إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

بلا جواز مقدمہ فدک

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • بلا جواز مقدمہ فدک

    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اللھم صلي علي محمد وآل محمد

    فدک خيبر کے مشرق اور مدينه منوره سے 20 فرسخ (120 کيلوميٹر) کے فاصلے پر واقع ايک سرزمين کا نام ہے. اس علاقے ميں رسول الله کے دور ميں پاني کا چشمه تھا؛ نخلستان تھا؛ کھيتي باڑي کے لئے زرخيز خطه بھي تھا اور يہاں رہنے کے لئے ايک رہائشي قلعہ بھي تھا جہاں يہودي رہائش پذير تھے.
    متن:
    مقدمہ فدک کے فقہي اور قانوني نقائص

    شايد خليفہ اول کے فيصلےکے بے بنياد ہونے کي اصلي ترين دليل يه ہو که تاريخ نے اس فيصلے کو کبھي تسليم نہيں کيا اور فدک کئي بار اهل بيت عليهم السلام کو واپس کرديا گيا.
    فدک خيبر کے مشرق اور مدينه منوره سے 20 فرسخ (120 کيلوميٹر) کے فاصلے پر واقع ايک سرزمين کا نام ہے. اس علاقے ميں رسول الله کے دور ميں پاني کا چشمه تھا؛ نخلستان تھا؛ کھيتي باڑي کے لئے زرخيز خطه بھي تھا اور يہاں رہنے کے لئے ايک رہائشي قلعہ بھي تھا جہاں يہودي رہائش پذير تھے.
    غزوہ خيبر ميں (لشکر اسلام کے سپہ سالاروں کي ناکامي کے بعد) جب علي عليہ السلام کي سرکردگي ميں خيبر کے قلعات يکے بعد ديگرے فتح ہوئے تو فدک کي يہودي – جنہوں نے جنگ خيبر ميں خيبر کے يہوديوں کو تعاون کا وعدہ ديا تھا؛ بغير جنگ و خونريزي کے رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے سامنے ہتھيار ڈال کر جنگ سے دستبردار ہوئے؛ چنانچہ فدک کا علاقہ جنگ کے بغير ہي رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے سپرد کيا گيا. اور سورہ حشر کي آيات 6 اور 7 کي مطابق حکم الہي سے يہ سرزمين رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي ملکيت خاص قرار پائي. ان آيات کے مطابق مسلمان اور مجاہدين کے لئے – جنگوں ميں ملنے والي غنيمت کے برعکس – اس سرزمين ميں کوئي حصہ قرار نہيں ديا گيا.

    سني اور شيعہ مؤرخين اور راويوں کا اتفاق ہے کہ سورہ اسراء کي آيت 26 کے نزول کے بعد رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کو اپنے پاس بلايا اور اپني اس ذاتي ملکيت يعني فدک کي وسيع و عريض اور زرخيز زمينيں آپ (س) کو بخش ديں اور يہ زمينيں سيدہ کي ملکيت ميں آگئيں.

    نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي وفات کے بعد خليفہ اول نے کچھ افراد فدک روانہ کئے اور مالکہ يعني سيدہ سلام اللہ عليہا کے وکلاء کو وہاں سے نکال باہر کرکے اس علاقے کو غصب کرديا. سيدہ نے ابوبکر کے پاس جاکر اپنا حق چھينے جانے کي شکايت کي اور ابوبکر نے فيصلہ سنايا جو سب کو معلوم ہے.

    سماعتي ضوابط اور عدالتي کاروائي کي قواعد کي رو سي ابوبکر کا فيصلہ متعدد اور عدالتي خاميوں اور نواقص کا مجموعہ ہے؛ جيسا کہ:
    1- اسلامي سماعتي رويئے اور فقہي قواعد کے مطابق اگر کسي شخص کے قبضے ميں کوئي مال يا جائيداد ہو (مثلا ايک مکان اس کے تصرف ميں ہو) اور دوسرا شخص اس پر اپني مالکيت کا دعوي کرے مدعي کا فرض ہے کہ وہ اپنا دعوي ثابت کرے اور گواہ پيش کرے اور جو شخص متصرفِ مال و مِلک ہے اس پر اس طرح کا کوئي فرض عائد نہيں ہوتا؛ جبکہ خليفہ اول نے اس مسلمہ اور حقيقي و يقيني قانون کے برعکس اپنا دعوي ثابت کرنے کے لئے کوئي شاہد و گواہ پيش نہيں کيا بلکہ سيدہ فاطمہ (س) سے گواہ پيش کرنے کا مطالبہ کيا.

    2- فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب تک متصرف جائداد کے خلاف کسي نے شکايت نہ کي ہو قاضي (يا حاکم) کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ اس کے خلاف کوئي اقدام کرے. اور يہ ايک ناقابل انکار حقيقت ہے کہ سيدہ کے خلاف کسي نے بھي جاکر دربار خليفہ ميں شکايت نہيں کي تھي.

