إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

مختصر از زندگي امام حضرت صادق عليہ السلام

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • مختصر از زندگي امام حضرت صادق عليہ السلام

    انا للہ وانا اليہ راجعون


    امام محمد باقر عليہ السلام کا دور بھي ختم ہوا اور 114 ھ سے امام جعفر صادق (ع) کي امامت شروع ہوئي اور 148 ھ تک جاري رہي۔ امام صادق(ع) نے اس مدت ميں دو مرحلے طے کئے۔ ايک مرحلہ 114ھ تا 135ھ تک يعني بني عباس کے غلبہ يا منصور دوانيقي کي خلافت تک۔ اس دور کو آسودگي اور سکون کا دور کہا جاسکتا ہے اور اسي کے بارے ميں معروف ہے کہ بني اميہ اور بني عباس کے درميان نزاع و چپقلش کي وجہ سے آئمہ عليہم السلام کو شيعي تعليمات کي تبليغ کا موقع ميسر آيا۔ اور يہ اسي دور سے مخصوص ہے، امام محمد باقر عليہم السلام کے دور ميں يہ صورت نہيں تھي بلکہ وہ بني اميہ کي طاقت و قدرت کا زمانہ تھا اور ہشام بن عبدالملک کي حکومت تھي جس کے بارے ميں لوگ کہتے ہيں کہ ’’و کان ھشام رجلھم‘‘ چنانچہ شاہان بني اميہ ميں عبدالملک بن مروان کے بعد ہشام بن عبدالملک طاقتور شخصيت کا مالک تھا جو امام محمد باقر (ع) کے عہد تخت حکومت پر براجمان تھا۔ لہذا امام محمد باقر عليہ السلام کے زمانے ميں کسي کا کسي کے ساتھ کوئي ايسا اختلاف و تنازعہ بظاہر رونما نہيں ہوا کہ اس موقع سے امام (ع) استفادہ کر سکتے۔


    تمام داخلي جنگيں اور سياسي اختلافات امام جعفر صادق عليہ السلام کے دور سے مخصوص ہيں اور وہ بھي اس ابتدائي دور سے مخصوص ہيں جب بني عباس کي دعوت بھي پوري اسلامي دنيا ميں اوج پر نظر آتي ہے۔ في الحال يہاں ان باتوں کي تشريح کا موقع نہيں ہے۔

    جس وقت امام صادق عليہ السلام مسند امامت پر متمکن ہوتے ہيں پوري اسلامي دنيا افريقہ ، خراسان، فارس، ماوراءالنہر الغرض مختلف اسلامي علاقوں ميں باہمي جنگوں اور محاذ آرائي کا بازار گرم تھا۔ بني اميہ کي حکومت کو شديد مشکلات کا سامنا تھا۔ امام جعفر صادق عليہ السلام نے اس موقع سے فائدہ اٹھايا اور اپني تبليغ کے لئے وہي تين نقطے محور و مرکز قرار دئيے جن کي جانب ہم سيد سجاد کي زندگي کے بارے ميں گفتگو کے دوران اشارہ کرچکے ہيں۔


    يعني معارف اسلامي ، مسئلہ امامت ، نيز اس کا اہل بيت عليہم السلام سے مخصوص ہونا۔

    امام صادق(ع)کي حيات کے پہلے مرحلے ميں خاص طور پر اس مذکورہ تيسرے عنصر کا مشاہدہ صاف طور پر کيا جاسکتا ہے۔ اس کا ايک نمونہ عمرو بن ابي المقدوم کي يہ روايت ہے کہتے ہيں: ’’ رايت ابا عبداللہ (ع) يوم عرفۃ بالموقف وھو ينادي باعليٰ صوتہ ‘‘ حضرت عرفات ميں لوگوں کے درميان کھڑے ہو کر عظيم اجتماع ميں با آواز بلند خطاب فرماتے ہيں اور ايک ہي جملہ کبھي اس طرف رخ کرکے اور کبھي اس طرف رخ کرکے ہر چہار طرف تين تين مرتبہ تکرار فرماتے ہيں اور وہ جملہ يہ تھا :
    ’’ ايھا الناس ! ان رسول اللہ (ص) کان ھو الامام ، ثم کان علي ابن ابي طالب ، ثم الحسن ، ثم الحسين ، ثم علي ابن الحسين ، ثم محمد بن علي ، ثم ھہ فينادي۔ ثلاث مرات لمن بين يديہ ولمن خلفہ و عن يمينہ و عن يسارہ اثنا عشرہ صورتا ‘‘۔
    اے لوگو! يقينا رسول اللہؐ امام تھے ، پھر آپ کے بعد علي ابن ابي طالب ، پھر حسن، پھر حسين ، پھر علي ابن الحسين ، پھر محمد ابن علي اور اس کے بعد ’’ ھہ ‘‘ (يعني ميں)۔۔۔ مجموعا بارہ مرتبہ آپ نے ان جملوں کي تکرار فرمائي۔
    راوي کہتا ہے : ميں نے سوال کيا اس (ھہ) سے کيا مراد ہے؟ کہتے ہيں : بني فلاں کي لغت ميں ، يعني ميں۔ اس سے کنايہ خود حضرت(ع)کي طرف ہے يعني محمد بن علي عليہ السلام کے بعد ميں امام ہوں۔‘‘
    اس کلمہ ميں لفظ امام کا استعمال قابل توجہ ہے اور يہ اس حقيقت کي طرف نشاندہي کرتا ہے کہ امام(ع)اس طرح عوام کے ذہن کو امامت کي حقيقت سے روشناس کرتے ہوئے يہ بتانا چاہتے ہيں کہ آيا وہ لوگ جو بر سر اقتدار ہيں امامت کے سزاوار ہيں يا نہيں؟
    دوسرا نمونہ يہ ہے:
    ’’قال قدم رجل من اھل الکوفۃ الي خراسان فدعا الناس اليٰ ولايۃ جعفر بن محمد‘‘۔
    ’’ ايک شخص مدينہ سے خراسان پہنچتا ہے اور لوگوں کو جعفر ابن محمد کي ولايت (يعني حکومت) کي طرف دعوت ديتا ہے‘‘۔
    آپ(ع)کي زندگي ميں ايسي علامات ملتي ہيں کہ غالباً اس طرح کي تمام چيزيں اسي پہلے دور سے مربوط ہيں۔ يہاں تک کہ منصور عباسي کي خلافت کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ منصور کے برسر اقتدار آتے ہي مشکلات کا دور شروع ہوجاتا ہے اور امام(ع)کے لئے بھي قريب قريب وہي حالات پيدا ہو جاتے ہيں جن سے امام محمد باقر عليہ السلام کي زندگي دوچار تھي۔ گھٹن چھا جاتي ہے اور طرح طرح کے دباو آپ(ع)پر پڑنے لگتے ہيں۔ حضرت(ع)کو بارہا حيرہ ، واسطہ ، رميلہ نيز دوسري جگہوں پر طلب کيا جاتا ہے يا جلاوطن کيا جاتا ہے۔ کئي مرتبہ خليفہ آپ(ع)کو خطاب کرتا ہے اور سختي کا نشانہ بناتا ہے۔ ايک مرتبہ تو خليفہ يہاں تک کہہ ديتا ہے کہ : (خدا مجھے زندہ نہ رکھے اگر ميں آپ کو قتل نہ کردوں) ايک مرتبہ حاکم مدينہ کو حکم ديتا ہے کہ: ( حضرتؑ کے سميت آپ کے گھر کو آگ لگا دو) ۔ حضرت(ع)جلتي ہوئي آگ عبور کرتے ہيں اور بڑے ہي توکل اور اعتماد کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے ايک عجيب منظر پيش کرتے ہيں اور فرماتے ہيں: ( ہم زندہ و پائندہ امام کے فرزند ہيں، محمد مصطفي کے فرزند ہيں)۔

