إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

ماہ رمضان اور ہماري ذمہ دارياں

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • ماہ رمضان اور ہماري ذمہ دارياں


    رمضان کا مہينہ جہاں اپنے ساتھ رحمتيں برکتيں نعمتيں اور بشارتيں لاتا ہے وہيں ہم سب روزہ داروں پر ايک عظيم ذمہ دارياں بھي عائد کرتا ہے۔ اس مقالہ ميں ہمارا مقصد علماء و مبلغين و نيزروزہ داروں کي ذمہ دارياں بيان کرنا ہے ۔
    ويسے توايک عالم دين کا ہر قدم اور ہر لمحہ دين اسلام کي تبليغ ميں گزرنا چاہئے ليکن بعض حالات اوراوقات ميں اس کي ذمہ داري کچھ اور زيادہ بڑھ جاتي ہے ان ميں سے ايک خاص موقع ماہ مبارک رمضان ہے جسے ايک غنيمت کا موقع جان کر مبلغ سال کے دوسرے ايام کي بہ نسبت زيادہ سر گرم و ذمہ دار ہوجاتا ہے۔
    جيسا کہ ارشاد رب العزت ہے:الذين يبلغون رسالات اللہ و يخشونہ ولا يخشون ۔۔۔الا اللہ و کفي باللہ حسيباً وہ افراد جو لوگوں تک خدا کا پيغام پہنچاتے ہيں اور اس سے ڈرتے ہيں انہيں خدا کے علاوہ کسي کا خوف نہيں ہوتا اور خدا حساب و کتاب کےلئے کافي ہے ۔
    مبلغ کي ذمہ دارياں :
    1۔ خدا کا پيغام پہنچانے والاہو: ايک مبلغ کي سب سے اہم ذمہ داري يہ ہے کہ وہ لوگوں تک خدا کے پيغام پہنچائے ۔ اپني طرف سے يا عوام الناس کي رضا و رغبت کے مطابق گفتگو نہ کرے ۔ سماج اور معاشرے کي ضرورت کو مد نظر رکھے۔اور جس چيز کا حکم قرآ نے ديا ہے اس پر عمل کرے۔
    خداسے خوف کھاتا ہو: تبليغ کي ايک شرط اور مبلغ کي ذمہ داري يہ ہے کہ خدا کا پيغام پہونچانے ميں عدالت سے کام لے۔ خدا کي باتوں کو کم و کاست کرکے يا مطالب اور مفاہيم کو بدل کرکے لوگوں کے سامنے پيش نہ کرے۔ بلکہ خدا سے ڈرے اگر مبلغ کے اندر يہ احساس پيدا ہوجائے تو وہ يقيناً وہي کہے گا جو اس کي ذمہ داري ہوگي۔
    حق بات کہنے والا ہو: يعني مبلغ کو چاہئے کہ خدا کا پيغام پہونچانے ميں خوف و ہراس کا شکار نہ ہو ۔ مخالفين کي مخالفت سے ڈرتا نہ ہو۔
    دل سوز ہو: اس سے مراد يہ ہے کہ اس کي کوشش يہ ہوني چاہئے کہ اس مبارک مہينہ ميں تبليغ کے لئے ايسے علاقہ کا انتخاب کرے جہاں عام طور سے مبلغ حضرات کي کمي ہو اور جہاں خدا اور اسلام کا پيغام بہت کم پہونچا ہے۔ اور ساتھ ہي ساتھ مبلغ کے لئے يہ بھي ضروري ہے کہ جہاں وہ تبليغ کے لئے جارہا ہو اسے وہاں کي علمي ، ثقافتي، مذہبي، فکري اور اقتصادي حالت سے آشناہو تاکہ وہ ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں کي صحيح رہنمائي کرسکے۔
    با صلاحيت افراد سے مدد لے:يعني اپنے معاشرہ اور سماج کے با استعداد اور با صلاحيت افراد سے اپنے تبليغي کام ميں مدد حاصل کرے۔تاکہ اسے تبليغ کے ميدان ميں کاميابي حاصل ہوسکے اور اپني ذمہ داري کو بطور احسن انجام دے سکے ۔ دوسري جو سب سے اہم بات ہے وہ يہ ہے کہ وقت کي نزاکت کا خاص خيال رکھے ۔ مختصر اور مفيد مطالب پيش کرے ۔طولاني بحث سے پرہيز کرے ۔ مگر يہ کہ ا س کي ضرورت ہو۔
    دوسرے علماء کا احترام : مبلغ جس منطقہ ميں گيا ہے ممکن ہے وہاں پر دوسرے مقامي يا غير مقامي علماء بھي تبليغي فرائض انجام دے رہے ہوں ، ان کا حترام کرنا انہيں بعض چيزوں ميں خود پر مقدم کرنا ، ان سے رابطہ ميں رہنا اور لوگوں کے مسائل و مشکلات ميں ان سے مشورہ لينا يہ ايک مبلغ کي اہم ذمہ داري ہے ۔ اس کا حد اقل فائدہ يہ ہوگا کہ وہ آپ کي مخالفت نہيں کريں گے بلکہ وہ آپ کے کاموں ميں آپ کي مدد بھي کريں گے۔
