إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

مبغض اہل بيت عليہم السلام کا انجام

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • مبغض اہل بيت عليہم السلام کا انجام

    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اللھم صلي علي محمد وآل محمد و عجل فرج آل محمد


    رسول اكرم(ص) شب معراج ميں آسمان پر گۓ تو ميں نے ديكھا كہ در جنت پر لكھا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، على حبيب اللہ الحسن والحسين (ع) صفوة اللہ ، فاطمة خيرة اللہ اور ان كے دشمنوں پر لعنة اللہ ۔
    رسول اكرم(ص) جب مجھے شب معراج آسمان پر لے جايا گيا تو ميں نے ديكھا كہ در جنت پر سونے كے پانى سے لكھا ہے، اللہ كے علاوہ خدا نہيں ۔ محمد(ص) اس كے رسول (ص) ہيں ، على (ع) اس كے ولى ہيں، فاطمہ (ع) اس كى كنيز ہيں، حسن (ع) و حسين (ع) اس كے منتخب ہيں اور ان كے دشمنوں پہ خدا كى لعنت ہے۔
    رسول اكرم (ص) ہر خاندان اپنے باپ كى طرف منسوب ہوتا ہے سوائے نسل فاطمہ (ع) كے كہ ميں ان كا ولى اور وارث ہوں اور يہ سب ميرى عترت ہيں ، ميرى بچى ہوئي مٹى سے خلق كئے گئے ہيں، ان كے فضل كے منكروں كے لئے جہنم ہے، ان كا دوست خدا كا دوست ہے اور ان كا دشمن خدا كا دشمن ہے۔
    رسول اكرم(ص) آگاہ ہوجاؤ كہ جو آل محمد (ص) سے نفرت كرے گا وہ روز قيامت اس طرح محشور ہوگا كہ اس كى پيشانى پر لكھا ہوگا 'رحمت خدا سے مايوس ہے
    روايت جرير بن عبداللہ، احقاق الحق 9 ص 487)امام على (ع) ہمارے دشمنوں كے لئے خدا كے غضب كے لشكر ہيں۔
    رسول اكرم(ص) شب معراج ميں آسمان پر گۓ تو ميں نے ديكھا كہ در جنت پر لكھا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، على حبيب اللہ الحسن والحسين (ع) صفوة اللہ ، فاطمة خيرة اللہ اور ان كے دشمنوں پر لعنة اللہ ۔
    رسول اكرم(ص) جب مجھے شب معراج آسمان پر لے جايا گيا تو ميں نے ديكھا كہ در جنت پر سونے كے پانى سے لكھا ہے، اللہ كے علاوہ خدا نہيں ۔ محمد(ص) اس كے رسول (ص) ہيں ، على (ع) اس كے ولى ہيں، فاطمہ (ع) اس كى كنيز ہيں، حسن (ع) و حسين (ع) اس كے منتخب ہيں اور ان كے دشمنوں پہ خدا كى لعنت ہے۔
    رسول اكرم (ص) ہر خاندان اپنے باپ كى طرف منسوب ہوتا ہے سوائے نسل فاطمہ (ع) كے كہ ميں ان كا ولى اور وارث ہوں اور يہ سب ميرى عترت ہيں ، ميرى بچى ہوئي مٹى سے خلق كئے گئے ہيں، ان كے فضل كے منكروں كے لئے جہنم ہے، ان كا دوست خدا كا دوست ہے اور ان كا دشمن خدا كا دشمن ہے۔
    رسول اكرم(ص) آگاہ ہوجاؤ كہ جو آل محمد (ص) سے نفرت كرے گا وہ روز قيامت اس طرح محشور ہوگا كہ اس كى پيشانى پر لكھا ہوگا 'رحمت خدا سے مايوس ہے
    رسول اكرم (ص) ہم اہلبيت (ع) كا دوست مومن متقى ہوگا اور ہمارا دشمن منافق شقى ہوگا۔
    رسول اكرم (ص) قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے۔ انسان كى روح اس وقت تك جسم سے جدا نہيں ہوتى ہے جب تك جنّت كے درخت يا جہنم كے زقوم كا مزہ نہ چكھ لے اور ملك الموت كے ساتھ مجھے على (ع) ، فاطمہ (ص) ، حسن (ع) اور حسين (ع) كو نہ ديكھ لے، اس كے بعد اگر ہمارا محب ہے تو ہم ملك الموت سے كہتے ہيں ذرا نرمى سے كام لو كہ يہ مجھ سے اور ہمارے اہلبيت (ع) سے محبت كرتا تھا اور اگر ہمارا اور ہمارے اہلبيت (ع) كا دشمن ہے تو ہم كہتے ہيں ملك الموت ذرا سختى كرو كہ يہ ہمارا اور ہمارے اہلبيت (ع) كا دشمن تھا اور ياد ركھو ہمارا دوست مومن كے علاوہ اور ہمارا دشمن منافق بدبخت كے علاوہ كوئي نہيں ہوسكتا ہے۔
