بسم اللہ الرحمن الرحيم
معرفت
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امت کا سب سے اہم فريضہ معرفت امام زمانہ عليہ السلام کا حصول ہے اور يہ اس قدر اہميت کي حامل ہے کہ پيغمبر اکرم نے فرمايا من مات ولم يعرف امام زمانہ مات ميتة جاہلية چنانچہ امت کو چاہيے کہ امام عليہ السلام کي معرفت کي راہ ميں جدوجہد کرے خصوصا ان دعاؤں کي کثرت سے تلاوت کي جائے جو راہ ميں معاون ہيں جيسا کہ امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروي ہے اللھم عرفني نفسک فانک ان لم تعرفني نفسک لم اعرف نبيک اللھم عرفني نبيک فانک ان لم تعرفني نبيک لم اعرف حجتک اللھم عرفني حجتک فانک ان لم تعرفني حجتک ضللت عن دينيغ”معرفت
ترجمہ : خدايا! مجھے اپني ذات کي معرفت عطا فرما کيونکہ اگر تو مجھے اپني ذات کي معرفت عطا نہ کرے تو ميں تيرے نبي کي معرفت حاصل نہيں کر سکتا خدايا! مجھے اپنے نبي کي معرفت عطا فرما کيونکہ اگر تو مجھے اپنے نبي کي معرفت عطا نہ کرے تو ميں تيري حجت (حجت زمانہ) کو نہيں پہچان سکتا خدايا! مجھے اپني حجت کي معرفت عطا فرما دے کيونکہ اگر تو مجھے اپني حجت عليہ السلام کي معرفت عطا نہ کرے تو ميں اپنے دين سے گمراہ ہو جاؤں گاغ”
عن الي عبداللہ عليہ السلام في قول اللہ عزوجل من يوت الحکمہ فقد اوتي خيرا کثيرا فقال طاعة اللہ و معرفة الامام فرماياامام جعفر صادق عليہ السلام نے اس آيت کے متعلق جس کو حکمت دي گئي اسے خير کثير دي گئي اس حکمت مراد اللہ کي اطاعت اور معرفت امام عليہ السلام ہےغ”
(اُصول کافي ج1کتاب الحجت ص212)
اطاعت
قرآن و حديث کي رو سے امام عليہ السلام کي اطاعت کو مطلقاً واجب قرار ديا گيا ہے ليکن غيبت کبريظ° کے زمانے ميں يہ ذمہ داري اور بھي سنگين ہو جاتي ہے عن الي جعفر عليہ السلام في قول اللہ عزوجل واظ°تمنا ھم ملکا عظيما قال الطاعة المفروضةغ”آيت مبارکہ اور ہم نے ان کو ملک عظيم ديا کے متعلق امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا کہ اس سے مراد ہماري وہ اطاعت ہے جو لوگوں پر فرض کي گئي ہےغ”
(اُصول کافي ج1کتاب الحجت ص412)
تعجيل ظہور کي دعا
حضرت مہدي عليہ السلام کے ظہور ميں جلدي کي کثرت سے دعائيں مانگيں کيونکہ خود وارث زمانہ عليہ السلام کا ارشاد گرامي ہے کہ اکثر و الدعاءبتعجيل الفرج فان ذلک فرجکم ظہور ميں تعجيل کے ليے بہت زيادہ دعا کرو کيونکہ تمہارے امور کي کشائش اسي ميں ہے علاوہ ازيں دعا فرج کي تلاوت کي تاکيد کي گئي ہے جو اکثر دعاؤں کي کتابوں ميں درج ہےغ”الہيظ° عظم البلاءو برح الخفائغ”
انتظار
امام مہدي عليہ السلام کے ظہور کا انتظار افضل ترين عبادت ہے امام محمد تقي عليہ السلام فرماتے ہيں ہمارا قائم مہدي عليہ السلام ہے ان کے غائب ہونے کے دوران ان کا انتظار کرنا واجب ہے اور اس کا اجرو ثواب آئمہ عليہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص ہمارے امر (حکومت) کا منتظر ہے وہ اس شخص کي مانند ہے جو راہ خدا ميں اپنے خون ميں غلطان ہوتا ہے بس يہ انتظار اس طور ہونا چاہيے کہ کسي لمحہ بھي غافل نہ ہوا جائے صادق عليہ السلام آل محمد ارشاد فرماتے ہيں کہ وانتظرو الفرج صباحاً و مساءتم لوگ صبح و شام ظہور کا انتظار کروغ”اشتياق زيارت
