آئين وہابيت کي بدکاريوں ميں سے بد ترين برائي يہ ہے کہ جو چيز ان کے افکار سے مطابقت نہ رکھتي ہو اسے بدعت اور شرک سمجھ بيٹھے ہيں کہ جس کي طرف اس فصل ميں اشارہ کر رہے ہيں غ”
1غ” ميلاد النبي غ–کو بدعت قراردينا :
سابق مفتي اعظم سعودي عرب لکھتا ہے :
'لا يجوز الاحتفال بمولد الرسول صلي اللہ عليہ وسلم ولا غيرہ ؛ لان ذلک من البدع المحدثة في الدين ، لان الرسول ]صلي اللہ عليہ وسلم [لم يفعلہ ولاخلفاؤ ہ الراشدون ولا غيرھم من الصحابة رضي اللہ عنھم ولا التابعون لھم باحسان في القرون المفضلة '.(1)
(1) مجموع فتاويظ° ومقالات متنوعة1: 83فتاويظ° اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والافتاء 3: 18.
پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) اور کسي دوسرے شخص کا ميلاد مناناجائز نہيں ہے اس لئے کہ يہ دين ميں ايجاد کي جانے والي بدعات ميں سے ہے چونکہ رسول خدا غ–خلفائے راشدين ، دوسرے صحابہ يا تابعين ميں سے کسي نے اسے انجام نہيں ديا غ”
2غ” مدئن کے شروع ميں مدئيِں:
سعودي عرب ميں مجلس دائمي فتويظ° نے سوگواري کے مراسم کے بارے ميں ايک سوال کے جواب ميں لکھا ہے :
'لايجوز الاحتفال بمن مات من الانبياء والصالحين ولا احياء ذکراھم بالموالدو...لان جميع ما ذکر من البدع المحدثة في الدين ومن وسائل الشرک '.(1)
انبياء و صالحين کي مجالس سوگواري اور ان کے يوم ولادت کي محافل بر پا کرناجائز نہيں ہے اس لئے کہ يہ بدعت اور شرک کا وسيلہ ہيں غ”
3غ” اذان سے پہلے يا بعد ميں پيغمبر غ–پر درود بھيجنا:
سعودي عرب ميں مجلس دائمي فتوي نے حضور (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) پر درود و سلام بھيجنے کے سوال کے جواب ميں لکھا ہے :
'ذکر الصلاةوالسلام علي الرسول صلي اللہ عليہ وسلم قبل الاذان ، وھکذا الجھر بھا بعد الاذان ، مع الاذان ، من البدع
(1) مجموع فتاويظ° ومقالات متنوعة3: 54 فتويظ° نمبر 1774
المحدثة في الدين ، وقد ثبت عن النبي صلي اللہ عليہ وسلم انہ قال: 'من احدث في امرنا ھذا، ماليس منہ فھو رد 'متفق عليہ .
و في رواية : 'من عمل عملاً ليس عليہ امرنا فھو رد'.راوہ مسلم ... من فعل تلک البدعة ومن اقرھا ومن لم يغيرھا وھو قادر علي ذلک فھو آثم'.(1)
اذان سے پہلے يا اس کے بعدپيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )پر درود بھيجنا بدعت ہے جسے دين ميں ايجاد کيا گيا ہے غ” رسول اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) نے فرمايا:
اگر کوئي شخص ہمارے بيان کر دہ احکام ميں کسي چيز کا اضافہ کرے تو وہ مردود ہے غ”
اسي طرح فرمايا اگر کوئي شخص ايسا عمل انجام دے جس کا ہم نے حکم نہيں ديا تو اس کا يہ عمل قبول نہيں ہوگا غ”
سابق مفتي اعظم سعودي عرب بن باز نے بھي اسي طرح کا فتويظ° ديا ہے غ”(2 )
وہابيوں کے مظالم کي فصل ميں گذرچکا کہ مفتي مکہ مکرمہ زيني دحلان لکھتے ہيں :
وہابي منبر پر اور اذان کے بعد پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )پردرود بھيجنے سے
(1)مجموع فتاويظ° ومقالات متنوعة2:501 فتويظ° نمبر 9696.
(2)فتاوظ°ي اسلامية 1: 251.
منع کرتے ہيں ايک نابينا شخص نے اذان کے بعد درود پڑھا تو اسے محمد بن عبد الوہاب کے سامنے پيش کيا گيا اس نے درود بھيجنے کے جرم ميں اس نابينا موذن کے قتل کا فتويظ° دے ديا غ”
زيني دحلان مزيد لکھتے ہيں : اگر وہابيوں کي اس جيسي بد کاريوں کو زير قلم لايا جائے تو کتابيں بھر جائيںغ”(1)
4غ” قبر پيغمبر غ–کے پاس قبوليت کے قصد سے دعا کرنا :
سعودي عرب کي مجلس فتويظ° کا رکن شيخ صالح فوزان لکھتا ہے :
'من البدع التي تقع عند قبة الرسول صلي اللہ عليہ وسلم کثرة التردد عليہ ، کلما دخل المسجد ذھب يسلم عليہ ، و کذلک الجلوس عندہ ، ومن البدع کذلک ، الدعا ء عند قبر الرسول صلي اللہ عليہ وسلم او غيرہ من القبور ، مظنة ان الدعاء عندھا يستجاب '.(2
قبر پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) کے پاس زيادہ رفت وآمد ، وہاں بيٹھنا ، آنحضرت پر سلام بھيجنا بدعت شمار ہوتا ہے اسي طرح قبر رسول غ– ياکسي اورکي قبرکے پاس اس نيت سے دعا کرناکہ شايد وہاں پہ قبول ہو جائے يہ بھي بدعت ہے.