    رسول اكرم (ص) ميرے بعد بارہ امام ہوں گے جن ميں سے نوحسين (ع) كے صلب سے ہوں گے اور نواں ان كا قائم ہوگا، اور ہمارا دشمن منافق كے علاوہ كوئي نہيں ہو سكتا ہے۔
    رسول اكرم (ص) ہوشيار رہو كہ اگر ميرى امت كا كوئي شخص تمام عمر دنيا تك عبادت كرتا رہے اور پھر ميرے اہلبيت (ع) اور ميرے شيعوں كى عداوت لے كر خدا كے سامنے جائے تو پروردگار اس كے سينے كے نفاق كو بالكل كھول دے گا ۔
    ابوسعيد خدرى ہم گروہ انصار منافقين كو صرف على (ع) بن ابى طالب كى عداوت سے پہچانا كرتے تھے۔
    رسول اكرم (ص) ہوشيار ہو كہ جو بغض آل محمد (ص) پر مرجائے گا وہ كافر مرے گا، جو بغض آل محمد(ص) پر مرے گا وہ بوئے جنت نہ سونگھ سكے گا۔
    رسول اكرم (ص) جس شخص ميں تين چيزيں ہوں گى وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ ميں اس سے ہوں، بغض على (ع) بن ابى طالب (ع) عداوت اہلبيت (ع) اور ايمان كو صرف كلمہ تصور كرنا۔
    جابر بن عبداللہ رسول اكرم (ص) سے نقل كرتے ہيں كہ آپ نے فرمايا، لوگو جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا اللہ اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا۔
    ميں نے عرض كى حضور چاہے نماز روزہ كيوں نہ كرتا ہو؟ فرمايا چاہے نماز روزہ كا پابند ہوا اور اپنے كو مسلمان تصور كرتا ہو۔
    امام باقر (ع) جابر بن عبداللہ انصارى نقل كرتے ہيں كہ رسول اكرم (ص) منبر پر تشريف لے گئے جبكہ تمام انصار و مہاجرين نماز كے لئے جمع ہوچكے تھے اور فرمايا : ايہا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا ، پروردگار اس كو يہودى محشور كرے گا۔
    ميں نے عرض كى حضور چاہے توحيد و رسالت كا كلمہ پڑھتاہو؟ فرمايا بيشك يہ كلمہ صرف اس قدر كارآمد ہے كہ خون محفوظ ہو جائے اور ذلت كے ساتھ جزيہ نہ دينا پڑے۔
    اس كے بعد فرمايا ، ايہا الناس جو ہم اہلبيت (ع) سے دشمنى ركھے گا پروردگار اسے روز قيامت يہودى محشور كرے گا اور يہ دجال كى آمد تك زندہ رہ گيا تو اس پر ايمان ضرور لے آئے گا اور اگر نہ رہ گيا تو قبر سے اٹھايا جائے گا كہ دجال پر ايمان لے آئے اور اپنى حقيقت كو بے نقاب كردے۔
    پروردگار نے ميرى تمام امت كو روز اول ميرے سامنے پيش كرديا ہے اور سب كے نام بھى بتا ديے ہيں جس طرح آدم كو اسماء كى تعليم دى تھي۔ ميرے سامنے سے تمام پرچمدار گذرے تو ميں نے على (ع) اور ان كے شيعوں كے حق ميں استغفار كيا۔
    اس روايت كے راوى سنان بن سدير كا بيان ہے كہ مجھ سے ميرى والد نے كہا كہ اس حديث كو لكھ لو، ميں نے لكھ ليا اور دوسرے دن مدينہ كا سفر كيا ، وہاں امام صادق (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوكر عرض كى كہ ميرى جان قربان، مكہ كے سديف نامى ايك شخص نے آپ كے والد كى ايك حديث بيان كى ہے فرمايا تمھيں ياد ہے؟ ميں نے عرض كى ميں نے لكھ ليا ہے۔
    فرمايا ذرا دكھلاؤ، ميں نے پيش كرديا، جب آخرى نقرہ كو ديكھا تو فرمايا سدير يہ روايت كب بيان كى گئي ہے؟
    ميں نے عر ض كى كہ آج ساتواں دن ہے۔
    فرمايا ميرا خيال تھا كہ يہ حديث ميرے والد بزرگوار سے كسى انسان تك نہ پہنچے گى .
