إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

رد شبھہ(1): خلافت ابوبکر پر اہل سنت کے عقلي دلائل اور ان کا رد

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • رد شبھہ(1): خلافت ابوبکر پر اہل سنت کے عقلي دلائل اور ان کا رد

    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اللھم صلي علي محمد وال محمد
    شبھہ:

    ہم حضرت علي عليہ السلام کے فضائل کے منکر نہيں ہيں ليکن ہماري يہ رائے ہے کہ خلافت ابو بکر کے لئے شرعا صحيح ہے
    کيونکہ رسول اکرم صلي اللہ عليہ والہ کا قول ہے کہ:

    "لا تجتمع امتي علي علي ضلالہ"(کہ ميري امت گمراہي پر جمع نہيں ہوگي)
    اور قول اخر ہے کہ
    "لا تجتمع امتي علي الخطاء"(کہ ميري امت غلطي پر اجماع نہيں کريگي)

    اور اسي لئے ابوبکر کي بيعت پر نبي کريم صلي اللہ عليہ والہ کے بعد امت نے اجماع کيا ہے اس بناء پر کہ وہ عمر کے لحاظ سے سب سے بزرگ تھےاورحضرت علي عليہ السلام کے کو اس لئے بھي مؤخر کر ديا کہ وہ کمسن تھے
    کيا عقل اس بات کو مانتي ہے کہ چھوٹوں کو ان کے بڑوں پر حاکم بنا ديا جائے؟
    اور اس حديث سے بھي استناد کرتے ہيں کہ نبوت اور امامت اھل بيت ميں جمع نہيں ہو سکتي اس لئے کہ حضرت علي عليہ السلام اہل بيت ميں سے تھے اس لئے اصحاب نے ابوبکر کي طرف بيعت کے لئے عدول(رجوع) کيا

    جواب:

    جيسا کہ مخالفين نے گمان کيا کہ حديث نبوي کي رو سے صحابہ کا اجماع ہي قوي ترين دليل ابوبکر کي خلافت صحيحہ پر ہے غ”
    اور حديث مذکورہ ميں عربي گرامر کے لحاظ سے لفظ "امت" کو "ياء" کي طرف اضافہ (ملايا) گيا ہے جو کہ ہر امتي کو بغير کسي استثناء کے اجماع ميں غلطي سے پاکيزہ کرديتي ہےغ”

    يعني تمام امت بغير کسي استثناء کے اگر کسي کسي امر پر اکتفاء کرليتي ہے تو وہ کام کسي صورت ميں خطاء اور گمراھي ہو ہي نہيں سکتا
    اگر يہ بات اسي صورت ميں صحيح مان لي جائے تو عقلي لحاظ سے باقاعدہ ايک کميٹي تشکيل دي جائيگي تاکہ ہر زمانے ميں بوقت ضرورت پوري امت مسلمہ کے مشورہ سے ايک مشترک خليفہ منتخب کيا جائے ليکن اگر ھم خود ہي اگر اس واقعہ سقيفہ کي طرف رجوع کريں تو ہميں پتہ چلے گا کہ اول تو موجودين ميں سے کبار صحابہ جيسے سعد بن عبادہ وغيرہ نے اس انتخاب پر اعتراض کيا

    جس سے خود ہي انکي يہ دليل کہ "امتي" تمام امت جزوي طور پر خارج تطبيق ہو جاتي ہے کہ لامحالہ طور پر ايک صحيح ہے اور ايک خطاء ہے دونوں کا ايک ہي وقت ميں صحيح ہونا محال ہے اور اس انتخاب کے لحاظ سے کہ پوري امت گمراہي پر جمع نہيں ہوسکتي توسقيفہ کي رات حديث رسول کريم صلي اللہ عليہ والہ کي پوري امت نے انتخاب ابوبکر کيا يا چند گنے چنے اصحاب نے کيا ؟
    اور اگر چند مٹھي بھر لوگوں نے اجتماع کيا تو خود مدينہ سے باہر اور دوسرے علاقوں کے لوگوں کاکيا؟کيا انہوں نے بھي اس انتخاب خلافت ميں حصہ ليا؟
    اور باقي رہي يہ بات کہ ابوبکر عمر کے لحاظ ميں سب سے بزرگ تھے تو يہ بات جب ان کے والد کو پتہ چلي تو ابوبکر کے والد نے تعجب کيا کہ "کس بات پر اسے خليفہ مقرر کيا ہے؟
    جواب ملا کہ وہ عمر ميں سب سے بڑا ہے غ” تو اس کے باپ نے کہا کہ اگر خلافت عمر ميں بزرگي کے لحاظ سے ملتي ہے تو ميں ابوبکر سے زيادہ خلافت کا حقدار ہوں کہ ميں اس سے بڑا ہوں
    التعديل الأخير تم بواسطة توصيف رضا خان ; الساعة 14-09-2014, 03:49 PM. سبب آخر:
يعمل...
X