(1) فتنة الوہابية :20.
(2)مجلة الدعوة :37،شمارہ 1612.
5غ” رسول خدا غ– کو قرآن يا نماز کا ثواب ہديہ کرنا :
سعودي عرب کي مجلس دائمي فتوي نے لکھا ہے :
'لا يجوز اھداء الثواب للرسول صلي اللہ عليہ وسلم ، لا ختم القرآن ولا غيرہ ، لان السلف الصالح من الصحابة رضي اللہ عنھم ، ومن بعدھم ، لم يفعلوا ذلک ، والعبادات توقيفية '.( 1)
پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کو ختم قرآن وغيرہ کا ثواب ہديہ کرنا جائز نہيں ہے اس لئے کہ صحابہ اور تابعين نے يہ کام نہيں کيا اور عبادات توقيفي ہيں غ”
6غ”قل خواني :
سعودي عرب کے ايک مفتي شيخ عثيمين نے لکھا ہے :
'واما الاجتماع عند اہل الميت وقرائة القرآن ، وتوزيع التمر واللحم ، فکلہ من البدع التي ينبغي للمرء تجنّبھا، فانہ ربما يحدث مع ذلک نياحة وبکاء وحزن ، وتذکر للميت حتي تبقي المصيبة في قلوبھم لا تزول . وانا انصح ھولاء الذين يفعلون مثل ھذا ، انصحھم ان يتوبوا الي اللہ عزوجل '. ( 2)
ميت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونااور اسي طرح ميت کے لئے قرآن کي
(1)فتاوي اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء 9: 58 ، فتويظ° نمبر 2582.
(2)فتاويظ° منا رالاسلام1: 270.
تلاوت کرنا ، کھجوريں اور گوشت تقسيم کرنا بدعت ہے جس سے اجتناب کرنا ضروري ہے چونکہ يہ کام پسماندگان کے لئے غم و اندوہ ، گريہ اور نوحہ کا باعث بنتا ہے جس سے وہ اس مصيبت کو کبھي فراموش نہيں کر سکتے غ” اور ميں ايسے افرا دکو نصيحت کرتا ہوں کہ وہ ايسے کاموں سے دوري اختيارکريں اور خداوند متعال سے توبہ طلب کريں غ”
7غ”مردوںکو نماز کا ثواب ہديہ کرنا :
سعودي عرب کي مجلس دائمي فتويظ° نے لکھا ہے :
'لا يجو زان تھب ثواب ما صليت للميت ؛ بل ھو بدعة؛ لانہ لم يثبت عن النبي صلي اللہ عليہ وسلم ولاعن الصحابة رضي اللہ عنھم '.(1)
ميت کو نماز کا ثواب ہديہ کرنا بدعت ہے چونکہ رسول خدا (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )اور صحابہ رضي اللہ عنہم سے نقل نہيں ہوا غ”
8غ” تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز:
سعودي مفتي شيخ عثيمين لکھتا ہے :
'اتخاذ الندوات والمحاضرات بآيات من القرآن دائماً کانھا
سنّة مشروعة ، فھذالا ينبغي'(2)
ہميشہ تلاوت قرآن سے سنت سمجھ کر مجالس و محافل کا آغاز کرنا جائز نہيں ہے غ”
(1)فتاوي اللجنة الدائمة للبحوث الافتاء 4: 11 ؛ فتويظ° نمبر 7482.
(2) نور علي الدرب :43.
9غ”مل کر تلاوت قرآن يا دعاء کرنا
سعودي عرب کي مجلس دائمي فتويظ° نے لکھا ہے :
'ان قراظ”ة القرآن جماعة بصوت واحد بعد کل من صلاة الصبح والمغرب او غيرھما بدعة، وکذا التزام الدعا ء جماعة بعد الصلاة'. (1)
ايک جگہ جمع ہو کر صبح يا مغرب کي نماز کے بعد ايک آواز ميںمل کر قرآن کي تلاوت اور دعا کرنا بدعت ہے غ”
10غ”تلاوت قرآن کے بعد صد ق اللہ العظيم کہنا:
سعودي عرب کي مجلس دائمي فتويظ° نے لکھا ہے :
'قول صد ق اللہ العظيم بعد الانتھا من قراء ة القرآن بدعة'(2)
تلاوت قرآن کے بعد 'صدق اللّظ°ہ العظيم ' کہنا بدعت ہے غ”
سعودي مفتي شيخ عثيمين نے بھي اسي طرح کافتويظ° ديا ہے: (3 )
(1)فتاوي اللجنة الدائمة للبحوث و الافتاء 3: 481، فتويظ° نمبر 4994.
(2)فتاوي اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء 4: 149 ، فتويظ° نمبر 3303.
(3)ختم التلاوة بہ اي بقول (صدق اللہ العظيم ) غير مشروع ولا مسنون ، فلايسن للانسان عند انتھاء القرآن الکريم ان يقول : (صد ق اللہ العظيم ) . فتاوي اسلاميہ4: 17
11غ”خانہ کعبہ کے غلاف کو مس کرنا :
سعودي مفتي شيخ عثيمين لکھتا ہے :
'التبرک بثوب الکعبة والتمسح بہ من البدع ؛ لان ذلک لم يرد عن النبي صلي اللہ عليہ وسلم '.(1)
خانہ کعبہ کے غلاف کو متبرک سمجھنا اور اس کو مس کرنا بدعت ہے چونکہ نبي (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے اس بارے ميں نقل نہيں ہوا غ”
12غ” تسبيح کے ساتھ ذکر کرنا :
سابق مفتي اعظم سعودي عرب بن باز نے لکھا ہے :
'لا نعلم اصلا في الشرع المطھّر للتسبيح بالمسبّحة ، فالاوليظ° عدم التسبيح بھا، والاقتصار علي المشروع في ذلک ، وھو التسبيح بالانامل '. (2)
(1) مجموع الفتاويظ° ابن عثيمين ، فتويظ° 366.
