کو بھيجتے رہتے تھے۔ امام حسن عليہ السلام کو اس سازش کي خبر ہو گئي۔ آپ ہر وقت لباس کے اندر زرہ پہنتے تھے يہاں تک کہ اسي زرہ ميں آپ نماز بھي پڑھتے تھے، آخر ايک سازشي نے حالت نماز ميں آپ پر تير چلا ديا ، ليکن اس زرہ کي وجہ سے تير کا زخم بدن پر نہ لگا ۔ خوارج کي سازش دوسري طرف خوارج آپ کي گھات ميں تھے ، يعني وہي تقدس مآب جاہل افراد آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے، ان کا بہانہ يہ تھا کہ آپ نے معاويہ سے جنگ کيوں نہيں کي ، وہ آپ کو ( معاذ اللہ )مشرک و مذل المومنين پکارتے تھے ۔ انہيں خوارج ميں ايک جراح بن سنان نامي شخص نے ساباط ( مدائن ) ميں سر راہ امام حسن کا لجام فرس پکڑ ليا اور تلوار سے آپ کو اس طرح مارا کہ ران کا گوشت شگافتہ ہو کرتلوار استخوان تک پہونچ گئي۔ اس موقع پر امام حسن کے ايک صحابي عبد اللہ بن خطل نے لپک کر تلوار اس کے ہاتھ سے چھين لي اور اسے اور اس کے ايک دوسرے ساتھي کو موقع پر قتل کر ديا ۔حضرت امام حسن عليہ السلام کو مدائن کے گورنر سعد بن مسعود ثقفي کے مکان پر لے گئے اور آپ کا علاج کرايا گيا ۔ حضرت امام حسن عليہ السلام کو شہيد کرنے کي ايک اور سازش جعدہ بنت اشعث حضرت امام حسن عليہ السلام کي زوجہ تھي ، معاويہ نے اسے ايک لاکھ درہم بھيجےاور پيغام بھيجا کہ اگر حسن ابن علي کو زہر ديدوگي تو تمہاري شادي اپنے بيٹے يزيد سے کردوں گا ، جعدہ نے معاويہ کي يہ پيش کش قبول کر لي ۔ معاويہ نے جعدہ کے پاس سيّال زہر بھيجا، امام حسن روزے سے تھے ، گرمي کا موسم تھا، حضرت امام حسن عليہ السلام حسب معمول اس دن روزے سے تھے چنانچہ افطارکے وقت جعدہ نے وہ زہر دودھ ميں ملا کر امام کي خدمت ميں پيش کيا ، امام نے اسے پيا تو فوراً زہر محسوس کر ليا، جعدہ سے فرمايا: تو نے مجھے قتل کيا ، خدا تجھے قتل کرے ، خدا کي قسم تيري آرزو پوري نہ ہو گي ، خدا تجھے ذليل کرے گا۔ دو روز کے بعد آپ نے اسي زہر سے شہادت پائي ۔ معاويہ نے جعدہ سے جو قول و قرار کيا تھا اسے پورا نہ کيا، يزيد سے اس کي شادي نہيں کي، اس نے امام حسن کے بعد خاندان طلحہ کے ايک شخص سے شادي کر لي، اور اس سے کئي بچے ہوئے،جب ان بچوں کے خاندان اور خاندان قريش کے درميان تکرار ہوتي تو انہيں کہا جاتا يا بني مسمّة الازواج ( اے ايسي عورت کے بيٹو جو اپنے شوہروں کو زہر ديتي ہيں )۔ (ارشاد شيخ مفيد،ج2 ص13 پر روايت ہے کہ جعدہ معاويہ کے پاس گئي اور کہا :ميري يزيد سے شادي کردو۔ اس نے جواب ديا : اذھبي فان الامرأة لا تصلح للحسن بن علي لا تصلح لابني يزيد دفع ہو جا ! تيري جيسي عورت جب حسن بن علي سے نباہ نہ کر سکي تو ميرے بيٹے يزيد سے کيا نباہ کرے گي۔ ايک دوسري روايت ميں حضرت صادق آل محمد کا ارشاد ہے کہ جس وقت امام حسين اپنے بھائي کے سرہانے آئے اور حالت ديکھي تو رونے لگے ۔ امام حسن نے پوچھا ۔بھائي کيوں روتے ہو ؟ امام حسين نے کہا : کيسے گريہ نہ کروں کہ آپ کو مسموم ديکھ رہا ہوں، لوگوں نے مجھ سے ميرے بھائي کو چھين ليا ہے۔ امام حسن نے فرمايا : ميرے بھائي ! اگر چہ مجھے زہر ديا گيا ہے ليکن جو کچھ پاني ، دودھ ، دوا وغيرہ چاہوں يہاں مہيّا ہے۔ بھائي، بہنيں اور خاندان کے افراد ميرے پاس موجود ہيں، ليکن لا يوم کيومک يا ابا عبداللّہ اے ابا عبد اللہ! تمہاري طرح ميري حالت تو نہيں ہے ، تم پر تيس ہزار اشقياء کا ہجوم ہوگا جو دعويٰ کريں گے کہ ہم امت محمدي ہيں۔ وہ تمہارا محاصرہ کر کے قتل کريں گے ، تمہارا خون بہائيں گے، تمہاري عورتوں اور بچوں کو اسير کريں گے، تمہارا مال لوٹ ليں گے، اس وقت بني اميہ پر خدا کي لعنت روا ہو گي۔ ميرے بھائي تمہاري شہادت دلگداز ہے کہ و يبکي عليک کلّ شئي حتيٰ الوحش في الفلوات و الحيتان في البحار تم پر تمام چيزيں گريہ کريں گي يہاں تک کہ حيوانات صحرائي و دريائي تمہاري مصيبت پر روئيں گي۔ خونِ جگر طشت ميں جنادہ بن اميہ روايت کرتا ہے کہ جس بيماري ميں امام حسن نے شہادت پائي ، ميں انکي عيادت کے لئے گيا، ميں نے ديکھا کہ آپ کے پاس طشت رکھا ہے جس ميں گلے سے خون کے لوتھڑے گر رہے ہيں، جس ميں آپ کے جگر کے ٹکڑے تھے، ميں نے عرض کي : اے مولا ! علاج کيوں نہيں کرتے ؟ فرمايا : اے بندۂ خدا ! موت کا علاج کس چيز سے کروں ؟ اس کے بعد ميں نے عرض کي: مولا ! مجھے موعظہ فرمايئے ۔فرمايا : اے جنادہ ! آخرت کے سفر کے لئے آمادہ ہو جاؤ اور عمر ختم ہونے سے پہلے توشۂ آخرت حاصل کرلو۔ سمجھ لو کہ تم دنيا کي طلب ميں ہو اور موت تمہاري طلب ميں ہے ،کبھي آنے والے کل کا غم آج نہ کرو ۔ جنادہ کہتے ہيں کہ ناگاہ ميں نے ديکھا کہ امام حسين حجرے ميں تشريف لائے حالانکہ امام حسن کا رنگ زرد ہو گيا تھا ،سانسيں رک رہي تھيں، امام حسين نے خود کو بھائي کے بدن پر گرا ديا اور سر آنکھوں کا بوسہ دينے لگے ،تھوڑي دير آپ کے پاس بيٹھکر راز کي باتيں کرتے رہے ۔ شہادت امام حسن پر امير شام کي خوشي معاويہ بن ابي سفيان کو شہادت حضرت امام حسن عليہ السلام کي خبر ملي تو بہت خوش ہوا ۔ سجدے ميں گر کر شکر خدا بجالايا ۔ پھر تکبير کہي ۔ اس وقت ابن عباس شام ميں تھے ۔ معاويہ نے انہيں بلايا اور بڑے مسرور انداز ميں تعزيت پيش کي۔ پھر ابن عباس سے پوچھا حسن بن علي کي عمر کتني تھي ؟ ابن عباس نے جواب ديا ۔ تمام قريش کے لوگ ان کے سن و سال سے آگاہ ہيں ۔ تعجب ہے کہ تم ناواقفيت ظاہر کر رہے ہو ۔ معاويہ نے کہا : سنا ہے کہ حسن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہيں ؟ ابن عباس نے کہا: ہر چھوٹا بڑا ہوتا ہے اور يہ سمجھ لو کہ ہمارے بچے بھي بوڑھوں کي طرح ہوتے ہيں ۔ سچ بتاؤ کہ وفات حسن سے تم اتنے خوش کيوں ہو؟ خدا کي قسم ان کي موت تمہارے اجل کو ٹالے گي نہيں نہ ان کي قبر تمہاري قبر کو بھرے گي ۔ سچ تو يہ ہے کہ ان کے بعد ميري اور تمہاري عمر کس قدر مختصر ہے ۔ شہادت کے بعد ايک روايت ہے کہ شہادت کے بعد جب حضرت امام حسن عليہ السلام کے جنازے کو قبر رسول (ص)کي طرف لے چلے تو حاکم مدينہ مروان اور اس کے ساتھيوں نے يقين کر ليا کہ امام حسن کو قبر رسول (ص)کے پہلو ميں دفن کرنا چاہتے ہيں، انہوں نے تياري شروع کر دي اور لباس جنگ پہن کر بني ہاشم کے سامنے آگئے، ام المومنين عائشہ خچر پرسوار ہو کر فرياد کر رہي تھيں ، مجھے پسند نہيں کہ اپنے فرزند کو ميرے گھر ميں لاؤ ۔ مروان نے کہا : کتنے ہي موقعے ہوتے ہيں کہ جنگ آسائش سے بہتر ہوتي ہے، کيا عثمان مدينے کے کنارے دفن ہوں اورحسن پيغمبر کے قريب دفن کئے جائيں ؟ جب تک ميرے ہاتھ ميں تلوار ہے ايسا نہيں ہونے دوں گا ۔ قريب تھا کہ بني ہاشم اور بني اميہ ميں شديد جنگ چھڑ جائے کہ عبد اللہ بن عباس نے مروان سے جا کر کہا : اے مروان ! ہم چاہتے ہيں کہ قبر رسول (ص) پر تجديد عہد کريں، ہم امام حسن کو پہلوئے رسول(ص) ميں دفن نہيں کرنا چاہتے ۔ محدث قمي نے مناقب بن شہر آشوب کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت امام حسن عليہ السلام کےجنازۓ پر تير باراني بھي ہوئي اور دفن کے وقت ستر تير آپ کے جسد مبارک سے نکالے گئے ۔ اسي لئے زيارت جامعہ ميں پڑھتے ہيں: تم ( خاندان نبوت والو ) ميں سے کسي کو محراب عبادت ميں سر شگافتہ کيا گيا، دوسرے کو تابوت کے اندر تير باراني کي گئي ،کسي کو بعد قتل نوک نيزہ پر سر بلند کيا گيا ۔ اور بعض کو زندان کے گوشے ميں کھينچا گيا اور اعضاء کو لوہے کا فشار ديا گيا ۔ يا زہر کے اثر سے داخلي طور سے قطع قطع کيا گيا ۔ امام حسين جنازے کو بقيع ميں گئے اور جدۂ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے پہلو ميں دفن کيا گيا ۔ مرثيۂ امام حسين عليہ السلام امام حسين عليہ السلام نے جنازے کو تابوت ميں رکھتے ہوئے يہ اشعار پڑھے : کيا ميں سر ميں تيل لگاؤں يا ريش کو عطر سے خوشبودار کروں ؟ جبکہ ميں آپ کے سر کو مٹي ميں ديکھ رہا ہوں اور آپ کو کٹي شاخ يا پتے کي طرح ديکھ رہا ہوں ۔ جب تک کبوتر کي آواز گونجے گي اور شمالي و جنوبي ہوا چلے گي ميں آپ پر روتا رہوں گا۔ ميرا گريہ طولاني ہے، ميرے آنسو رواں ہيں ، آپ مجھ سے دور ہيں اور قبر نزديک ہے ۔ جس کا مال چھين ليا گيا ہو ، غارت شدہ نہيں ہے ، بلکہ غارت شدہ وہ ہے جو اپنے بھائي کو خاک ميں لٹائے۔
إعـــــــلان
تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.
شہادت حضرت امام حسن عليہ السلام
تقليص