إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

نواصب کا عقیدہ کہ صحابہ و تابعین عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • نواصب کا عقیدہ کہ صحابہ و تابعین عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد



    ناصبیوں نے شیعان علی کے خالف اپنے پروپگینڈے کے لیئے یوں تو
    کئی جھوٹی کہانیاں گڑھی ہیں جو وہ اپنے پیروکاروں کو رٹاتے رہتے ہیں لیکن ان تمام
    کہانیوں میں سے سب سے زیادہ جس کہانی پر ناصبی انحصار کرتے ہیں
    وہ عبداللہ ابن سبا کی کہانی ہے۔ ان کے مطابق عبداللہ ابن سبا عرف ابن السوداء کے نام کا
    ایک یہودی نمودار ہوا جس نے حضرت علی کی امامت کا دعوٰی کیا اور ان کے دشمنوں
    سے برات کا اظہار کیا اور حضرت عثمان کے خالف بغاوت و قتل کی قیادت بھی اسی نے
    کی وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کی بنیاد پر نجس ناصبی اپنے جاہل پیروکاروں
    کو بس ایک بات طوطے کی طرح رٹاتے ہیں کہ شیعہ مذہب کی بنیاد عبداللہ ابن سبا نے
    رکھی۔ ان تمام باتوں پرہم نے اپنے دوسرے آڑٹیکل "قاتلان عثمان کون؟" میں سہر حاصل
    گفتگو کی ہے اور اس مختصر سے آرٹیکل کا مقصد محض سپاہ صحابہ کہ اس غبارے
    میں سے ہوا نکالنا ہے جہاں وہ ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ایک ایک صحابی کی عزت
    کی جائے اور ان کو برا کہنے والے کافر ہیں اور دوسری طرف خود صحابہ و تابعین کو
    عبداللہ ابن سبا کا پیروکار بھی مانتے ہیں۔ اسی لیئے تو کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو
    چھپانے کے لیئے کئی جھوٹ بولنے پڑ جاتے ہیں اس لیئے شیعان حیدرکرار غیر فرار کو
    عبداللہ ابن سبا کا پیروکار کہہ کر اب خود ہی یہ لوگ دلدل میں پھنس گئے ہیں، خیر جن کی
    جائے پناہ ہی کیچڑ ہو انہیں دلدل کی کیا فکر۔
    اب آتے ہیں حوالہ جات کی طرف۔ شیعہ دشمنی میں مشہور شیخ عثمان بن محمد الخمیس
    کے نام سے کون واقف نہیں۔ موصوف آج کل سپاہ صحابہ جیسے نواصب کے دلوں کی
    دھڑکن بنے ہوئے ہیں۔ سلفی و وہابی دنیا تو خیر ان سے ایک خاص تعلق رکھتی ہے ۔اپنی
    کتاب "حقبہ من التاریخ" ص 130-131 میں یہودی عبداللہ ابن سبا عرف ابن السعوداء اور
    وہ لوگ جنہوں نے اس کے نظریات کو پھیالیا، ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    اور اس کے وہ وکلاء جنہوں نے اس کے عقائد کے پھیالنے میں حصہ لیا ان میں شامل
    ہیں الغافقی بن حرب، عبدالرحمان بن عدیس البلوی، کنانہ بن بشر، سودان بن حمران،
    عبداللہ بن زید بن ورقاء، عمرو بن الحمق الخزاعی، حرقوص بن زہیر، حکیم بن جبلہ،
    2
    قتیرہ بن السکونی وغیرہ۔
    حقبہ من التاریخ، ص 131-130
    اسی طرح اہل سنت کے قدیم علماء میں سے ایک علامہ احمد بن مسکویہ ) 421 ھ( نے
    اپنی کتاب "تجارب االمم" ص 293 میں لکھا ہے :
    خرج أهل مصر و معھم ابن السوداء، و كنانة بن بشر، و سودان بن حمران، و في أهل
