بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صل علی محمد وال محمد وعجل فرج آل محمد
اللھم صل علی محمد وال محمد وعجل فرج آل محمد
بعض نواصب دین الالھیہ زائرین اھل بیت علیہم السلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ مرقد شریف کے بوسہ کے درمیان سجدہ بجا لاتے ہیں تو یہ سجدہ صاحب مرقد کی عبادت سے شمار کیا جاتا ہے جو معاذاللہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سجدہ فقط صرف ذات الالھیہ کے لئے ہے
پس اس معترض کے جواب میں کہ جب میدان کربلاء میں حبیب ابن مظاہر الاسدی (رضوان اللہ علیہ) حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سے لشکر حسینی میں ملتحق ہوئے تھے تو انہوں نے خاک کربلاء کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں میں چوما اور امام حسین علیہ السلام نے منع نہیں فرمایا ۔
اور اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں اور انکے والدین کا جناب یوسف علیہ السلام کو کیا گیا سجدہ بھی کیا ان کی عبادت شمار ہوگا؟؟؟
اور اسی طرح ملائکہ کا حضرت آدم علیہ السلام کو کیا گیا سجدہ بلکہ خود انہیں اشکال کرنیوالوں کا کعبہ مشرفہ کو کیا گیا سجدہ کعبہ کی عبادت شمار ہوگا؟؟؟؟
اور اگر نہیں تو پھر اسی طرح زائران اھل بیت علیہم السلام کا کیا جانے والا سجدہ ہے جو کہ شکر الہیہ اور عبادت الہیہ ہے