بسم اللہ الرحمن الرحيم
اللھم صلي علي محمد وال محمد
امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف کي طولاني عمر مبارک کے حوالے سے گفتگو کي دو وجوھات ہيںاللھم صلي علي محمد وال محمد
1۔ جو لوگ کائنات کو ظاھري نگاہ سے ديکھتے ہيں اورمحض اس کے مادي اور عنصري جنبہ کوتسليم کرتے ہيں اور اس کائنات کے ماوراء اس ناديدہ مخلوق کو نہيں مانتے جو علم و قدرت کي بے پناہ حامل ہے ۔ تو ايسے لوگوں سے امام کے وجود اور انکي تمام صفات بالخصوص ان کي طولاني عمر کے بارے ميں بحث کرنا فضول ہے
ايسے لوگوں سے پہلے پروردگارکے وجود کے اثبات پر بحث ہوني چاہيئے پھر دوسرے امور پر بحث ہوسکتي ہے
2۔ وہ لوگ جو اس جہان مادہ کے ماوراء ايک بے پناہ علم اور قدرت کے مالک خالق پر ايمان رکھتے ہيں تو امام زمانہ کے وجود اور ان کي طولاني عمر پر بھي ايمان رکھتے ہيں کيونکہ اس حوالے سے بہت سے عقلي اور نقلي شواہد موجود ہيں جو ہر انصاف پسند عاقل اور بالغ کے ايمان کے لئے کفايت کرتے ہيں
جہاں تک اثبات امامت اوربالخصوص امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف کا تعلق ہے تو اتني واضح اور روشن دليليں موجود ہيں کہ ان سے کوئي عاقل اور بالغ انکار نہيں کرسکتا۔
جيسا کہ اميرالمؤمنين علي عليہ السلام نے فرمايا کہ صبح کي روشني ان لوگوں کے لئے ہے جو دو حق ديکھنے والي آنکھيں رکھتے ہيں قراني آيات اور شيعہ و سني کتابوں سے بہت سي روايت حق کے متلاشيوں کے لئے موجود ہيں جو بھي اہل ايمان ہيں اوران کا اللہ تعالي کے علم وقدرت اور تدبير و حکمت پر عقيدہ ہے انہيں ذرہ بھي امام زمانہ عجل اللہ تعالي فرجہ الشريف کي طولاني عمر پر شک نہيں ہے کيونکہ قران مجيد ميں اللہ تعالي کي سب سے بافضيلت و بلند مرتبہ مخلوق انبياء کرام جيسے حضرت نوح و عيسي و يونس و خضر عليہم السلام کي طولاني عمر کے حوالے سے آيات مجيدہ ہيں ۔
مثلا
حضرت نوح عليہ السلام کے بارے ميں آيا ہے کہ
ہم نے نوح کو ان کي قوم کي طرف بھيجا تو وہ ان ميں نوسوپچاس سال تک رہا پھر طوفان نوح نے انہيں(قوم نوح)کو اپني لپيٹ ميں لے ليا کہ وہ ظالم تھے ۔ حضرت نوح اللہ تعاليٰ کي طرف سے مبعوث ہوئے تاکہ اپني قوم کو معرفت خدا اور توحيد کي طرف دعوت ديں اور نو سو پچاس(950) سال آپکا زمانہ رسالت تھا اورآپکي حقيقي عمر کتني تھي اسے پروردگار جانتا ہےالبتہ بعض تفسيروں ميں آپکي عمر پچيس سو(2500)سال بتائي گئي ہے ۔
حضرت عيسيٰ کے بارے ميں پروردگار فرماتا ہے اور انہوں نے عيسيٰ کو نہ قتل کيا ہے اور نہ اسے دار پر آويزاں کيا ہے بلکہ وہ ان پر مشتبہ ہوگيا اور جو اس کے بارے ميں اختلاف کرتے ہيں وہ اس کے حوالے سے مشکوک ہيں يہاں تک کہ اللہ تعالي فرماتا ہے انہوں نے اسے يقيني طور پر قتل نہيں کيا بلکہ اللہ نے اسے اٹھاليا اور پروردگار عزيز و حکيم ہے۔
اس سے واضح ہوا ہے کہ عيسيٰ ابھي تک زندہ ہيں
اور احاديث و روايات کے مطابق امام زمانہ (عج) کے ساتھي ہوں گے اور ان کے زمانہ ظہور ميں آسمان سے نازل ہوں گے اور ان کے پيچھے نماز پڑھيں گے ۔
حضرت يونس عليہ السلام کے بارے ميں قول ہے کہ اگر يونس (شکم ماھي) ميں تسبيح کرنے والوں ميں سے نہ ہوتے تو قيامت تک اس کے شکم ميں رہتے ۔ يعني قيامت تک مچھلي کے پيٹ ميں رہتے ۔
يہاں تک کہ موجودات خبيثہ اور شرور ميں سے شيطان کے بارے ميں ملاحظہ کريں جس نے اللہ تعالي سے قيامت تک کي مہلت مانگي تو اللہ تعالي نے فرمايا کہ تو ان ميں سے ہے کہ جنہيں قيامت تک کے لئے مہلت دي گئي ہے