(2) فتاويظ° الاسلامية 2: 366.
تسبيح کے ساتھ ذکر کرنا شريعت ميں بيان نہيں ہوا لہظ°ذا بہتريہ ہے کہ شرعي طريقہ کو اپنا جائے اور وہ ہاتھ کي انگليوں پر تسبيح پڑھنا ہے غ”
اے کاش! اس سے يہ بھي سوال کيا جاتا کہ چمچہ کے ساتھ کھانا کھانا، گاڑي اور جہاز ميں سفر کرنا بھي شريعت ميں بيان ہوا ہے يا نہيں ؟
13غ” سالگرہ منانا:
وہابي مفتي شيخ عثيمين لکھتا ہے :
'ان الاحتفال بعيد الميلاد للطفل ، فيہ تشبہ باعداء اللہ ؛ فان ھذہ العادة ليست من عادات المسلمين ،وانما ورثک من غيرھم وقد ثبت عنہ صلي اللہ عليہ وسلم :' ان من تشبہ بقوم فھو منھم'.(1)
بچوں کا برتھ ڈے منانا اسلامي عادات ميں سے نہيں ہے بلکہ يہ دشمنوں سے ميراث ميں ملا ہے غ” اور رسول خدا (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )نے فرمايا ہے : جو کسي قوم سے شباہت اختيار کرے گا وہ انھيں کے ساتھ محشور ہوگا غ”
دوسري جگہ لکھا ہے :
'واما اعياد الميلاد للشخص او اولادہ او مناسبة زواج ونحوھا، فکلھا غير مشروعة وھي البدعة اقرب من الاباحة'.(2)
(1) فتاويظ° منار الاسلام 1: 43. (2)مجموع فتاويظ° ورسائل ابن عثيمين 2: 302.
اگر کوئي شخص اپنا يا اپنے بچوں کا بر تھ ڈے منائے يا شادي کي سالگرہ منائے تو اس نے خلاف شريعت کام کيا اور يہ کام بدعت سے نزديک تر ہے غ”
سعودي عرب کي مجلس دائمي فتويظ° نے بڑتھ ڈے کے بارے ميں ايک سوال کے جواب ميں لکھا ہے :
'اعياد الموالد نوع من العبادات المحدثةفي دين اللہ فلا يجوز عملھا لاي من الناس مھما کان مقامہ او دورہ في الحياة '(1 )
برتھ ڈے ايک طرح کي عبادت ہے جسے دين ميں اضافہ کيا گيا ہے لہظ°ذا کسي شخص کے لئے جائز نہيں ہے چاہے وہ معاشرے کي کتني ممتاز شخصيت ہي کيوں نہ ہوغ”
(1)فتاوي اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء 3 83 ،فتوظ°ي نمبر 2008.
بدعت کے بارے ميں وہابي افکار کي رد
بدعت کے صحيح مفہوم کا درک نہ کرنا :
بدعت کے بارے ميں وہابيوں کا جو نظريہ بيان کيا گيا اس کے متعلق حسن ظن رکھتے ہوئے يہي کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے بدعت کے صحيح مفہوم کو نہ سمجھا جس کي وجہ سے تو ہم کا شکار ہو گئے اور ہروہ چيز جو ان کے افکار کے مخالف ہو اسے بدبيني کي عينک سے ديکھتے ہوئے بدعت قرار دے ديتے ہيںغ” لہظ°ذا پہلے ہم بدعت کے لغوي معني کو بيا ن کريں گے اور اس کے بعد قرآن و سنت کي رو سے بدعت کے بارے ميں تحقيق کريں گے غ”
بدعت کالغوي معنيظ°:
جوہري لکھتا ہے :
'انشاء الشيء لا علي مثال السابق ، واختراعہ وابتکارہ بعد ان لم يکن ...'.(1)
بدعت کا معني ايک بے سابقہ چيز کا اختراع کرنا ہے جس کا نمونہ پہلے موجود نہ ہو .