شيعان اہلبيت عليہ السلام کا امام عليہ السلام کي غيبت ميں ايک خاص فريضہ آپ کے جمال مبارک کا اشتياق رکھنا اور اس شوق کا اظہار کرنا بھي ہے ہر وقت دل ميں ان کے ديدار کي تڑپ رہني چاہيے اپنے آقا سے محو گفتگو ہونے کے ليے ہر جمعہ کي صبح بعد نماز فجر دعائے ندبہ (جو امام عليہ السلام کے فراق ميں تڑپنے والوں کا نوحہ ہے) کي تلاوت کرے جس کے کلمات ہيں بارالہاظ°! ہم تيرے نا چيز بندے تيرے اس ولي کي زيارت کے مشتاق ہيں کہ جو تيري و تيرے رسول کي ياد تازہ کرتا ہےغ”دعا برائے سلامتي امام زمانہ عليہ السلام
ايک سچے مومن اور شيعہ کا فريضہ يہ ہے کہ وہ اپني دعاؤں ميں اپنے ہادي اور آقا کي سلامتي کا خواہاں رہے خاص طور سے سلامتي امام زمانہ عليہ السلام کے ليے کثرت ہے جس دعا کي تلاوت کا حکم ديا گيا ہے وہ يہ ہے اللھم کن لوليک الحجة ابن الحسن عليہ السلام صلواتک عليہ و علي آبائہ في ھذة الساعة و في کل ساعة وليا و حافظا و قائدا و ناصرا و دليلا و عينا حتي تسکنہ ارضک طوعا و تمتعہ فيھا طويلاغ”صدقہ برائے سلامتي امام زمانہ عليہ السلام
ايک اور پسنديدہ فريضہ جس کي تاکيد ہمارے پيشوايان دين نے کي ہے وہ ہے امام عليہ السلام کي سلامتي کي نيت سے صدقہ دينا ہے صدقہ بذات خود ايک محبوب عمل ہے اور سلامتي امام عليہ السلام کي نيت سے اس کي اہميت اور زيادہ بڑھ جاتي ہے امام جعفر صادق عليہ السلام سے روايت ہے کہ اللہ کے نزديک امام عليہ السلام کے ليے مال خرچ کرنے سے زيادہ محبوب چيز اور کوئي نہيں ہے تحقيق جو مومن اپنے مال سے ايک درہم امام عليہ السلام کي خاطر خرچ کرے خداوند بہشت ميں اُحد کے پہاڑ کے برابر اسے اس کا بدلہ دے گاغ”(اُصول کافي ج1ص735)اتباع نائبين امام عليہ السلام
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امام زمانہ عليہ السلام کا کوئي شخص بھي نائب خاص نہيں بلکہ فقہاءجامع الشرائط ہي حضرت عليہ السلام کے عام نمائندے ہيں چنانچہ ان کي اتباع واجب ہے (جسے فقہي اصطلاح ميں تقليد کا نام ديا جاتا ہے) خود وارث زمانہ عليہ السلام کا ارشاد گرامي ہے ہماري غيبت کبريظ° ميں پيش آنے والے حالات و مسائل کے سلسلہ ميں ہماري حديثوں کو بيان کرنے والے علماء(فقہائ) کي طرف رجوع کرو اس ليے کہ وہ اس ہماري طرف سے آپ پر حجت ہيں اور ہم اللہ کي طرف سے ان پر حجت ہيںغ”امام عليہ السلام کا نام لينے کي ممانعت
امام آخر الزمان عليہ السلام کا خاتم الانبيا کے نام پر ہے ليکن احاديث ميں حضرت کا نام پکارنے سے منع کيا گيا ہے بلکہ آپ کے جو القاب ہيں ان ميں سے کسي لقب کے ذريعے آپ کو پکارے حجت العصر عليہ السلام، مہدي عليہ السلام، قائم عليہ السلام، منتظر عليہ السلام، امام غائب عليہ السلام وغيرھمغ”احتراماً کھڑے ہونا