    7۔ کسي خاص گروہ سے منسلک نہ ہو : مثلاً مبلغ کسي ايسي جگہ تبليغ کے لئے گيا ہو جہاں لوگ دو يا اس سے زيادہ گروہوں ميں بٹے ہوئے ہوں تو ايسے مقام پر مبلغ کي سب سے پہلي ذمہ داري ہے کہ ان کے اختلافات کو سوچ سمجھ کر انہيں ايک پليٹ فارم پر متحد کرے اور اگر ايسا نہيں کرسکا تو کسي ايک گروہ سے منسلک نہ ہو ورنہ وہ اسلام کي تبليغ نہيں کر پائے گا ۔ کيونکہ اسے ايک خاص گروہ کي حمايت تو ضرور حاصل ہوگي ليکن دوسرے گرہوں کے افراد اس سے نالان اور اس کي باتوں کو اہميت نہيں ديں گے۔اس کے علاوہ اور بھي مزيد مبلغين کي ذمہ دارياں ہيں جيسے:نوجوانوں اور جوانوں پر خاص توجہ دينا۔ اس لئے کہ نوجوان اور جوان يہ بات کو فراق دل سے قبول کرنے کے لئے ہمہ تن گوش رہتے ہيں۔ اور ان کي توحيدي فطرت انہيں نيک باتوں کہ طرف جذب کرتي ہے اور مبلغ کي ذمہ داري يہ ہے کہ خاص طور پر قرآن کي تعليم پر خصوصي توجہ ديں ۔
    اس لئے کہ پيغمبر اکرم)ص) نے فرماياہے کہ:تم ميں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن کي تعليم حاصل کرے اور پھر دوسروں کو اس کے تعليم دے " خير کم من تعلم القران و علمہ "۔
    اور رمضان مبارک کو قرآن کي بہار کہا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ قرآن مجيد ايک ايسا عميق دريا ہے جسے اس وقت تک نہيں سمجھا جاسکتا ہےجب تک اس کي گہرايوں ميں غوطہ نہ لگايا جائے ۔ اور اس کتاب ميں مختلف پہلو ہيں جب تک ان پہلو کو نہيں پہچانے تب تک قرآن کي عظمت و بلندي اس پر واضح نہيں ہوگي ۔ اس کتاب ميں غيبي حقائق ، اسرار ، حکمتيں ، احکام ، شريعتيں ، قصے ، مثاليں پائي جاتي ہيں ۔ اس ميں تنزيل بھي ہے اور تاويل بھي ۔ ظاہر بھي ہے اور باطن بھي ۔ محکم بھي ہے اور متشابہ بھي لہذا جب تک انسان ان تمام جہات کو نہ پہچانے قرآن کي عظمت کو نہيں پہچان سکتا ۔ اس لئے مبلغ کے لئے معاشرے ميں علمي فکري اور ثقافتي انقلاب لانے کے لئے لوگوں کو قرآن اور اس کے مفاہيم کي طرف متوجہ کرنا نہايت ضروري ہے .
    ہم نے اپني ابتدائي گفتگو ميں مبلغين کي ذمہ داريوں پر روشني ڈالي ہے بحث کے اختتام ميں خلاصہ کے طور پر ہم عام روزہ داروں کي اس ماہ مبارک ميں کيا ذمہ دارياں ہيں بيان کرنا چاہتے ہيں:
    پيغمبر اکرم(ص) کے اس خطبہ سے جسے آنحضرت (ص) نے ماہ مبارک شعبان کے آخري ايام ميں ارشاد فرمايا۔ جس کے مطالعہ سے ہميں ايک روزہ دار پر کيا ذمہ داري عائد ہوئي معلوم ہوجاتا ہے:
    1۔ روزہ فقط بھوکے رہنے کا نام نہيں ہے بلکہ روزہ دار کو يہ معلوم ہونا چاہئے کہ يہ کون سا مہينہ ہے ۔ اس کي عظمت و شرف کيا ہے پيغمبر(ص) نےفرمايا کہ يہ وہ مہينہ ہے جو اپنے ہمراہ برکتيں ، رحمتيں ، مغفرت لے کر آيا ہے ۔ قد اقبل اليکم شھر اللہ بالبرکۃ و الرحمۃ و المغفرۃ۔
    2۔يہ مہينہ دعاؤں کا مہينہ ہے لہذا ہميں خلوص دل سے دعائيں کرنا چاہئے اور اپنے معبود حقيقي کي بارگاہ ميں توبہ و استغفار کرنا چاہئے اس ماہ ميں ہميں نيت پاک و دل پاک کے ساتھ خدا وند عالم کي درگاہ ميں دعا کرنا چاہئے۔ ہميں فقط دعا کرنا ہے استجابت کرنے والا خدا وند عالم ہے ھو الغفور الرحيم ۔ ادعوني استجب لکم اور اس ماہ ميں دعائيں مستجاب بھي ہوجاتے ہيں " و دعاء کم فيہ مستجاب " کيونکہ شقي و بدبخت انسان وہ ہے جو اس ماہ مبارک ميں خدا سے مغفرت طلب نہ کرے ۔