    امام باقر (ع) ايك شخص رسول اكرم (ص) كى خدمت ميں آيا اور كہنے لگا يا رسول اللہ كيا ہر لا الہ الا اللہ كہنے والا مومن ہوتا ہے؟
    فرمايا ہمارى عداوت اسے يہود و نصارى سے ملحق كرديتى ہے، تم لوگ اس وقت تك داخل جنت نہيں ہوسكتے ہو جب تك مجھ سے محبت نہ كرو، وہ شخص جھوٹا ہے جس كا خيال يہ ہے كہ مجھ سے محبت كرتا ہے اور وہ على (ع) كا دشمن ہو۔
    عبدالسلام بن صالح الہروى از امام رضا (ع) ميں نے عرض كى كہ فرزند رسول (ص) پھر اس روايت كے معنى كيا ہيں كہ لا الہ الا اللہ كا ثواب يہ ہے كہ انسان پروردگار كے چہرہ كو ديكھ لے؟
    فرمايا كہ اگر كسى شخص كا خيال ظاہرى چہرہ كا ہے تو وہ كافر ہے ۔ ياد ركھو كہ خدا كے چہرہ سے مراد انبياء مرسلين اور اس كى حجتيں ہيں جن كے وسيلہ سے اس كى طرف رخ كيا جاتا ہے اور اس كے دين كى معرفت حاصل كى جاتى ہے جيسا كہ اس نے خود فرمايا ہے كہ اس كے چہرہ كے علاوہ ہر شے ہلاك ہونے والى ہے، انبياء و مرسلين اور حجج الہيہ كى طرف نظر كرنے ميں ثواب عظيم ہے اور رسول اكرم(ص) نے يہ بھى فرمايا ہے كہ جو ميرے اہلبيت (ع) اور ميرى عترت سے بغض ركھے گا وہ روز قيامت مجھے نہ ديكھ سكے گا اور ميں بھى اس كى طرف نظر نہ كروں گا۔
    انس بن مالك ميں نے رسول (ص) اكرم كو على (ع) بن ابى طالب (ع) كى طرف رخ كركے اس آيت كى تلاوت كرتے ديكھا ' رات كے ايك حصہ ميں بيدار ہوكر يہ خدائي عطيہ ہے وہ اس طرح تمھيں مقام محمود تك پہنچانا چاہتا ہے
    اور پھر فرمايا ۔ يا على (ع) پروردگار نے مجھے اہل توحيد كى شفاعت كا اختيار ديا ہے ليكن تم سے اور تمھارى اولاد سے دشمنى ركھنے والوں كے بارے ميں منع كرديا ہے۔
    امام صادق (ع) بيشك مومن اپنے ساتھى كى شفاعت كرسكتا ہے ليكن ناصبى كى نہيں اور ناصبى كے بارے ميں اگر تمام انبياء و مرسلين مل كر بھى سفارش كريں تو يہ شفاعت كارآمد نہ ہوگى
    رسول اكرم (ص) قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے، ہم اہلبيت (ع) سے جو شخص بھى دشمنى كرے گا اللہ اسے جہنم ميں جھونك دے گا،
    رسول اكرم (ص) قسم ہے اس كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے كہ جو بھى ہم اہلبيت (ع) سے بغض ركھے گا پروردگار اسے جہنم ميں منھ كے بھل ڈال دے گا ۔
    رسول اكرم (ص) اے اولاد عبدالمطلب ، ميں نے تمھارے لئے پروردگار سے تين چيزوں كا سوال كيا ہے، تمھيں ثبات قدم عنايت كرے، تمھارے گمراہوں كو ہدايت دے اور تمھارے جاہلوں كو علم عطا فرمائے اور يہ بھى دعا كى ہے كہ وہ تمھيں سخي، كريم اور رحم دل قرار ديدے كہ اگر كوئي شخص ركن و مقام كے درميان كھڑا رہے نماز، روزہ، ادا كرتا رہے اور ہم اہلبيت (ع) كى عداوت كے ساتھ روز قيامت حاضر ہو تو يقيناً داخل جہنم ہوگا۔