جب صاحب الزمان عليہ السلام کا تذکرہ آئے خصوصاً جب آپ کے القابات ميں سے قائم عليہ السلام کا لقب پکارا جائے تو استقبال کے ليے کھڑے ہو جانا سنت آئمہ عليہ السلام ہے کيونکہ جب دعبل خزاعي نے آٹھويں امام عليہ السلام کي خدمت ميں اپنا قصيدہ پيش کيا تھا تو جيسے ہي آخري امام عليہ السلام کا نام آيا تو آٹھويں امام عليہ السلام احتراماً کھڑے ہو گئے تھےغ”مشکلات ميں امام زمانہ عليہ السلام کو وسيلہ بنانا
خدا سے سوال کرتے وقت خصوصاً پريشانيوں ميں امام عليہ السلام کے حق کي قسم دے کر حاجات طلب کرنا يا امام عليہ السلام کي خدمت ميں عريضہ کي صورت ميں حاجات پيش کرنا خود وارث زمانہ عليہ السلام کا ارشاد گرامي ہے وبي يدفع اللہ عزوجل البلاءعن اھل و شيعتي اور خدائے عزوجل ميرے ذريعے ہي ميرے اہل و عيال اور ميرے شيعوں سے مصائب کو دور کرتا ہےغ”امام عليہ السلام پر کثرت سے درود بھيجنا
حضرت مہدي عليہ السلام پر درودو سلام زيادہ بھيجا جائے خاتم الانبياءسے ابن حجر مکي نقل کرتے ہيں کہ حضرت نے ارشاد فرمايا لا تصلو اعلي الصلاة البترا فقالوا وبا الصلوة البترا قال تقولون اللھم صل علي محمد بل قولا اللھم صل علي محمد وآل محمدغ” مجھ پر ناقص اور دم بريدہ صلوات نہ بھيجا کرو اصحاب نے عرض کي وہ ناقص صلوات کيا ہے؟ فرمايا فقط اللھم صل علي محمد کہو اس سے آگے نہ پڑھو اور رک جاؤ بلکہ يوں کہو اللھم صل علي محمد و آل محمدغ”(صواعق محرقہ ص441) اور چونکہ يہ آخري امام عليہ السلام کا دور ہے تو خاص طورپر ہر نماز کے بعد آپ عليہ السلام پر درود و سلام پڑھا جائےغ”
غيبت ميں کثرت سے امام مہدي عليہ السلام کا ذکر کرنا
غيبت کبريظ° ميں امام عليہ السلام کے فضائل و کمالات کو بہت بيان کيا جائے کيونکہ آپ اس دور ميں ولي نعمت ہيں اپني مجالس اجتماعات، محافل اور عبادات ميں آپ عليہ السلام کے ذکر سے لوگوں کے دلوں کو تازہ کريں اور حضرت عليہ السلام کا حامي اور دوست بنائيں امام عليہ السلام کي نصرت کے ليے ہر مومن خود بھي تيار رہے اور دوسروں کو بھي آمادہ کرےغ”
امام رض عليہ السلام جمعہ کے دن نماز ظہر کے قنوت ميں يہ دعا پڑھتے تھےغ”
اللھم اصلح عندک و خليفتک بما اصلحت بہ انبيائک و رسلک و حقہ بملائکتک و ايدہ بروح القدس من عندک واسلکتہ من بين يديہ و من خلفہ رصدا يحفظونہ من کل سوءو ايدتہ من بعد خوفہ امنا بعدک لا يشرک بک شيا ولا يجعل لا حد من خلقک علي وليک سلطانا و اذن لہ في جہاد عدوک وعدوہ واجعلني من انصارہ ان علي کل شي قديرغ”
ترجمہ: پروردگارا! جن وسائل سے تو نے اپنے انبياءاور مرسلين کے حالات کي اصلاح فرمائي ہے اپنے عہد خاص اور جانشين کے حالات کي بھي اصلاح فرما ملائکہ اس کے گرد رہيں اور روح القدس اس کي تائيد کرے اس کے سامنے اور بس پشت ايسے محافظ رہيں جو اسے ہر مصيبت اور آفت سے بچاتے رہيں اس کا خوف امن سے تبديل کر دے وہ تيرے عبادت ميں سر گرم رہے اور شرک کاکوئي شائبہ نہ رہے کسي شخص کو تيرے ولي عليہ السلام پر اقتدار حاصل نہ ہو اور اسے اپنے اور اس کے دشمن سے جہاد کي اجازت دے دے اور ہميں اس کے اعوان و انصار ميں قرار دے تو کائنات کي ہر شئے پر قادر ہےغ”