    3۔ فقراء اور مساکين کو صدقہ دينا اس ماہ مبارک ميں ہمارا فرض بنتا ہے کيونکہ صدقہ 70 قسم کي بلائيں انسان سے دور کرديتا ہے اور عمر طولاني ہوجاتي ہيں "وتصدقواعلي فقرائکم و مساکينکم"
    4۔ گناہوں سے توبہ کرنا: اور دعا کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرنا خصوصاً ہر نماز پنجگانہ کے وقت کيونکہ يہ وقت ايسا وقت ہے جس ميں خدا اپني نظر رحمت کے ساتھ بندوں پر نظر کرتا ہے ۔ اور خدا محبت کرتا ہے جو بھي مناجات کرے اور خدا لبّيک کہتا ہے ۔جو بھي بندہ خدا کو ندا دے {يحبھم اذاناجوکم ويلبيھم اذا نادوہ ويستجيب لھم اذا دعوہ} توبہ کي قبوليت کے لئے چار بنيادي شرط ہيں فقط استغفر اللہ کہنے سے توبہ قبول نہيں ہوجاتے ۔
    1: گناہ کو بُرا جانتے ہوئے ترک کرنا ؛ ترک الذنب لقبحہ۔ 2/ گناہ کي انجام دہي پر پشيمان ہونا ؛ و الندم علي ما فرط منہ۔3/دوبارہ گناہ کي طرف نہ پلٹنا؛ والعزم علي ترک المعاصي۔4/ ترک شدہ وظيفہ کي قضا کرنا؛ وتدارک ما امکنہ ان يتدارک من الاعمال بالاعادۃ۔
    5۔ صلہ رحم رکھنا: اس ماہ مبارک ميں انسان اپنے قرابتدار,رشتہ دار, ماں باپ , بھائي بہن وغيرہ کے ساتھ صلہ رحم کرے تو قيامت کے دن خدا وند عالم بھي اپني رحمت کے ساتھ اسےمتصل کرديتا ہے اور اگر قطع رحم کرے تو قيامت کے دن خدا وند عالم بھي اپني رحمت سے اسے محروم رکھے گا۔ اور اگر قطع رحم کرے تو قيامت کے دن خدا وند عالم اپني رحمت کو اس پر قطع کرديتا ہے۔ [ من وصل فيہ رحمہ وصلہ اللہ برحمۃيوم يلقاہ ومن قطع رحمہ قطع اللہ عنہ رحمۃيوم يلقاہ] اس لئے کہ قرآن اور احاديث ميں صلہ رحم کے بارے ميں بہت تاکيد کي گئي ہے ۔ پيامبر اکرم(ص) فرماتے ہيں [صلۃ الرحم تزيد في العمر وترفع ميتۃالسوء] صلہ رحم عمر کو طولاني کرديتا ہے اور بدبختي سے انسان کو بچاتا ہے ۔ روايت ميں آيا ہے اگر کسي کي عمر 60 سال ہو تو وہ صلہ رحم کرے تو 60 سال اس کي عمر ميں اضافہ ہوجاتا ہے اگر قطع رحم کيا تو 60 سال ميں سے 30 سال کم ہوجاتا ہے ۔ يہ صلہ رحم اور قطع رحم کي فرق تو ماہ مبارک ميں ہميں ان نکات مذکورہ پر توجہ کرنا ہماري ذمہ داري ہے اس خطبہ عظيم الشان کے آخر ميں امير المومنين علي(ع)نےکھڑے ہوکر پيا مبر اکرم(ص) سے پوچھا يا رسول اللہ اس ماہ مبارک ميں سب سے زيادہ افضل اعمال کونسا عمل ہے ۔ تو پيامبر (ص) نے فرمايا : "يا ابا الحسن!افضل الاعمال في ھذاالشھر الورع عن محارم اللہ" يا علي(ع)اس ماہ مبارک ميں بہترين اعمال محرمات الٰہي سے دور رہنا يعني گناہوں سے دور رہنا ہے ۔
    اب ہم ديکھيں اگر يہ سوال کسي اور سے کيا جائے تو کچھ اور جواب ديتا مثلاً کوئي کہتا کہ رمضان ميں بہتريں عمل قرآن پڑھنا ہے ۔ يا کہتا انفاق کرنا بہترين عمل ہے يا مہماني کرنا يا صلہ رحم کرنا وغيرہ ہے ۔ اگر حضرت علي(ع)نے پيغمبر اکرم (ص) سے يہ سوال نہ کرتے تو ہميں کيا پتہ کہ رمضان ميں بہترين عمل کيا ہے ؟
    آخر ميں ہم بارگاہ خدا وندي ميں دعا گو ہيں کہ ہماري طاعت و عبادت کو قبول کرے اور ہماري توفيقات ميں اضافہ فرمائےاور ہم کوصحيح معنيٰ ميں اس ماہ مبارک اور اس ميں جو ذمہ دارياں ہمارے اوپر ہيں ان کو سمجھنےاور اس پر عمل کرنے کي توفيق ديں۔
يعمل...
X