يقينا آيات و روايات ميں بدعت کے اس معني کو حرام قرارنہيں ديا گيا اس لئے کہ اسلام انساني زندگي ميں نئي ايجادات کا مخالف نہيں ہے بلکہ انساني فطرت کي تائيد کرتا ہے جو ہميشہ انسان کو اس کي انفرادي واجتماعي زندگي ميں نئي ايجادات کي راہنمائي کرتي ہے غ”
بدعت کا شرعي معنيظ° :
دين ميں بدعت کے جس معني کے بارے ميںبحث کي جاتي ہے وہ دين ميں کسي شے کو دين سمجھ کر کم يا زيادہ کرنا ہے اور يہ معنيظ° اس لغوي معنيظ° سے بالکل جدا ہے جسے بيان کيا گيا غ”
راغب اصفہاني لکھتے ہيں :
'والبدعة في المذہب : ايراد قول لم يستن قائلھا وفاعلھا فيہ
(1) الصحاح 3: 113 ؛ لسان العرب 8: 6؛ کتاب العين 2: 54
بصاحب الشريعة واماثلھا المتقدمة واصولھا المتقنة '.(1)
دين ميں بدعت ہر وہ قول و فعل ہے جسے صاحب شريعت نے بيان نہ کيا ہو اور شريعت کے محکم و متشابہ اصول سے بھي نہ ليا گيا ہو غ”
ابن حجر عسقلاني کہتے ہيں :
'والمحدثات بفتح الدال جمع محدثة ، والمراد بھا : ما احدث وليس لہ اصل في الشرع ويسميہ في عرف الشرع بدعة ، وماکان لہ اصل يدل عليہ الشرع فليس ببدعة '.(2)
ہر وہ نئي چيز جس کي دين ميںاصل موجود نہ ہو اسے شريعت ميں بدعت کہا جاتا ہے اور ہر وہ چيز جس کي اصل پر کوئي شرعي دليل موجود ہو اسے بدعت نہيں کہا جائے گا غ”
يہي تعريف عيني نے صحيح بخاري کي شرح (3)،مبارکپوري نے صحيح ترمذي کي شرح (4) ، عظيم آبادي نے سنن ابي داؤد کي شرح (5) اور ابن رجب حنبلي نے جامع العلوم ميں ذکر کي ہےغ” (6)
(1) مفردات الفاظ القرآن :39.
(2) فتح الباري 13: 212.
(3) عمدة القاري 25: 27.
(4)تحفة الاحوذي 7: 366 .
(5)عون المعبود 12: 235 .
(6) جامع العلوم والحکم :160طبع ہند .
شيعہ متکلم و فقيہ نامور سيد مرتضيظ° بدعت کي تعريف ميں لکھتے ہيں :
'البدعة زيادة في الدين اظ”و نقصان منہ ،من اسناد الي الدين'(1)
بدعت ،دين ميں کسي چيز کا دين کي طرف نسبت ديتے ہوئے کم يا زيادہ کرناہے غ”
طريحي کہتے ہيں :
'البدعة: الحدث في الدين ، وماليس لہ اصل في کتاب ولا سنة ، وانما سميت بدعة؛ لان قائلھا ابتدعھا ھو نفسہ '(2)
بدعت، دين ميںايسا نيا کام ہے جس کي قرآن و سنت ميں اصل موجود نہ ہو اور اسے بدعت کا نام اس لئے ديا گيا ہے کہ بدعت گذار اسے اپنے پاس سے اختراع کرتا ہے غ”
بدعت کے ارکان
گذشتہ مطالب کي بناء پر بدعت کے دو رکن ہيں :
1غ” دين ميں تصرف:
دين ميں کسي بھي قسم کا تصرف چاہے وہ اس ميں کسي چيز کے زيادہ کرنے سے
(1)رسائل شريف مرتضيظ° 2: 264، ناشر دار القرآن الکريم قم .
(2)مجمع البحرين 1: 163 ، مادہ بَدَع َ.
ہو يا اس ميں کسي چيز کے کم کرنے سے مگر اس شرط کے ساتھ کہ تصرف کرنے والا اپنے اس عمل کو خدا يا رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) کي طرف نسبت دےغ”
ليکن انساني طبيعت کے تنوع کي خاطر نئي ايجادات جيسے فٹ بال ، والي بال ، باسکٹ بال وغيرہ بدعت نہيں کہلائيں گے غ”
2غ” کتاب ميں اس کي اصل کا نہ ہونا :
بدعت کي اصطلاحي و شرعي تعريف کو مد نظر رکھتے ہوئے نئي ايجادات اس صورت ميں بدعت قرار پائيں گي جب منابع اسلامي ميں ان کے بارے ميںکوئي دليل خاص يا عام موجود نہ ہو غ”
جب کہ ايسي نئي ايجادات جن کي مشروعيت کو بطور خاص يا عام قرآن و سنت سے استنباط کرنا ممکن ہو انھيں بدعت کا نام نہيںديا جائے گا جيسے اسلامي ممالک کي افواج کوجديد اسلحہ سے ليس کرنا کہ جس کے جواز پر بعض قرآني آيات کے عموم سے استنباط کيا جا سکتا ہے مانند :
(وََعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اï·²ِ وَعَدُوَّکُمْ...)(1)
ترجمہ : اور ( مسلمانو!) ان کفار کے ( مقابلہ کے ) واسطے جہاں تک تم سے ہو سکے ( اپنے بازو کے ) زور سے اور بندھے ہوئے گھوڑوں سے ( لڑائي کا )
سامان مہيا کرو اس سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن پر دھاک بٹھا لو گے غ”
اس آيت شريفہ ميں( (وََعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ )جہاں تک ہو سکے اپني طاقت بڑھاؤ ) کے حکم عام سے اسلامي افواج کو جديد ترين اسلحہ سے مسلح کرنے کا جواز ملتا ہے غ”(2)
(1)سورہظ” انفال : 60.
(2) وہابيت ، مباني فکري وکارنامہظ” عملي :83، تاليف آيت اللہ سبحاني ، خلاصہ اور تصرف کے ساتھ .