دشمنوں سے مقابلے کے ليے مسلح رہنا
امام مہدي عليہ السلام جب ظہور فرمائيں گے تو دشمنوں سے جنگ کرنا پڑے گي ايک سچے منتظر کو چاہيے کہ انتظار کے ساتھ ساتھ جنگي آلات مہيا کر کے رکھے اگرچہ ايک تير ہي کيوں نہ ہوغ”(بحارالانوار ج49 ص92)امام عليہ السلام کي نيابت ميں مستحبات کي انجام دہي
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امت کا ايک فريضہ يہ بھي ہے جسے ہمارے اسلاف اور علماءانجام دينے ميں بہت ہي اہتمام کيا کرتے تھے کہ شيعہ ہر مستحب عمل امام مہدي عليہ السلام کي نيابت کي نيت سے ادا کرے تلاوت قرآن پاک، نوافل نبي اکرم اور آئمہ عليہم السلام کي زيارت آپ عليہ السلام کي نيابت ميں حج و عمرہ بجالانا يا کسي کو نائب بنا کر بھيجنا خانہ کعبہ کا طواف کرنا اور اگر استطاعت رکھتا ہو تو عيدالاضحي کے موقع پر امام زمانہ عليہ السلام کي نيابت ميں قرباني کرےغ”حضرت مہدي عليہ السلام کي زيارت پڑھنا
مومن کو چاہيے کہ ہر روز صبح نماز کے بعد امام صاحب العصر عليہ السلام کي ياد ميں زيارت پڑھےغ”(مفاتيح الجنان ص145)زيارت جامعہ کبيرہ پڑھنے کي بھي تاکيد کي گئي ہے جسے شيخ صدوق نے من لا يحضرہ الفقيہ ميں نقل کيا ہے اور مفاتيح اور زيارات کي ديگر کتب ميں بھي موجود ہےغ” (مفاتيح الجنان ص745)
تجديد بيعت
مومن کو چاہےے کہ ہر وقت يا جب بھي موقع ملے امام مہدي عليہ السلام کے ساتھ تجديد بيعت کرے بيعت کي نيت سے اپنے ايک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھے اور کہے اے امام عليہ السلام ميں آپ کا مومن ہوں آپ کے پروگرام کا حامل ہوں ميري اس سے جنگ ہے جس سے آپ کي جنگ ہے آپ کے انصار اور آپ کے مشن کي خاطر کام کرنے والوں کي حمايت کا اعلان کرتا ہوں يا ہر روز نماز صبح کے بعد دعائے عہد پڑھ کر امام عليہ السلام کے ہاتھ پر اپني بيعت کو مضبوط بنائيںغ”(دعائے عہد مفاتيح الجنان ص245)توبہ کے پروگرام
امت کے اعمال ہر روز يا ہر شب جمعہ امام زمانہ عليہ السلام کي خدمت ميں پيش کيے جاتے ہيں جيسا کہ قرآن حکيم ميں ہے کہ اعملو فسيري اللہ عملکم و رسولہ والمومنون راوي کہتا ہے ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے پوچھا کہ آيہ اعملوا.... الخ ميں مومنوں سے کون مراد ہيں فرمايا وہ آئمہ ہيںغ”(اُصول کافي ج1ص252)انسان چونکہ غير معصوم ہيں دن ميں کئي گناہ انسان سے سر زد ہو جاتے ہيں تو ہر رات سونے سے پہلے اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے گناہوں پر توبہ کرے تا کہ اس سے پہلے کہ ہمارے اعمالنامے امام عليہ السلام کي خدمت ميں پيش ہوں ان سے گناہ مٹ جائيں بلکہ غيبت کبريظ° ميں توبہ کے اجتماعي پروگرام منعقد کرنے چاہيے کيونکہ اجتماعي عبادت قبوليت کے بھي زيادہ قريب ہوتي ہے اور اس کا اجر و ثواب بھي کئي گنا ہوتا ہے مثلاً ہر شب جمعہ کوئي مومن دعائے کميل کا اہتمام کرےغ”
