بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صلی علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
اللھم صلی علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
ممکن ہے کوئی اعتراض کرے کہ یہ صحیح ہے کہ نہج البلاغہ میں دنیا کی تعریف بھی ہے تذلیل بھی ہے توصیف بھی ہے تحقیر بھی ہے ، مگر مذمت با کثرت ہے اور مدحت بقلت بلکہ بندرت ، تو اس کا جواب یہی ہے کہ دنیا کی رعنائیوں ، نعمتوں اور لذتوں کے طوفان میں پھنس کر ہلاک ہو جانے والے بہت ہیں مگر دنیا کی مادّیات تک محدود نہ رہ کر دنیا کی عبرتوں کو صاف و شفاف آئینۂ تمام نما بنا کر اپنے کردار کی صحیح تصویر دیکھنے والے اور تصویر دیکھ کے اس میں موجود نقائص و معائب کو بر طرف کر کے یعنی انسان کامل بنکے باکمال اشتیاق ، لقاء رب کا انتظار کرنے والے بہت کم ہیں ، بالفاظ دیگر دنیا کی وسعتوں میں گم ہو جانے والے بہت ہیں مگر دنیا کو اس کی تمام تر پہنائیوں کے ساتھ اپنے وجود میں ضم کر لینے والے بہت کم ہیں ۔
آخر کیا سبب ہے کہ پیغمبر ۖ اسلام اور دوسرے ائمہ کی بنسبت حضرت علی کے کلام میں دنیا کی مذمت زیادہ بیان کی گئی ہے ؟ ۔
جواب : حضرت علی کے زمانے میں یعنیخلفاء کے ادوار میں بالخصوص خلیفہ ٔ سوم کے دور میں فتوحات اور ان میں ملنے والے غنائم کی بناء پر دنیا پرستی کے حوالے سے امت مسلمہ کو بڑا عظیم خطرہ لاحق تھا ، غرباء و فقراء پر ہونے والے مظالم ، تقسیم غنائم اور حقوق کی ادائیگی میں عدم مساوات کے سبب اسلامی معاشرہ سخت حیران و پریشان تھا ، گریاں و نالاں تھا ، انگشت بدنداں تھا ، چنانچہ آپ اس وحشت ناک ماحول کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
تم ایسے زمانہ میں زندگی گزار رہے ہو جس میں نیکی مسلسل منہ پھیرکر جا رہی ہے اور برائی برابر سامنے آرہی ہے ،شیطان کی سازشیں عام ہو چکی ہیں اور اسکا شکار اسکے قابو میں ہے ،تم جدھر چاہو نظر اٹھاکے دیکھ لو سوائے اس فقیر کے جو فقر کی مصیبتیں جھیل رہا ہے اور اس امیر کے جس نے نعمت خدا کی ناشکری کی اور اس سرکش کے جس کے کان نصیحتوں کے لئے بہرے ہو گئے ہیں اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔(نہج بلاغة خطبہ ١٢٩ )
کری انحراف اور اس کا ازالہ :
حب دنیا زود گذر ہے اس کے روز و شب کا کوئی بھروسہ نہیں ،آتی ہے تو باکمال ِ نازبرداری ،جاتی ہے تو با کمال غمگساری لھٰذا راحت و عیش و عشرت کے سنہرے موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے بلکہ بھر پور اور حتی المقدور ہوس انسانی کی تشنگی بجھاتی جائے ۔
واضح ہے کہ یہ خیال خام ، یہ وہم و گماں انہیں افراد سے مخصوص ہے جو آخرت سے یکسرے غافل ہیں اور اس ہوس رانی کے انجام سے جاہل ہیں ۔ ورنہ اس نکتے کی طرف متوجہ ہو جاتے تو مارگذیدہ کی طرح تڑپنے کو حریر و دیباح کے نرم و نازک بستروں پر آرام کرنے سے زیادہ پسند کرتے اور مفلس ترین زندگی گذارنے کو مرفّہ حالی اور مال و دولت کی فراوانی پر ترجیح دیتے ، یہ تھی دنیا کی ناپائیداری سے متعلق نہج البلاغہ میں بیان شدہ تعبیرات کی ایک ہلکی سی جھلک ۔
مذمت دنیا کا دوسرا سبب :