بدعت قرآن کي رو سے
1غ” قانون گذاري کا حق فقط خدا ہي کو ہے :
قرآن کي رو سے تشريع اور قانون گذاري کا حق فقط اور فقط خدا وند متعال کو ہے اور کوئي دوسرا اس کے اذن کے بغير قانون وضع کر کے اس کے اجراء کرنے کا حکم نہيں دے سکتا
(ِنْ الْحُکْمُ ِلاَّ لِلَّہِ َمَرَ َلاَّ تَعْبُدُوا ِلاَّ ِيَّاہُ ذَلِکَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَکِنَّ َکْثَرَ النَّاسِ لاَيَعْلَمُونَ )(1)
ترجمہ : حکم تو بس خدا ہي کے واسطے خاص ہے اس نے تو حکم ديا ہے کہ اس کے سوا کسي کي عبادت نہ کرو غ”يہي سيدھا دين ہے مگر بہت سے لوگ نہيں جانتے ہيں غ”
(َمَرَ َلاَّ تَعْبُدُوا ِلاَّ ِيَّاہُ)کے قرينہ سے پتہ چلتا ہے کہ لفظ ( الحکم ) سے مراد قانون گذاري ہے غ”
(1) سورہظ” يوسف :40
2غ” انبياء کو بھي شريعت ميں تبديلي کا حق نہيں :
رسول خدا (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کا وظيفہ شريعت الظ°ہي کو لوگوں تک پہنچا نا اور اسے اجراء کرنا ہے وگرنہ احکام اسلام ميں کسي قسم کي تبديلي نہيں لا سکتے اور کفار کي آنحضرت(صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے اس درخواست کہغ” آپ اپنے دين ميں تبديلي لائيں يا ايسا قرآن لے کرآئيں جو ہماري مرضي کے مطابق ہو غ” کے جواب ميں خد اوند متعال نے اپنے نبي کوحکم ديا :
(... قُلْ مَا يَکُونُ لِي َنْ ُبَدِّلَہُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِي ِنْ َتَّبِعُ ِلاَّ مَا يُوحَي ِلَيَّ ِنِّي َخَافُ ِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ )(1)
ترجمہ( اے رسول غ–!) تم کہہ دو کہ مجھے يہ اختيار نہيں کہ ميں اسے اپنے جي سے بدل ڈالوں غ” ميں تو بس اسي کا پابند ہوں جو ميري طرف وحي کي گئي ہے ميں تو اگر اپنے پروردگار کي نافرماني کروں تو بڑے ( کٹھن کے )دن سے ڈرتاہوں غ”
3غ” قرآن ميں رہبانيت کي بدعت کي مذمت :
خداوند متعال نے عيسائيوں کي رہبانيت جسے انھوں نے بندگا ن خدا کي راہ پر جال کے طور پر بچھا رکھا ہے اسے بدعت اور خلاف شريعت قرار ديتے ہوئے سخت مذمت فرمائي ہے :
(...َرَہْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوہَامَا کَتَبْنَاہَا عَلَيْہِمْ ِلاَّ ابْتِغَائَ رِضْوَانِ اï·²ِ
(1)سورہظ” يونس : 15.
فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَايَتِہَا فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْہُمْ َجْرَہُمْ وَکَثِير مِنْہُمْ فَاسِقُونَ )(1)
ترجمہ : اور رہبانيت ( لذت سے کنارہ کشي ) ان لوگوں نے خو دايک نئي با ت نکالي تھي ہم نے ان کو اس کا حکم نہيں ديا تھا مگر ( ان لوگوں نے ) خدا کي خوشنودي حاصل کرنے کي غرض سے ( خو دايجاد کيا) تو اس کو بھي جيسا نبھانا چاہئے تھا نہ نبھا سکے غ” تو جو لوگ ان ميں سے ايمان لائے ان کو ہم نے اجر ديا ور ان ميں بہت سے بد کار ہيں غ”(2)
4غ”بدعت ، خدا کي ذات پر تہمت لگانا ہے :
خداوند متعال نے مشرکين کو دين ميں بدعت ايجاد کرنے اور اسے خدا کي طرف نسبت دينے کي وجہ سے سخت مذمت کرتے ہوئے فرمايا :
(قُلْ َرََيْتُمْ مَا َنْزَلَ اï·²ُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ َاï·²ُ َذِنَ لَکُمْ َمْ عَلَي اï·²ِ تَفْتَرُونَ )(3)
ترجمہ ( اے رسول غ–! ) تم کہہ دو کہ تمہارا کيا خيال ہے کہ خدا نے تم پر روزي نازل کي تو اب اس ميں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال بنانے لگے غ” (اے
رسولغ–!) تم کہہ دو کہ کيا خد انے تمہيں اجازت دي ہے يا تم خداپر بہتان باندھتے ہو .
(1) سورہظ” حديد: 27.
(2) تفسير نمونہ 23: 382.
(3) سورہظ” يونس : 59.
5غ” بدعت ، خدا کي ذا ت پر جھوٹ باندھنا ہے :
ايک اور آيت شريفہ ميں تاکيد کرتے ہوئے فرمايا:
(وَلاَتَقُولُوا لِمَا تَصِفُ َلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَذَا حَلاَل وَہَذَا حَرَام لِتَفْتَرُوا عَلَي اï·²ِ الْکَذِبَ ِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَي اï·²ِ الْکَذِبَ لاَيُفْلِحُونَ )(1)
ترجمہ : او رجھوٹ موٹ جو کچھ تمہاري زبان پرآئے ( بے سمجھے بوجھے ) نہ کہہ بيٹھا کرو کہ يہ حلال ہے اور يہ حرام ہے تاکہ اس کي بدولت خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو غ” اس ميں شک نہيں کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہيں وہ کبھي کامياب نہ ہوں گے غ”
(1) سورہظ” نحل : 116.