علماءاپنے علم کو ظاہر کريں
علماءاپنے علم کو ظاہر کريں جو جاہل اور نا واقف ہيں ان کو سکھائيں کہ وہ کس طرح اپنے مخالفين کو جواب ديں علماءکي ذمہ داري ہے کہ غيبت کبريظ° کے زمانے ميں لوگوں کو گمراہي سے بچائيں اور بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھائيں دشمنان اسلام کے علمي حملوں کا جواب ديں لوگوں کو امام زمانہ عليہ السلام کي حکومت کے ليے تيار کريں ظلم اور ظالموں کو نابود کرنے کے ليے افراد امت کو ايک پليٹ فارم پر جمع کريں تا کہ منظم ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کر سکيں حديث ميں ہے کہ جو شخص ہمارے شيعوں کے دلوں کو مضبوط کرے وہ ايک ہزار عبادت گزاروں سے بہتر ہے اور فرمان رسول ہے جب ميري امت ميں بدعتيں ظاہر ہو جائيں تو عالم پر واجب ہے کہ وہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور اگر ايسا نہ کرے گا تو اس پر خدا کي لعنت ہےغ”(اُصول کافي ج1ص63،85)جھوٹے دعويداروں کو جھٹلانا
اگر کوئي غيبت کبريظ° کے زمانے ميں دعويظ° کرے کہ وہ امام زمانہ عليہ السلام کا خصوصي نائب ہے تو اسے جھٹلايا جائے اسي طرح جامع الشرائط فقيہ کے علاوہ کوئي شخص کسي کام کا حکم دے اور امام عليہ السلام سے منسوب کرے کہ امام عليہ السلام نے مجھے کہا ہے کہ ميں لوگوں کو اس کا حکم دوں تو اسے بھي جھٹلايا جائےغ”ظہور کا وقت معين نہ کرنا
روايات ميں امام زمانہ عليہ السلام کے ظہور کا وقت معين نہيں کيا گيا پس اگر کوئي شخص ايسا کرے تو اسے جھٹلايا جائےغ”مال امام عليہ السلام کي ادائيگي
غيبت کبريظ° ميں امام زمانہ عليہ السلام کا جو مالي حق ہے يعني خمس کي ادائيگي ميں کوتاہي نہ کرے خصوصاً خمس کا جو حصہ مال امام عليہ السلام ہے اسے امام زمانہ عليہ السلام کے مشن کي ترويج کرنے پر خرچ کرےںغ”امام العصر عليہ السلام سے محبت کا اظہار کرنا
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امام زمانہ عليہ السلام سے محبت کا اظہار کرے جيسا کہ حديث معراجيہ ميں ہے اور يہ اظہار صرف زبان سے ہي نہ ہو بلکہ اعضاءو جوارح سے بھي ہو جيسا کہ خود امام مہدي عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں کہ فليعمل کل امري منکم ما يقرب بہ من محبنا پس تم ميں سے ہر ايک کو چاہيے کہ ايسے کام کرے جو تمہيں ہماري محبت سے قريب تر کريںغ”
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امام زمانہ عليہ السلام سے محبت کا اظہار کرے جيسا کہ حديث معراجيہ ميں ہے اور يہ اظہار صرف زبان سے ہي نہ ہو بلکہ اعضاءو جوارح سے بھي ہو جيسا کہ خود امام مہدي عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں کہ فليعمل کل امري منکم ما يقرب بہ من محبنا پس تم ميں سے ہر ايک کو چاہيے کہ ايسے کام کرے جو تمہيں ہماري محبت سے قريب تر کريںغ”