    معاويہ بن خديج مجھے معاويہ بن ابى سفيان نے حضرت حسن (ع) بن على (ع) كے پاس بھيجا كہ ان كى كسى بيٹ يا بہن كے لئے يزيد كا پيغام دوں تو ميں نے جاكر مدعا پيش كيا ، انھوں نے فرمايا كہ ہم اہلبيت (ع) بچيوں كى رائے كے بغير ان كا عقد نہيں كرتے لہذا ميں پہلے اس كى رائے دريافت كرلوں۔
    ميں نے جا كر پيغام كا ذكر كيا تو بچى نے كہا كہ يہ اس وقت تك ممكن نہيں ہے جب تك ظالم ہمارے ساتھ فرعون جيسا برتاؤ نہ كرے كہ تمام لڑكوں كو ذبح كرے اور صرف لڑكيوں كو زندہ ركھے۔
    ميں نے پلٹ كر حسن (ع) سے كہا كہ آپ نے تو اس قيامت كى بچى كے پاس بھيج ديا جو امير المومنين (معاويہ) كو فرعون كہتى ہے۔
    تو آپ نے فرمايا
    معاويہ ديكھو ہم اہلبيت (ع) كى عداوت سے پرہيز كرنا كہ رسول اكرم(ص) نے فرمايا ہے كہ جو شخص بھى ہم اہل بيت (ع) سے بغض و حسد ركھے گا وہ روز قيامت جہنم كے كوڑوں سے ہنكايا جائے گا۔
    امام باقر (ع) اگر پروردگار كا پيدا كيا ہوا ہر ملك اور اس كا بھيجا ہوا ہر نبى اور ہر صديق و شہيد ہم اہلبيت (ع) كے دشمن كى سفارش كرے كہ خدا اسے جہنم سے نكال دے تو ناممكن ہے، اس نے صاف كہہ ديا ہے، يہ جہنم ميں ہميشہ رہنے والے ہيں، سورہ كہف آيت 3 ۔
    امام صادق (ع) جو شخص يہ چاہتا ہے كہ اسے يہ معلوم ہوجائے كہ اللہ اس سے محبت كرتا ہے تو اسے چاہئے كہ اس كى اطاعت كرے اور ہمارا اتباع كرے، كيا اس نے مالك كا يہ ارشاد نہيں سنا ہے كہ ' پيغمبر كہہ ديجئے اگر تم لوگوں كا دعوى ہے كہ خدا كے چاہنے والے ہو تو ميرا اتباع كرو اللہ تم سے محبت كرے گا اور تمھارے گناہوں كو معاف كر دے گا۔
    خدا كى قسم كوئي بندہ خدا كى اطاعت نہيں كرے گا مگر يہ كہ پروردگار اپنى اطاعت ميں ہمارا اتباع شامل كردے۔
    اور كوئي شخص ہمارا اتباع نہيں كرے گا مگر يہ كہ پروردگار اسے محبوب بنا لے اور جو شخص ہمارا اتباع ترك كردے گا وہ ہمارا دشمن ہوگا اور جو ہمارا دشمن ہوگا وہ اللہ كا گناہگار ہوگا اور جو گنہگار مرجائے گا اسے خدا رسوا كرے گا اور منہ كے بھل جہنم ميں ڈال دے گا
    اما م كاظم (ع) جو ہم سے بغض ركھے، وہ حضرت محمد(ص) كا دشمن ہوگا اور جو ان كا دشمن ہوگا وہ خدا كا دشمن ہوگا اور جو خدا كا دشمن ہوگا اس كے بارے ميں خدا كا فرض ہے كہ وہ اسے جہنم ميں ڈال دے اور اس كا كوئي مددگار نہ ہو
    --------------------------------------------------------------------------------------------
يعمل...
X