    الكوفة زید بن صوحان، و األشتر النخعي، و في أهل البصرة حكیم بن جبلة و بشر بن شریح
    و أمیرهم حرقوص بن زهیر
    اہل مصر نے خروج کیا اور ان میں شامل تھے ابن السوداء ، کنانہ بن بشر، سودان بن
    حمران اور اہل کوفہ جن میں شامل تھے زید بن سوہان، اشتر النخعی اور اہل بصرہ میں
    شامل تھے حکیم بن جبلہ اور بشر بن شریح اور ان کے سردار تھے حرقوص بن زہیر۔
    تو یہ وہ ان صحابہ و تابعین کی وہ فہرست جو سپاہ صحابہ و دیگر نواصب کے مطابق
    یہودی عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے۔ آیئے اب حجت تمام کرنے کی غرض سے اس
    فہرست میں شامل ناموں پر مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں۔ خیرالدین زرکلی جو اپنی کتاب
    "الاعلام" کی وجہ سے شہرت کے حامل ہیں جس میں انہوں نے مشہور و معروف
    شخصیات کی اک کثیر تعداد کا تذکرہ یکجہ کیا ہے، اپنی کتاب کی جلد 2 ص 316 میں
    لکھتے ہیں :
    عبدالرحمن بن عدیس بن عمرو البلوي شجاع صحابي ممن بایع تحت الشجرة شھد فتح
    مصر ثم كان قائد الجیش الذي بعثه ابن ابي حذیفة )والي مصر( إلى المدینة لخلع عثمان.
    عبدالرحمان بن عدیس بن عمرو البلوی، بہادر صحابی، جنہوں نے شجر کے نیچے بعیت
    کی تھی، وہ فتح مصر میں بھی شامل رہے، وہ اس فوج کے سربراہ تھے جسے ابن ابی
    حذیفہ )مصر کے حاکم( نے حضرت عثمان کو ہٹانے کی غرض سے مدینہ روانہ کی تھی۔
    یاد رہے کہ اہل سنت میں یوں تو تمام صحابہ کو اہمیت حاصل ہے لیکن شجر کے تحت جن
    صحابہ نے بیعت دی تھی انہیں ایک خاص مقام حاصل ہے اور اسے ہی صحابہ میں سے
    ایک ہیں حضرت عبدالرحمان بن عدیس بن عمرو البلوی )رض( اور )بقول سپاہ
    صحابہ( اس پیروکار ابن سبا سے اہل سنت کے کتاب میں احادیث میں روایت کی گئیں ہیں،
    دیکھیے المعجم الکبیر از امام طبرانی۔
    اب ایک اور پیروکار ابن سبا کا ذکر ہوجائے جسے شیخ عثمان الخمیس نے اپنی فہرست
    میں شام کیا۔ خیرالدین زرکلی اپنی کتاب " الاعلام" ج 5 ص 67 میں تحریرکرتے ہیں :
    3
    عمرو بن الحمق بن كاهل الخزاعي الكعبي صحابي من قتلة عثمان
    عمرو بن الحمق الخزاعی الکعبی، صحابی تھے اور قاتالن عثمان میں شامل تھے۔
    گو کہ عبداللہ ابن سبا سے روایت شدہ ایک بھی حدیث کسی بھی شیعہ کتب میں موجود نہیں
    لیکن اس پیروکار ابن سبا سے روایت شدہ احادیث اہل سنت کے کتابوں میں دستیاب ہیں جن
    میں شامل ہیں مسند احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ، المستدرک، سنن بیھقی، سنن النسائی،
    المعجم الطبرانی وغیرہ ۔
    اب چلتے ہیں کنانہ بن بشر کی طرف۔ تاریخ دمشق، ج 55 ص 356 میں ہم پڑھتے ہیں :
    كنانة بن بشر بن سلمان ویقال بن بشر بن عتاب التجیبي األیدعاني أحد من سار إلى حصر
    عثمان وممن تولى قتله روى عنه حیان بن األعین بن نمیر بن سلیع الحضرمي
    کنانہ بن بشر بن سلمان، جو کہ ابن بشر بن عتاب التجیبی االیدعانی کے نام سے بھی