آپ عليہ السلام کے فراق ميں غمگين رہنا
سچا مومن امام عليہ السلام کي جدائي اور فراق پر نہ صرف يہ کہ غمگين رہتا ہے بلکہ گريہ کناں رہتا ہے دعائے ندبہ کے کلمات ہيں کس قدر گراں ہے مجھ پر کہ يہ بد قسمت آنکھيں ساري خلقت کا تو مشاہدہ کريں ليکن تيرے ديدار سے محروم رہيںغ”کس قدر گراں ہے مجھ پر کہ تيرے غير سے جواب سنوں اور تےري گفتار سے محروم رہوںغ”
کس قدر مشکل ہے ميرے ليے کہ تيري ياد ميں گريہ کروں اور لوگ تيري ياد سے غافل ہوںغ”
آيا کوئي ہے ميري مدد کرنے والا؟ جو ميرے ہم گريہ و نالہ ہو سکے؟
آيا کوئي ايسي چشم اشک بار ہے کہ ميري آنکھوں کا ساتھ دے سکے؟
اے فرزند احمد! کيا آپ عليہ السلام تک پہنچنے کي کوئي راہ ہے؟
آپ عليہ السلام کي غيبت پر اظہار رضايت
مومن کو چاہيے کہ امام زمانہ عليہ السلام کے معاملے ميں تسليم ہو اور يہ عقيدہ رکھے آپ عليہ السلام خدا تعاليظ° کي حکمت اور مصلحت سے غائب ہيں اس پر رضايت اور سر تسليم خم کرنا چاہيے اعتراض کے طور پر زبان شکوہ نہ کھولي جائے اور نہ ہي آپ عليہ السلام کي طولاني غيبت سے مايوس ہوغ”امام عليہ السلام کي مظلوميت پر افسردہ ہونا
شيخ صدوق نے اکمال الدين ميں حديث نقل کي ہے جو شخص ہمارے ليے غمناک ہو اورہماري مظلوميت پر ٹھنڈے سانس لے افسردہ ہو اس کے سانس لينے کا ثواب تسبيح کا ثواب رکھتا ہےغ”ايمان پر ثابت قدم رہنا:
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امت کي ذمہ داري ہے کہ دين پر مستحکم رہے ايمان کي بقاءکے ليے کوشش کرتا رہے باطل کي رنگينيوں پر نہ جائےغ” ايک مرتبہ خاتم الانبيائ نے اصحاب سے سوال کيا سب سے قابل تعجب ايمان کس کا ہے اصحاب نے کہا انبياءکا آپ نے فرمايا انبياءتو خدا کے برگزيدہ بندے ہيں ان کا ايمان جتنا بھي زيادہ ہو ان کے ليے مناسب ہے اس ميں تعجب کي کيا بات؟ پھر اصحاب نے عرض کيا ملائکہ کا ايمان آپ نے فرمايا ملائکہ تو معصوم مخلوق ہيں ان کے ايمان ميں تعجب کيسا؟ پھر اصحاب نے عرض کي يا رسول ہمارا ايمان قابل تعجب ہے کہ ہم نے آپ سے دين کو حاصل آپ نے فرمايا تمہارے ايمان ميں تعجب کي کيا بات ہے ميں تمہارے درميان موجود ہوں تم مجھے ديکھ رہے ہو مجھ سے کسب فيض کر رہے ہو پھر اصحاب نے عرض کيا يارسول اللہ! آپ ہي ارشاد فرمائيے کہ کس کا ايمان قابل تعجب ہے آپ نے فرمايا ميري امت کے وہ افراد جو ميرے آخري فرزند کے زمانے ميں ہوں گے ان کا ايمان قابل تعجب ہے اس ليے کہ زمانہ اتنا نازک آجائے گا کہ ہاتھ پر انگارہ رکھنا آسان ہو گا ليکن ايک دن اپنے ايمان کي حفاظت کرنا مشکل ہو جائے گاغ”
(نوٹ: مندرجہ بالا واقع ميں مفہوم حديث بيان کيا گيا ہے بعينہ الفاظ نہيں)
مصائب کو برداشت کرنا