بدعت ، روايات کي روشني ميں
جس طرح قرآن مجيد نے بدعت گذاروں کي شديد مذمت کي ہے اور ان کے اقوال کو حقيقت سے دور ، جھوٹ اور تہمت پرمبني قرا رديا ہے اسي طرح شيعہ و سني کتب کے اندر موجودہ روايات ميں بھي بدعت گذارکي مذمت اور ا سے فاسق وبدکار انسان قرار ديا گيا ہے ، نمونہ کے طور پر چند ايک روايات کي طرف اشارہ کر رہے ہيں :
1غ”ہر بدعت مردود ہے :
اہل سنت کي دو معتبر کتب صحيح بخاري اور صحيح مسلم ميں حضرت عائشہ سے رسول اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کا قول نقل کيا گيا ہے کہ آپغ– نے فرمايا:
'من احدث في امرنا ھذا، ماليس فيہ فھو رد'.(1)
جو شخص ہماري لائي ہوئي شريعت ميں ايسي چيز کا اضافہ کرے جو اس ميں نہ ہو تو وہ مردود ہے غ”
'...من عمل عملا ليس عليہ امرنا فھو رد'.(2)
جو شخص ايسا عمل کرے جس کا ہم نے حکم نہيں ديا تو وہ عمل مردود ہے غ”
صحيح مسلم ميں رسول خدا (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کا فرمان نقل کيا گيا ہے کہ آپ غ–نے فرمايا:
بہترين کلام ، کلام خدا ہے اور بہترين ہدايت ، ہدايت پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )ہے اور بد ترين کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہي ہے غ”
2غ”ہر بدعت گمراہي ہے :
صحيح مسلم ميں رسول مکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کا فرمان بيان کيا گيا ہے :
(1)صحيح بخاري 3:167 ؛ کتاب الصلح ، باب قول الامام لا صحابہ ...؛ صحيح مسلم 5: 132 ، کتاب الاقضية ، باب بيان خير الشھود ..
(2)صحيح بخاري 3: 24 ،کتاب البيوع ، باب کم يجوز الخيار؛ صحيح مسلم 5:132، کتاب الاقضية ، باب بيان خير الشھود .
'فان خير الحديث کتاب اللہ وخير الھديظ° ھدي محمد و شر ا لا مور محدثا تھا وکل بدعة ضلالة '.(1)
بہترين کلام ، کلام خدا ہے اور بہترين ہدايت ، ہدايت پيغمبر گرامي (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )ہے اور بد ترين امور بدعات ہيں جو دين ميں ايجاد کي جاتي ہيں اور ہر بدعت گمراہي ہے غ”
سنن نسائي ميں ہے :
'کل بدعة ضلالة وکل ضلالة في النار '(2)ہربدعت گمراہي ہے اور ہر گمراہي کا راستہ جہنم ہے غ”
ابن حجر عسقلاني کہتے ہيں :پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) کا يہ فرمان :' کل بدعة ضلالة' ہر بدعت گمراہي ہے غ”
منطوق و مفہوم يعني ظاہر اور دلالت کے اعتبار سے ايک قاعدہ ظ” کلي ہے اس لئے کہ اس فرمان کا مطلب يہ ہے کہ جہاں بھي بدعت پائي جائے وہ گمراہي ہے اور شريعت سے خارج ہے اس لئے کہ پوري کي پوري شريعت ہدايت ہے اس ميں گمراہي کا کوئي امکان نہيں غ”
اگر ثابت ہو جائے کہ فلاں حکم بدعت ہے تو منطق کے اعتبار سے يہ دو
(1)صحيح مسلم 3: 11 کتاب الجمعة ، باب تخفيف الصلاة والجمعة.
(2)سنن نسائي 3: 188 ؛ جامع الصغير سيوطي 1:243؛ صحيح ابن خزيمہ 3: 143 ؛ ديباج علي مسلم 1: 5.
مقدمے (يہ حکم بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہي ہے ) صحيح ہيں جن کا نتيجہ يہ حکم گمراہي اور دين سے خارج ہے غ” خود بخود ثابت ہو جائے گا غ”
اورا س جملہ 'کل بدعة ضلالة ' سے آنحضرت غ– کي مراد ہر وہ نيا کام ہے جس پر شريعت ميں کوئي دليل خاص يا عام موجود نہ ہو غ”(1)
روايات شيعہ کي روشني ميں بدعت
کتب شيعہ ميں بھي بدعت کي مذمت اور اس سے جنگ کرنے کے بارے ميں متعدد روايات وارد ہوئي ہيں جن ميں سے چند ايک کي طرف اشارہ کر رہے ہيں :
1غ” بدعت ،سنت کي نابودي کا باعث :
حضرت علي عليہ السلام فرماتے ہيں :'ما احدثت بدعة الا ترک بھا سنة (1)جب بھي کوئي بدعت ايجا د ہوتي ہے تو اس کي وجہ سے ايک سنت نابود ہو جاتي ہے غ”
2غ” بدعت گذار پر خدا ، ملائکہ اور لوگوں کي لعنت ہے :
امام محمد باقر عليہ السلام پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے نقل کرتے ہيں کہ آپ نے فرمايا:
(1)کل بدعت ضلالہ ،قاعدة شرعيہ کلية بمنطوقھاومفھومھااما منطوقھا فکان يقال حکم کذابدعة وکل بدعةضلالة فلاتکون من الشرع لان الشرع کلہ ھدي فان ثبت ان الحکم المذکوربدعة صحت المقدمات وانتجتاالمطلوب والمرادبقولہ ،کل بدعة ضلالة ، مااحدث ولادليل لہ من الشرع بطريق خاص ولاعام ، فتح الباري 13:212
(2)نہج البلاغہ ، خطبہ :145 ؛ مستدرک الوسائل 12: 324؛ بحار الانوار2: 264.