    جانے جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے عثمان کو محصور کیا تھا اور
    ان لوگوں میں بھی جنہیں نے عثمان کو قتل کیا تھا۔ ان سے عیان بن االعین بن نمیع بن
    سلیع الحضرمی نے روایت کی ہے۔
    آگے بڑھتے ہیں۔ خیرالدین زرکلی اپنی کتاب "الاعلام" ج 3 ص 362 میں تحریرکرتے
    ہیں :
    حرقوص بن زهیر بن السعدي الملقب بذي الخویصرة صحابي من بني تمیم
    حرقوص بن زہیر بن سعدی جو کہ زی خویصرہ کے نام سے مشہور ہیں، صحابی تھے
    اور بنی تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔
    ایک اور ابن سبا کے پیروکار کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں شیخ عثمان الخمس نے اپنی
    فہرست میں شمار کیا ہے۔ خیرالدین زرکلی اپنی کتاب "الاعلام" ج 3 ص 379 میں
    تحریرکرتے ہیں :
    حكیم بن جبلة العبدي من بني عبد القیس صحابي كان شریفا مطاعا من أشجع الناس والہ
    عثمان إمرة السند ولم یستطع دخولھا فعاد إلى البصرة واشترك في الفتنة أیام عثمان 4
    حکیم بن جبلہ العبدی، ان کا تعلق بنی عبدالقیس سے تھا، صحابی تھے، شرفاء میں شمار
    4
    ہوتا تھا، بہارد ترین لوگوں میں سے ایک تھے، عثمان نے انہیں فوج کا سربراہ بنا کر
    سندہ بھیجا تھا لیکن وہ فتح کرنے میں ناکام رہے لہٰذا وہ بصرہ لوٹ آئے اور عثمان کے
    دنوں میں فتنے میں حصہ لیا۔
    چلیں یہاں سے تو شیخ عثمان الخمیس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق بھی ہوگئی کہ یہ
    مشہور و معروف جلیل القدر و بہادر صحابی رسول حضرت عثمان کے ایام حکمرانی میں
    ہونے والے فتنے میں بھی ملوث تھے۔ ظاہر ہے خیرالدین زرکلی نے انہیں اپنے انداز میں
    ابن سبا کا پیروکار کہدیا کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ نواصب حضرت عثمان
    کے خالف بغاوت و قتل کا سارا الزام ابن سبا کے سر ہی ڈالتے ہیں۔
    اب بات ہوجائے اہل سنت کے مشہوراسکالر ابن خلدون کی جن میں پائی جانے والی
    ناصبی آمیزش پر سپاہ صحابہ کو کبھی شک نہیں ہوسکتا کیونکہ اس بات کی تصدیق
    سپاہ صحابہ کےمسلک کے اکابرین میں سے ایک مفتی نظام الدین شامزئی نے بھی کی
    ہے۔ ابن خلدون اپنی تاریخ میں تحریر کرتے ہیں :
    وتأخر عمار بن یاسر بمصر واستماله ابن السوداء وأصحابه خالد بن ملجم وسودان بن
    حمران وكنانة بن بشر
    عمار یاسر نے مصر سے واپس لوٹنے میں دیر کی جس پر ابن السوداء نے
    انہیں اپنی طرف مائل کرلیا ساتھیوں کے ساته جن میں شامل تھے خالد بن ملجم، سودان
    بن حمران اور کنانہ بن بشر۔
    گویا عبداللہ ابن سبا عرف ابن السوداء کے پیروکاروں کی فہرست میں کچھ کمی واقع رہ
    گئی تھی جس پر اب عظیم صحابی رسول یعنی حضرت عمار بن یاسر )رض(، جن پر ہر
    شیعہ کی جان بھی قربان ہو، انہیں بھی اسی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ دیکھ لے دنیا کے
    صحابہ کا احترام کون کرتا ہے اور انہیں یہیودی کا پیروکار کون کہتا ہے !