٢) دنیا کی محبت آخرت سے غفلت کا باعث ہے (حب الشئی یعمی و یصّم) محبت انسان کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے جب انسان دنیا کا فریفتہ ہو جاتا ہے تو دنیا کے سارے عیوب و نقائص اس کی نگاہوں میں محاسن و محامد دکھائی دینے لگتے ہیں اور یہ وسیع النظر اور افضل مخلوق انسان دنیا کی چند روزہ لذتوں اور نعمتوں کا ایسا گرویدہ ہوجاتا ہے کہ آخرت اس کی نظر میں نسیاّ ً منسیاً بلکہ (کان لم یکن شیئاً مذکورا) ہوجاتی ہے یعنی آخرت سے بالکل غفلت زدہ ہوجاتا ہے اور یہ غفلت اس حد تک پہونچ جاتی ہے کہ اسیر دنیا ، آخرت کو دنیا طلبی کا ذریعہ بنالینا بھی معیوب نہیں سمجھتا ( عامل فی الدنیا للدّنیا قد شغلتہ دنیاہ عن آخرتہ) کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو دنیا میں خود دنیا کے لئے کام کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں دنیا نے انہیں آخرت سے غافل بنا دیا ہے۔ ( حکمت ٢٦٩ نہج البلاغہ )( و لبئس المتجران تری الدنیا لنفسک ثمناً و مما لک عند اللہ عوضاً ) وہ تجارت کتنی زیان بار ہے جس کے نتیجہ میں انسان جسے اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے دنیا کا غلام بن جائے اور حطام دنیا ( سڑے ہوئے بھوسہ ) کے عوض آخرت کا سودہ کر بیٹھے (نہج البلاغہ خطبہ ٣٢) ۔
انبیا ء الھٰی اور دنیائے فانی :
نہج البلاغہ میں مختلف مقامات پر دنیا سے متعلق انبیاء و مرسلین کی سیرت کا تذکرہ موجود ہے ۔
سیرت جناب داؤدعلیہ السلام :
حکومت و سلطنت کے باوجود زہد کا عالم یہ تھا کہ اپنے دست مبارک سے کھجور کے پتے توڑتے اور انہیں سے ٹوکریاں بنایا کرتے تھے اور پھر انہیں فروخت کر کے جو کی روٹیاں کھا لیا کرتے تھے ۔ ( خطبہ ١٦٠)
سیرت جناب موسیٰ علیہ السلام:
(کان یاکل بقلة الارض) دنیا کی ساری مرغوب غذاؤں کو چھوڑ کر زمین سے اگنیوالی سبزیاں نوش فرماتے تھے اور چونکہ انتہائی لاغر ہو گئے تھے لھٰذا ان کے شکم مبارک کی نازک کھال سے سبزی کا رنگ صاف نظر آیا کرتا تھا ۔
سیرت جناب عیسیٰ علیہ السلام:
(لقد کان یتوسّد الحجر) پتھر ان کا تکیہ تھا کھردر ا ان کا کر تہ تھا ، ان کی غذا میں سالن کی جگہ گرسنگی تھی ، رات میں چراغ کے عوض چاند کی روشنی تھی ، ان کے قدم ان کے راہوار تھے اور ان کے ہاتھ ان کے خدمت گذار تھے ۔(خطبہ ١٦٠)
سیرت حبیب خدا حضرت محمد مصطفی ۖ:
وہ رسول جو دونوں جہاں کے سید و سردار تھے ، لو لاک لما خلقت الافلاک کے مصداق تھے ۔ ان کے ترک دنیا کا عالم یہ تھا کہ ( یکل علی الارض )کھانا زمین پر بیٹھ کے کھاتے تھے، نشست و برخاست کا انداز غلامانہ تھا اپنے ہاتھوں سے جوتیوں کاٹاکنا اور کپڑوں پر پیوند لگانا آپ کا شیوہ تھا ، دنیا کی زیب و زینت سے اس درجہ متنفر تھے کہ در خانہ پر ایسا پردہ دیکھ کر جس پر تصویر بنی ہوئی تھی بر افروختہ ہوگئے اور ایک زوجہ سے فرمایا : خبر دار ! اسے ہٹاؤ میں اس کو دیکھوں گا تو دنیا اور اس کی آرائش یاد آئیگی۔
( خطبہ ١٦٠)
دنیائے دنیٰ اور حضر ت علی:
آپ کے فرمودات : (مثل الدنیا کمثل الحیّة ) دنیا کی مثال سانپ جیسی ہے جو چھونے میں انتہائی نازک ہوتا ہے مگر اس کے منھ میں زہر ِ ہلا ہل ہوتا ہے ۔ (حکمت ١١٩)