'من احدث حدثا ، او آوي محدثا ، فعليہ لعنة اللہ ، والملائکة ، والناس اجمعين ، لا يقبل منہ عدل ولا صرف يوم القيامة ...'(1 )
جو شخص بدعت ايجاد کرے يا کسي بدعت گزار کو پناہ دے ( اس کے لئے امکانات فراہم کرے ) اس پر خدا ، ملائکہ اور تمام لوگوں کي لعنت ہے او ر اس کا کوئي عمل قبول نہيں ہوگا ...
3غ” بدعت گزار کے ساتھ ہم نشيني کي ممانعت :
امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :
'لا تصبحوا اہل البدع ولاتجالسوھم فتصيروا عند الناس کواحد منھم ، قال رسول اللہ ( صلي اللہ عليہ وسلم ) : المرء علي دين خليلہ وقرينہ'(2)
بدعت گزار وں کے ساتھ مت اٹھو بيٹھو کہ کہيں تمہيں بھي لوگ انھيں ميں شمار نہ کرنے لگيں چونکہ انسان اپنے دوست کا ہم مذہب ہوتا ہے غ”
4غ” اہل بدعت سے بيزاري واجب ہے :
امام جعفر صادق عليہ السلام نے رسول خدا (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے نقل
(1)وسائل الشيعہ 29: 28؛ بحار الانوار27: 65؛ سنن ابو داؤد 2: 275، طبع دار الفکر للطباعة بيروت ؛ سنن نسائي 8:20 ، طبع دار الفکر للطباعة بيروت غ”
( 2)اصول کافي 2: 375 3، باب مجالسة اہل المعاصيغ”
کيا ہے کہ آپ غ– نے فرمايا :
'واذا رائيتم اہل الريب والبدع من بعدي فاظھروا البراء ة منھم واکثروا من سبھم والقول فيھم والوقيعة..'( 1)
اگر ميرے بعد اہل شک اور بدعت گزاروں کو ديکھو تو ان سے بيزاري و نفرت کا اظہار کرو ان پر سب وشتم کرو اور ان کي برائي کو بيان کرو ( تاکہ معاشرے ميں ان کا مقام گر جائے اور ان کي بات کي اہميت نہ رہے )
5غ”بدعت گذار کا احترام ، دين کي نابودي:
امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :
'من تبسم في وجہ مبتدع فقد اعان علي ھدم دينہ '(2)
جو شخص بدعت گذار کے سامنے اظہار تبسم کرے اس نے دين کي نابودي ميں اس کي مدد کي ہے غ”
نيز فرمايا: 'من مشيظ° الي صاحب بدعة فوقرہ فقد مشي في ھدم الاسلام '.(3)
جو شخص بدعت گذار کي ہمراہي اور ا س کا احترام کرے درحققيت اس نے دين اسلام کي نابودي کي طرف ايک قدم بڑھايا غ”
(1)اصول کافي 2: 4375، باب مجالسة اہل المعاصي .
(2) بحار الانوار47: 217،مناقب ابن شہر آشوب 3: 375 ؛ مستدرک الوسائل 12: 322.
(3)محاسن برقي 1: 208 ؛ ثواب الاعمال شيخ صدوق : 258؛ من لا يحضرہ الفقيہ 3: 572؛ بحار الانوار2:304.
6غ” بدعت کا مقابلہ کرنے کاحکم :
مرحوم کليني (رحمة اللہ عليہ )نے محمد بن جمہور کے واسطے سے پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے نقل کيا ہے کہ آنحضرت غ– نے فرمايا :
'اذا ظھرت البدع في امتي فليظھر العالم علمہ ، فمن لم يفعل فعليہ لعنة اللہ 'غ”(1)
ترجمہ: جب ميري امت ميں بدعات ظاہر ہونے لگيں تو علماء پر واجب ہے کہ وہ اپنے علم کا اظہار کريں ( اور اس بدعت کا راستہ روکيں ) پس جو ايسا نہ کرے اس پر خدا کي لعنت ہے غ”
کيا بزرگان دين کي ياد منانا بدعت ہے ؟
اس فصل کے شروع ميں بيان کر چکے کہ وہابي پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) کے ميلاد اور انکي وفات کے سوگ منانے کو بدعت قرار ديتے ہيں غ”
سابق سعودي مفتي اعظم بن باز کا فتويظ° بھي نقل کرچکے کہ وہ کہتا ہے :
ميلاد النبي غ– جائز نہيں ہے چونکہ دين ميں بدعت شمار ہوتا ہے اس لئے کہ رسول خدا غ– ، خلفائے راشدين اور ديگر صحابہ و تابعين نے يہ کام انجام نہيں ديا

اسي طرح سعودي عرب کي مجلس دائمي فتويظ° نے مراسم سوگواري کے بارے ميں سوال کے جواب ميں لکھا ہے :
انبياء و اولياء کي وفات کي ياد مانا جائز نہيں ہے چونکہ يہ دين ميں بدعت اور شرک کا وسيلہ ہے غ”(3)
(1)اصول کافي 1: 254،باب البدع.
( 2)لايجوز الاحتفال بمولد الرسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم ولا غيرہ ؛ لان ذلک من البدع المحدثة في الدين ، لان الرسول (ص)لم يفعلہ ولاخلفاؤہ الراشدون ولا غيرھم من الصحابة رضي اللہ عنھم والتابعون لھم باحسان في القرون المفضلة 'مجموع فتاوي ومقالات متنوعة 1:183 وفتاوي اللجنة الدايمة للبحوث العلمية والافتاء 3: 18.