    اس چيز نے دشمنوں کو اور بھي ذليل و خوار کيا۔۔۔۔


    امام جعفر صادق عليہ السلام اور منصور کے تعلقات اکثر نہايت کشيدہ رہے۔ منصور بارہا امام کو دھمکياں ديتا تھا۔ اگرچہ اس طرح کي روايات بھي ملتي ہيں جن ميں ہے کہ امام(ع)نے منصور کے سامنے اپني ذلت اور عاجزي کا اظہار کيا (معاذ اللہ)۔ يقيني طور پر ان ميں سے ايک روايت بھي درست اور قابل اعتماد نہيں ہے۔ ميں نے ان روايات کا جائزہ ليا اور تحقيق کے بعد اس نتيجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کي کوئي اصل اور حقيقت نہيں ہے۔ ان کا سلسلہ زيادہ تر ’’ ربيع حاجب‘‘ تک پہنچتا ہے جس کا فاسق ہونا قطعي اور يقيني ہے اور وہ منصور کے قريبي لوگوں ميں سے ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہيں کہ ربيع شيعہ يا دوستدار اہل بيت(ع)تھا۔ ربيع کہاں اور شيعہ ہونا کہاں؟ ربيع ابن يونس کا مطيع و فرماں بردار اور حکم کا غلام تھا اور ان افراد ميں سے تھا جو بچپن ہي سے بني عباس کے نوکروں ميں شامل ہوجاتے تھے۔ يہ رفتہ رفتہ منصور کا حاجب ہوگيا تھا اور بے پناہ خدمتوں کے عوض بالآخرہ منصب وزارت پر فائزہ ہوگيا تھا۔

    جس وقت منصور مراہے، اگر ربيع نہ ہوتا تو خلافت منصور کے خاندان سے باہر چلي گئي ہوتي اور شايد اس کے چچاوں کا خلافت پر قبضہ ہوجاتا۔ يہ ربيع ہي تھا جو مرتے وقت تنہا منصور کے سرہانے موجود تھا اور اس نے منصور کے بيٹے مہدي کے حق ميں جعلي وصيت نامہ تيار کيا اور مہدي کو تخت خلافت پر بٹھاديا۔
    فضل ابن ربيع جو بعد ميں ہارون اور امين کے دربار ميں وزارت پر فائز ہوا اسي کا بيٹا تھا۔ يہ خاندان ان خاندانوں ميں سے ہے جو بني عباس کي نمک خواري اور وفاداري ميں کافي مشہور ہيں اور ان کے دلوں ميں اہل بيت عليہم السلام کے لئے کسي طرح کي ارادت و محبت نہيں پائي جاتي اور ربيع نے جو کچھ امام صادق عليہ السلام کے سلسلہ ميں کہا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے اور جعلي ہے اور ان تمام کوششوں کے پس پشت اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اس دور کے اسلامي معاشرے کو يہ باور کرايا جائے کہ حضرت(ع)جيسي شخصيت بھي منصور کے سامنے عاجزي اور تذليل کا اظہار کرچکي ہے۔ تاکہ دوسرے لوگ اپني حيثيت کے بارے ميں خود ہي فيصلہ کرليں۔
    بہر حال منصور اورامام صادق عليہ السلام کے تعلقات انتہائي کشيدہ تھے جو 148ھ ميں امام(ع)کي شہادت پر منتہي ہوتے ہيں۔
يعمل...
X