امت کا فريضہ ہے کہ دشمنوں کي طرف سے جو مصائب آئيں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرے امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں کہ جو مومن بارہويں امام عليہ السلام کي غيبت کے زمانہ ميں دشمنوں کي اذيت اور ان کے حقائق کے جھٹلانے پر صبر کرے برداشت سے کام لے اور نہ گھبرائے وہ ايسے ہے جس طرح اس نے حضرت رسول خدا کي ہمراہي ميں جہاد کيا ہوغ”(اکمال الدين ج1ص713)امام زمانہ عليہ السلام کے مشن کے ليے کام کرنے والوں کي مدد کرنا اور ان کي صحت و سلامتي کے ليے دعا مانگناغ”
امام مہدي عليہ السلام کے مشن و پروگرام کے مخالفين پر نفرين کرناغ”
امام عليہ السلام کے اعوان و انصار ميں سے ہونے کي دعا مانگناغ”
مجالس ميں يا اجتماعات ميں امام عليہ السلام کے ليے جب دعا مانگي جائے تو بلند آواز ميں مانگي جائےغ”
خدا سے يہ دعا مانگي جائے کہ خدايا! مجھے ايمان کي حالت ميں حضرت قائم آل محمد کي ملاقات و زيارت نصيب فرماغ”
امام عليہ السلام کے مشن کي ترويج کے ليے کچھ افراد اپنے کو وقف کريں اسلام کي مکمل معلومات حاصل کريں يعني عالم دين بنيں تا کہ علوم محمد و آل محمد کي نشرو اشاعت کے ذريعے لوگوں کے اذہان ميں صحيح عقائد کو راسخ کيا جائے اور گمراہي و بے راہ روي سے بچايا جائےغ”
استعمار اور طاغوتي طاقتوں سے مرعوب نہ ہو اور نہ ہي اسلام دشمن عناصر کے پروپيگنڈے کا اثر قبول کرے بلکہ فحاشي اور عرياني کا مقابلہ کرنے کے نيٹ پر ايسے چينلز دکھائے جائيں جن پر ايسا اسلامي مواد نشر کيا جاتا ہو جو نوجوانان ملت کے فکر کو بھٹکنے سے بچائے خصوصاً موجودہ دور جو ترقي کا دور ہے ميڈيا کے ذريعے افراد کو مقصد حيات سے غافل کيا جا رہا ہے تو يقينا امراءاور علماءکے تعاون سے ميڈيا ہي کے ذريعے ايسے پروگرامز کي نشرواشاعت کي ضرورت ہے جو ملت کو اپني ذمہ داريوں کي ياد دہاني کراتے رہيںغ”
غيبت کبريظ° کے زمانے ميں امت کي ايک ذمہ داري اہم ذمہ داري منجد ہو کر رہنا ہے اگر ملت خود ہي ٹکڑوں ميں بٹ جائے گي يا تعصبات کي نظر ہو جائے گي تو پھر کاميابي نا ممکن ہے امت کا شرعي فريضہ يہ ہے کہ يہ اختلافات سے بالاتر ہو کر امام عليہ السلام کے مشن کے ليے کام کريں اور دشمن کو خود پر غالب نہ آنے ديں اس قدر منظم اور منجد ہو جائيں دشمن ٹکرا کر خود ہي تباہ و برباد ہو جائےغ”
امام عليہ السلام کو ہر وقت ياد رکھنے کے ليے اپنے بچوں، اداروں اور مساجد وغيرہ کے نام امام زمانہ عليہ السلام کے القابات پر رکھيں بلکہ کوشش کريں کہ اپنے علاقوں، گليوں اور چوک وغيرہ کے نام بھي امام زمانہ عليہ السلام کے القابات پر رکھےغ”
اور انشاءاللہ يہ عمل ہمارے مصلح اور ہادي کي محبت و عنايت ہماري جانب ملتفت کرنے کا سبب بن جائے گاغ”
دنياداروں کے ساتھ زيادہ ميل جول اور آمد و رفت نہ رکھے بلکہ ايسے لوگوں سے ميل ملاپ رکھے جو امام عليہ السلام کا کثرت سے ذکر کرنے والے ہوںغ”
مندرجہ ذيل دعا کا ورد کرے امام جعفر صادق عليہ السلام سے يہ کلمات وارد ہوئے ہيںغ”
يااللہ يا رحمن يا رحيم يا مقلب القلوب ثبت قلبي علي دينک بحرمة محمد و آلہ الاطہارغ”