    اختتام پر ہم آج کے دور کے سلفی عالم دین حسن بن فرحان المالکی کے الفاظ پیش کرتے
    ہیں۔ وہ اپنی کتاب "نحوالنقازالتاریخ" ص 63 میں تاریخ کے راوی و مصنف سیف بن عمر
    کی بیان کردہ روایات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکتھے ہیں :
    فأنت تجد في روایاته أن أبا ذر وعمار بن یاسر من تالمیذ عبدهللا بن سبأ
    سیف ابن عمر کی روایات میں آپ کو ملے گا کہ اس نے ابو زر اور عمار بن یاسر کو
    عبداللہ ابن سبا کے شاگردوں میں شمار کیا ہے۔
    5
    اسی کتاب کے ص 349 پر لکھتے ہیں :
    فھو یذكر أبا ذر وعمار بن یاسر وعدي بن حاتم رضي اللہ عنھم وغیرهم یذكرهم في أعوان
    عبداللہ بن سبأ
    سیف بن عمر نے ابو زر، عمار بن یاسر عدی بن حاتم رضی اللہ عنہم اور دیگر کو
    عبداللہ ابن سبا کا مددگار تحریر کیا ہے۔
    بس اسی کی کثر باقی رہ گئی تھی۔ حضرت ابو زرغفاری )رض( جس صحابی پر ایک
    ایک شیعہ کی جان قربان، انہیں بھی عبداللہ ابن سبا کا شاگرد شمار کرڈالا۔ چلو اس بہانے
    سپاہ صحابہ جسے نواصب کا مکرو چہرہ تو سامنے آیا۔
    سپاہ صحابہ کے ناصبیوں کو چیلنج !!
    پس، اس اڑٹیکل کو پڑھنے کے بعد قاریئن سپاہ صحابہ کے ان متضاد عقائد کو سمجھنے
    کے قابل ہوجائینگے
    3۔ ایک ایک صحابی عزت کے قابل ہے، ان میں سے کسی کی بھی توہین کرنے واال کافر
    ہے۔ فلح پانے کی لیئے کسی بھی صحابی کی پیروی کی جاسکتی ہے۔
    2 ۔ عبداللہ ابن سبا ایک یہودی تھا اور دشمن اسلام تھا اور شیعہ مذہب کا بانی تھا اور شیعہ
    مذہب کے عقائد اسی نے متعارف کرائے تھے۔ اسی نے حضرت عثمان کے خالف بغاوت
    اور ان کے قتل کی قیادت کی۔
    3 ۔ بعض صحابہ و تابعین عبداللہ ابن سبا کے پیروکار تھے۔
    ظاہر یہ تینوں عقائد آپس میں متصادم ہیں ۔ اگر صحابی کی توہین کرنے واال کافر ہے تو
    خود سپاہ صحابہ والے اور اس عقیدے کو ماننے والے دیگر افراد بھی خود کافر ٹھہرے
    کیونکہ انہی کا عقیدہ ہے کہ بعض صحابہ ایک دشمن اسالم یہودی کے پیروکار بن گئے
    تھے ۔
    اور اگر سپاہ صحابہ اپنی پرانی رٹ لگاتے ہیں کہ شیعہ عبداللہ ابن سبا کے پیروکار ہیں تو
    خود سپاہ صحابہ ساتھ میں یہ بھی تو مانتے ہیں کہ صحابہ و تابعین بھی عبداللہ ابن سبا کے
    پیروکار تھے۔ اس کا کیا کیجیئے گا؟
    یہاں ہم شیعہ مومنین کو مخاطب کرنا چاہتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ بات ساری یہ ہے
    6
    کہ جو لوگ آپ کو عبداللہ ابن سبا کا پیروکار ہونے کا الزام دیتے ہیں انہیں خبیث لوگوں نے
    اپنے صحابہ کو بھی نہ بخشا جن کی عزت کرنے کا لیکچر یہ لوگ ہر وقت دیتے رہتے
    ہیں اور انہیں بھی ابن سبا کا پیروکار قرار دے دیا تو آپ کیا چیز ہیں ان منافقین کی نظروں
    میں؟
يعمل...
X