    3- خليفہ خود ہي مدعي بھي تھے اور قاضي بھي! اور يہ امر اسلامي فقہ کي رو سے ہرگز مجاز نہيں ہے.

    4-قاضي کو مدعي اور مدعي عليہ کا موقف سن کر فيصلہ کرنا چاہئے اور اس کے بعد حکم پر عملدر آمد کرانا چاہئے؛ جبکہ اس مخصوص مسئلے ميں شکايت، فرد جرم عائد کرنے، فيصلہ سنانے اور ديگر مراحل طے کرنے سے قبل ہي خليفہ نے فدک کو اپنے قبضے ميں لے رکھا تھا اور يہ امر بھي عدالتي معياروں سے مطابقت نہيں رکھتا.

    5- قانون کے مطابق جب قاضي خود حقيقت کا علم رکھتا ہو. وہ اپنے علم کے مطابق فيصلہ کرسکتا ہے. خليفہ آيت تطہير کے ظاہر و مفہوم کے تحت بخوبي جانتے تھے کہ حضرت فاطمہ (س) ، معصومہ اور طاہرہ ہيں اور کبھي جھوٹ نہيں بولتيں مگر انہوں نے سيدہ کي بات قبول کرنے سے صاف انکار کيا اور ان سے گواہ پيش کرنے کا مطالبہ کيا!

    6- گو کہ گواہ پيش کرنے کي ذمہ داري خليفہ پر عائد ہوتي تھي (کيونکہ مدعي وہي تھے)، سيدہ فاطمہ (س) نے دو گواہ پيش کئے:«حضرت علي عليہ السلام» اور رسول اللہ (ص) کي خادمہ «جناب ام ايمن».
    ان دو گواہوں ميں سے ايک بحکم آيت تطہير معصوم تھے اور دوسري ام ايمن تھيں جن کو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ني جنت کي بشارت سنائي تھي. آيت تطہير پر ايمان رکھنے والے ہر شخص کے لئے اس آيت کے مطابق، مصداق آيت "حضرت علي عليہ السلام" کي گواہي مفيدِ علم اور حجت تھي اور دو گواہوں کي گواہي کا نعم البدل ہوسکتي تھي. اسي طرح ام ايمن کي گواہي رسول اللہ (ص) کے وعدہ جنت کي رو سے اطمينان بخش تھي اور يہ گواہي دو عورتوں کي گواہي کا نعم البدل ہوسکتي تھي يا پھر ايک مرد (خواہ وہ علي عليہ السلام کي بجائے کوئي عام آدمي ہي کيوں نہ ہو) کي گواہي کو مکمل کرسکتي تھي. مگر تعجب و تأسف کا مقام ہے کہ خليفہ نے ان دو کي شہادت قبول نہيں کي اور کہا: ايک مرد اور ايک عورت کي گواہي قابل قبول نہيں ہے بلکہ دو مردوں يا ايک مرد اور دو عورتوں کو گواہي ديني چاہئے!!

    7- ہم (اِس زمانے ميں) جانتے ہيں (تو خليفہ بھي اُس دور ميں ضرور جانتے ہونگے) کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے جليل القدر صحابي «خزيمة بن ثابت» کي گواہي دو گواہوں کي گواہي کے بدلے قبول فرمائي جس کي وجہ سے خزيمہ ذوالشہادتين کے لقب سے مشہور ہوئے. اب سوال يہ ہے کہ کيا علي عليہ السلام کي گواہي / شہادت – جو سابق في الاسلام بھي تھے اور قرآن کي صريح گواہي کے مطابق معصوم بھي تھے – خزيمہ کي گواہي کے برابر بھي نہ تھي؟ !

    8- اسلامي سماعتي رويئے کے مطابق عدالت ميں مالکيت کے اثبات کے لئے دو مرد گواہوں کي ضرورت نہيں ہوتي؛ بلکہ ايک شاہد اور ايک قسم بھي کافي ہے؛ بالفاظ ديگر مال و جائداد کے مقدمات ميں "قسم" گواہي کو مکمل کر ديتي ہے اور فدک کا مسئلہ بھي مال و جائداد کا مسئلہ تھا.

    9- خليفہ اول و خليفہ دوئم کي رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے ساتھ کثرت مصاحبت کي بنا پر ان دونوں کو قطعي طور پر اس حقيقت سے آگاہي حاصل تھي کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فدک سيدہ فاطمةالزہراء سلام اللہ عليہا کو واگذار کيا تھا؛ ان دونوں کو اس حقيقت کا علم تھا مگر خليفہ نے سماعت کي متعدد خاميوں اور نواقص کے باوجود اپنے علم و يقين کے برعکس فيصلہ ديا.

    10- شايد خليفہ اول کے فيصلے کے بے بنياد ہونے کي اصلي ترين دليل يہ ہو کہ تاريخ نے اس فيصلے کو تسليم نہيں کيا اور فدک کئي بار اہل بيت عليہم السلام کو لوٹا ديا گيا. يہ کام سب سے پہلے عمربن عبدالعزيز نے کيا۔
يعمل...
X