بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی مانند ہر رات ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے ، کیونکہ آنحضرت کے پانچ سو کھجوروں کے درخت تھے ، ہر درخت کے کا پاس دو رکعت نماز پڑھتے تھے -
حضرت امام سجاد علیہ السلام جب نماز کے لئے ہوتے تو ان کا رنگ متغیر ہو جاتا ، وہ مقتدر بادشاہ کے سامنے حقیر بندے کی مانند کھڑے ہوتے اور ان کے اعضاء خوف _خدا سے لرزنے لگتے تھے - وہ یوں نماز بجا لاتے جیسے کسی کی آخری نماز ہو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کے لئے زندہ نہیں رہے گا -
ایک دن آپ نماز میں مشغول تھے کہ آپ کی عبا آپ کے کاندھوں سے گر گئی - آپ نے اسے نماز ختم ہونے تک ٹھیک نہ کیا - کسی صحابی نے اس کے بارے میں سوال کیا :
امام علیہ السلام نے فرمایا :
برباد ہو جاؤ ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس ہستی کے سامنے کھڑا ہوں ؟؟ انسان کی نماز کا وہ حصہ قبول ہوتا ہے جس کی طرف دل سے توجہ ہو -
اس شخص نے عرض کیا :
اس اعتبار سے تو ہم تباہ و برباد ہو گئے ہیں -
امام علیہ السلام نے فرمایا :
نہیں ! خداوند متعال آپ لوگوں کی نمازوں میں کم و کاستی کو نوافل کے ذریعہ پورا کرتا ہے -
اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی مانند ہر رات ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے ، کیونکہ آنحضرت کے پانچ سو کھجوروں کے درخت تھے ، ہر درخت کے کا پاس دو رکعت نماز پڑھتے تھے -
حضرت امام سجاد علیہ السلام جب نماز کے لئے ہوتے تو ان کا رنگ متغیر ہو جاتا ، وہ مقتدر بادشاہ کے سامنے حقیر بندے کی مانند کھڑے ہوتے اور ان کے اعضاء خوف _خدا سے لرزنے لگتے تھے - وہ یوں نماز بجا لاتے جیسے کسی کی آخری نماز ہو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کے لئے زندہ نہیں رہے گا -
ایک دن آپ نماز میں مشغول تھے کہ آپ کی عبا آپ کے کاندھوں سے گر گئی - آپ نے اسے نماز ختم ہونے تک ٹھیک نہ کیا - کسی صحابی نے اس کے بارے میں سوال کیا :
امام علیہ السلام نے فرمایا :
برباد ہو جاؤ ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس ہستی کے سامنے کھڑا ہوں ؟؟ انسان کی نماز کا وہ حصہ قبول ہوتا ہے جس کی طرف دل سے توجہ ہو -
اس شخص نے عرض کیا :
اس اعتبار سے تو ہم تباہ و برباد ہو گئے ہیں -
امام علیہ السلام نے فرمایا :
نہیں ! خداوند متعال آپ لوگوں کی نمازوں میں کم و کاستی کو نوافل کے ذریعہ پورا کرتا ہے -