اقسام شرك
جہاں تک آيات قراني کي خلاصے ، اخبار کثير اور محققين علماء کي تحقيقات کاملہ سے اور بالخصوص ان اھم تشريحات سے جو صدرالمتالہين نے فرمائيں ،ميں معلوم ہوتا ہے کہ شرک کي دو قسميں ہيں 1غ” شرک جلي
2غ” شرک خفي
شرک جلي: {شرک في الذات}
شرک جلي کا مطلب ہے کہ آدمي ذات يا صفات يا افعال يا عبادات ميں خدائ تعالي کا کوئ شريک قرار دے غ”اور شرک في الذات يہ ہے کہ حق تعالي کے مرتبہ الوہيت اور ذات وحدانيت ميں شريک قرار دے اور زبان سے اسکا اقرار کرے جيسے قوم ثنويہ{بت پرست}عقائد نصاري:
[لقد كفروا الذين قالوا ان الله ثالث ثلاثة وما من اله الا اله واحد]
اس آيہ مبارکہ ميں نصاري کے فرقوں ميں نسطوريہ، ملکائيہ، اور يعقوبيہ کا قول بيان کيا گيا ہے جنہوں نے ثنويہ اور بت پرستوں سے سے يہ عقيدہ حاصل کيا ، خلاصہ يہ کہ نصاري ، ثنويہ اور مجوس کي طرح مشرک ہيں کيونکہ اقانيم ثلاثہ کے قائل ہيں اس سے واضح الفاظ ميں وہ لوگ کہتے ہيں کہ "الوہيت خدا، مريم اور عيسي کے درميان مشترک ہے "
ان ميں سے بعض کا عقيدہ ہے کہ خدا عيسي اور روح ميں سےايک خدا ہے اور اللہ تعالي ان تين ميں سے ايک ہے "اقنوم الاب، اقنوم الابن اور روح القدس ہے {اقنوم سرياني زبان کا لفظ ہے کہ جس کہ معني ہستي کہ ہيں} اس کے بعد يہ تينوں متحد ہوےغ”
{حوالہ: کتاب الوثنيہ في الديانة النصرانية}
اس ميں کوئ شبہ نہيں ہے کہ عقلي اور نقلي دلائل سے يہ اتحاد ناممکن ہے اور اس معني سے اتحاد حقيقي محال ہے حتي کہ غير ذات واجب الوجود ميں بھي ايسا اتحاد محال ہے
شرک خفي
دوسري قسم شرک خفي و پوشيدہ ہے اور وہ شرک في الاعمال اور طاعات اور عبادات ميں ريا ہےغ” اس قسم کے شرک{خفي} اور شرک في العبادات کے درميان جس کو ہم نے شرک جلي ميں شمار کيا ہےغ” فرق يہ ہے کہ بندہ شرک عبادات ميں خدا کے ليے شريک قرار ديتا ہےغ” اور حديث ميں روايت ہے کہ عن الرسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ يقول اللہ تعالي:
"من عمل عملا صالحا اشرک فيہ غيرہ فھو لہ کلہ وانا منہ بريء وانا اغني الاغنياء"
يعني خدا تعالي فرماتا ہے کہ جو شخص کوئ نيک عمل کرے اور اس ميں ميرے غير کو شريک کرے تو اس سارا عمل اس کے ليے ہے اور ميں اس عمل سے بيزار ہوں اور ميں تمام اغنياء سے زيادہ شرک سے غني ہوںغ”
اور اسي تائيد ميں امام صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ
"لو أن عبدا عمل عملا يطلب به رحمغƒ اللہ والدار الآخرغƒ ثم ادخل فيه رضاء أحد من الناس كان "مشركا"
تعليق