(3)لا يجوز احتفال بمن مات من الانبياء والصالحين والاحياء ذکراھم بالموالد و...لان جميع ماذکر من البدع المحدثة في الدين ومن وسايل الشرک '.فتاوي اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والافتاء 3:54 ، فتواي شمارہ 1774
انبياء کے ميلاد کا قرآن سے اثبات
گذشتہ مطالب سے يہ واضح ہو جاتا ہے کہ پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) اور اہل بيت عصمت وطہارت عليہم السلام کي ياد منانے پر قرآن و سنت ميں ايسے اطلاقات و عمومات موجود ہيں جو اس کي مشروعيت کو ثابت کرتے ہيں غ”
1غ”يہ درحقيقت تعظيم رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )ہے :
خداوند متعال فرماتا ہے :
(... فَالَّذِينَ آمَنُوا بِہِ وَعَزَّرُوہُ وَنَصَرُوہُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي ُنزِلَ مَعَہُ ُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ )(2)
ترجمہ : ...پس جو لوگ اس پر ايمان لائے اس کا حترام کيا اس کي مدد کي اور
(2) سورہظ” اعراف: 157.
اس نور کا اتباع کيا جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہي درحقيت فلاح يافتہ اورکامياب ہيں غ”
جب جملہ (وَعَزَّرُوہُ )سے بطور کلي تعظيم رسول (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) ثابت ہوتي ہے توميلاد النبي غ– کا جشن اور اس کي خوشي بھي تعظيم و تکريم نبي غ–کا ايک مصداق ہے غ”
2غ” يہ اجر رسالت ہے :
( قُلْ لاََسَْلُکُمْ عَلَيْہِ َجْرًا ِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَي)(1)
ترجمہ : رسول غ–! ان سے کہہ دو کہ ميں تم سے اجر رسالت نہيں چاہتا مگر يہ کہ ميرے اہل بيت سے محبت کرو غ”
خداوند متعال نے اس آيت شريفہ ميں اہل بيت پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے محبت ودوستي کو اجر رسالت قرار ديا ہے تو اہل بيت عليہم السلام کي ہر طرح کي تعظيم و تکريم چاہے وہ ان کي ولادت کے دن خوشي مناکر ہويا ان کي شہادت کے ايام ميں عزاداري کي مجالس برپا کرکے يہ سب حکم خدا پر لبيک کہتے ہوئے ان سے محبت و مودت کا اظہار کرنا ہے
3غ” ميلاالنبي بھي جشن نزول مائدہ کے مانند:
قابل غور نکتہ آسماني دسترخوان کے نزول کي مناسبت سے بني اسرائيل کي
(1) سورہظ” شوريظ°:23.
سالانہ عيد کے جشن کي داستان ہے جس کے بارے ميں خداوند متعال فرماتا ہے :
( اللّظ°ھُمَّ رَبَّنَا َنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَائِ تَکُونُ لَنَا عِيدًا لَِوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وََنْتَ خَيرُ الرَّازِقِينَ )(1)
ترجمہ: پروردگار ! ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل کردے کہ ہمارے اول وآخر کے لئے عيد ہو جائے اور تيري قدرت کي نشاني بن جائے اور ہميں رزق دے کہ تو بہترين رزق دينے والا ہے غ”
جب نزول مائدہ جيسي عارضي نعمت سالانہ عيدبن سکتي ہے تو پھر ولادت وبعثت نبي (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )جو بشريت کے لئے نعمت جاودانہ ہے وہ کيسے عيد اور خوشي کا باعث نہيں بن سکتي غ”
سعودي عرب کي قومي عيديں
تعجب آور بات تو يہ ہے کہ اسي مجلس نے سعودي عرب کي سرکاري عيدوں کے بارے ميں لکھا ہے :
'وماکان المقصود منہ ( العيد ) تنظيم الاعمال مثلا لمصلحة الامة وضبط امورھا ؛ کاسبوع المرور ، وتنظيم مواعيد الدراسية والاجتماع الموظفين للعمل ونحوذلک ، مما يفضي بہ الي
(1)سورہظ” مائدہ: 114.
التقرب والعبادة والتعظيم بالاصالة ، فھو من البدع العادية التي لا يشملھا قولہ صلي اللہ عليہ وسلم احدث في امرنا ما ليس منہ فھو رد ، فلا حرج فيہ ؛ بل يکون مشروعاً '(1)
اگر ان عيدوں کے منانے کا مقصد قوم کي مصلحت اور ان کے امور کي تنظيم ہو جيسے ہفتہ پوليس ، تعليمي سال کا آغاز ، سر کاري ملازموں کا اجتماع وغيرہ جن ميں عبادت اور تقرب خدا کا قصد نہيں کيا جاتا تو اس ميں کوئي مانع نہيں ہے اور يہ نہي پيغمبر ميں شامل نہيں ہوں گي غ”
واضح ہے کہ ايسا تفکر ، فکري جمود کي انتہاء ہے اس لئے کہ اگر چہ جشن ولادت کي مخالفت ايک فطري امر کي مخالفت کرنا ہے بلکہ جشن ولادت اور سرکاري جشن ميں کوئي فرق نہيں ہے چونکہ اپني اولاد کي ولادت کي خوشي منانے والا شخص ہر گز عبادت يا تقرب خداکا ارادہ نہيں کرتا ( تاکہ اس کا يہ جشن منانا بدعت قرار پائے )غ”
(1) فتاويظ° اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والافتاء 3: 88، فتويظ° 9403.
تعليق