إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کي شرائط

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کي شرائط

    پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: ’’منا-والذي نفسي بيدہ- مھدي ھذہ الامۃ الذي يملأ الارض قسطاً وعدلا کما ملئت جوراً و ظلماً ‘‘ اس امت کا مہدي ہم ميں سے ہے جو زمين کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکي ہوگي


    کسي انقلاب کي شرائط سے مراد ايسے امور ہيں کہ جن سے انقلاب وابستہ ہے اور ان امور پر ہي انقلاب قائم ہے۔ ہر انقلاب کي طرح امام مہدي عليہ السلام کے عظيم اورعالمي انقلاب کيلئے چار شرطيں لازمي ہيں:
    الف: مکمل اور جامع قانون:
    موجود حالت کو ختم کرنے اور مطلوبہ حالت کو قائم کرنے کے لئے ايک انقلاب کو دو قسم کے پروگراموں کي ضرورت ہے:
    (1)۔ موجودہ حالت کو ختم کرنے کيلئے پروگرام (انقلاب کے دوران)
    (2)۔ مطلوبہ حالت تک پہنچنے اور معاشرے کوتحرک دينے کے لئے ايک مناسب قانون (انقلاب قائم ہونے کے بعد کا دور)
    حضرت امام مہدي عليہ السلام کے عالمي قيام کے لئے بھي انہيں دو قسم کے منصوبوں کي ضرورت ہے پہلے پروگرام کے مطابق ، احاديث کي بناپر آپ کا پروگرام ،سچائي اورحقيقت کي طرف دعوت کے بعد، شرک و کفر اور فساد کے مکمل خاتمہ تک مسلحانہ تحرک ہے ۔ با الفاظ ديگر، حضرت امام مہدي عليہ السلام ظہور کے وقت، سب سے پہلے لوگوں کو دين حق اور اپني امامت کي دعوت ديں گے اور اگر کسي نے مخالفت کي اور کفروشرک کي راہ کو جاري رکھنا چاہا تو امام عليہ السلام اس سے مقابلہ کريں گے يہ روش قرآن سے لي گئي ہے۔’’ وقاتلوھم حتي لاتکون فتنۃ ويکون الدين للّہ‘‘ (سورہ بقرہ،آيہ 193.)
    دوسرے پروگرام ميں بھي امام عليہ السلام کا پروگرام کتاب خدا اور سنت پيغمبر پر عمل کي بنيادپر ہے يہ ايسا قانون ہے کہ جسے پرورگار عالم نے بھيجا ہے اور وہ دنيوي اوراُخروي سعادت کا ضامن ہے۔ پيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ايک بيان ميں فرمايا: ’’ اس کي سيرت اور سنت ميري سنت ہے وہ لوگوں کو ميرے دين اور آئين اور پروردگار عالم کي کتاب کي طرف دعوت دے گا۔‘‘ ( کمال الدين،ج2، ب39، ح6.)
    ب: قيادت:
    ايک انقلاب کو وجود ميں لانے کے لئے دوسري شرط ، آگاہ ، شجاع ، ہمدرد، جانثار اورطاقتور پيشوا اوررہبر کي ضرورت ہے۔ تاکہ وہ منصوبوں اوراہداف، وسائل، مشکلات اوررکاوٹوں سے مکمل آگاہ ہواورصحيح اورعاقلانہ انداز سے اس انقلابي حرکت کي قيادت کرے اور آخري دم تک اسے جاري رکھے۔
    امام مہدي عليہ السلام کے عظيم انقلاب ميں بھي يہ شرط پائي جاتي ہے، اس انقلاب کا قائد اور رہبر، پيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اورسلسلہ نوراني امامت کا ايک عظيم فرد ہے کہ جس نے ولايت کي آغوش ميں تربيت حاصلي کي ہے اوروہ علوم انبياء کا وارث اورقرآن اورديني معارف سے آگاہ ہے۔ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: ’’منا-والذي نفسي بيدہ- مھدي ھذہ الامۃ الذي يملأ الارض قسطاً وعدلا کما ملئت جوراً و ظلماً ‘‘ اس امت کا مہدي ہم ميں سے ہے جو زمين کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکي ہوگي۔ ( کما ل الدين، ج1، ب24، ج10.)
    ج: انصار:
    ايک انقلاب کي تيسري شرط جانثار ساتھيوں کا ہونا ہے جو رہبر اوراس کے مقاصد اور منصوبوں سے آگاہ ہو کر اور ان کے بارے ميں پختہ عقيدہ رکھ کر آخري دم تک رہبر اور انقلاب سے پيچھے نہ ہٹيں اوروہ ہر قسم کي قرباني کيلئے آمادہ ہوں۔ امام مہد ي عليہ السلام کو بھي ايسے اصحاب اورساتھيوں کي ضرورت ہے جو امام اوردين کي معرفت حاصل کرتے ہوئے آخري دم تک جان قربان کرنے سے دريغ نہ کريں۔
    امام تقي عليہ السلام سے ايک حديث ميں نقل ہوا ہے: ’’ زمين کے مختلف علاقوں سے اہل بدر کي تعداد کے برابر (313افراد) ان کے گرد اکھٹے ہوں گے...۔ جب يہ افراد جمع ہوگئے تو خداوند عالم ان کا ظہور کرے گا اورجب دس ہزار افراد کي تعداد مکمل ہوگي تو خدا کے اذن سے وہ قيام کريں گے۔ ( کمال الدين، ج2، باب 37، ج2.)
    د۔ لوگوں کا قبول کرنے کے لئے آمادہ ہونا:
    انقلاب کے واقع ہونے کي ايک اورشرط ، لوگوں کا اس انقلاب کو قبول کرنا ہے، لوگ موجودہ حالت اورحاکميت کي تبديلي کے خواہاں ہونے چاہئيں اور قائد انقلاب اور اس کے پروگراموں کو تسليم کريں۔ ورنہ حرکت انقلاب اپنے مطلوبہ اہداف نہيں پاسکتي۔
    امام مہدي عليہ السلام کے انقلاب ميں بھي اس شرط کا ہونا ضروري ہے لوگ، آگاہي اوررشد کے لحاظ سے اس حد تک پہنچ چکے ہوں کہ منجي عالم بشريت کے اس عظيم قيام اور اصلاحي حرکت کو قبول کريں اور ان کے مقاصد اور منصوبوں کو پايہ تکميل تک پہنچانے کے لئے تعاون کريں۔ تاريخ اپنے اندر، لوگوں کے کئي ايسے واقعات سموئے ہوئے ہے جو لوگوں کے آمادہ ہونے اور نہ ہونے کو ظاہر کرتے ہيں ۔ مثال کے طور پر پيغمبراکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي مدينہ کي طر ف ہجرت اور اسلامي حکومت کے قيام کے لئے لوگوں کا بنيادي کردار ہے۔ عثمان کے قتل ميں مدينہ اوردوسرے شہروں کے لوگوں کا اجتماع اور پھر امام علي عليہ السلام کي عادلانہ حکومت کا قيام اسي طرح لوگوں کا امام حسن اور امام حسين عليھما السلام کے ساتھ تعاون نہ کرناجس کے نتيجہ ميں اسلام دشمنوں نے انہيں شہيد کرديا۔
يعمل...
X