إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

پچيس ذي القعدۃ روز "دحو الارض" اور اس کي حقيقت

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • پچيس ذي القعدۃ روز "دحو الارض" اور اس کي حقيقت

    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اللھم صلي علي محمد وال محمد

    دحوالارض کے لغوي معني

    "دحو" پھيلانے اور وسعت دينے کے معني ميں ہے

    مجمع البحرين ميں آيا ہے: خدا وند عالم نے فرمايا:والارض بعد ذلک دحاھا (30م79)

    دحاھا
    : اي بسطھا۔ دحوت الشيء دحوا اي بسطتہ۔

    حديث ميں ہے" يوم دحو الارض" اي بسطھا من تحت الکعبہ و ھو اليوم الخامس و العشرون من ذي القعدۃ
    و فيه:
    " خرج علينا أبو الحسن يعني الرضا (عليه السّلام) بمرو في يوم خمسة و عشرين من ذي القعدة، فقال: صوموا، فإني أصبحت صائما، قلنا: جعلنا الله فداك أي يوم هو؟ قال: يوم نشرت فيه الرحمة و دحيت فيه الأرض" « التهذيب ج 1 ص 306»
    دحو الارض يعني زمين کا فرش بچھانا۔ دحوالارض کے دن زمين کا فرش کعبہ کے نيچے سے بچھانا شروع کيا۔ اور اس دن پچيس ذي القعدہ تھي۔

    امام رضا عليہ السلام نے جب خراسان کا سفر کيا اس سفر دوران پچيس ذيقعدہ کو آپ مروہ ميں پہنچے اور آپ نے فرمايا: آج کے دن روزہ رکھو ميں نے بھي روزہ رکھا ہے راوي کہتا ہے ہم نے پوچھا اے فرزند رسول آج کون سا دن ہے؟ فرمايا: وہ دن جس ميں اللہ کي رحمت نازل ہوئي اور زمين کا فرش بچھايا گيا۔

    دحو الارض کے معني زمين کو پہيلانے کے ہيں چونکہ لغت ميں دحو کے معني پھيلانے کے ہيں اور بعض نے اس کے معني پھينکنے کے کئے ہيں اور چونکہ يہ دونوں معني لازم اور ملزوم ہيں۔ لہذا ايک ہي مطلب کي طرف پلٹتے ہيں اس بنا پر دحو الارض کا مطلب يہ ہے کہ ابتدا ميں سطح زمين طوفاني بارشوں سے بھري ہوئي تھي اس کے بعد يہ پاني دھيرے دھيرے زمين کے سوراخوں ميں چلا گيا اور زمين کي خشکي سامنے آ گئي يہاں تک کہ موجودہ حالت ميں آگئي ( تفسير نمونہ ج 26، ص100)

    سورہ نازعات کي 30 ويں آيت ميں والارض بعد ذلک دحاھا زمين کے پھيلانے کي طرف اشارہ ہے۔ بعض روايات ميں آيا ہے کہ زمين کو سب سے پہلے کعبہ کے نيچے سے پھيلانا شروع کيا ۔

    کتاب الفرقان في تفسير القرآن بالقرآن کي ج 30 ص90 ميں ايک روايت امام علي عليہ السلام سے ذکر ہوئي ہے: عن إمام المتقين علي عليه السّلام: «إن شاميا سأله عن مكة المكرمة لم سميت مكة؟
    قال: لأن الله مك الأرض من تحتها، أي دحاها». و المك هو الدحرجة كما في القاموس.ايک شامي مرد نے امام علي (ع) سے سوال کيا کہ کيوں مکہ کو مکہ کہا گيا؟ امام (ع) نے فرمايا: اس وجہ سے کہ زمين مکہ کے نيچے سے پھيلنا شروع ہوئي۔ مک کے معني منظم حرکت کرنے کے ہيں۔ دحو الارض کي تفسير ميں بھي يہي آيا ہے کہ زمين مکہ سے دھيرے دھيرے پھيلنا شروع ہوئي اور حرکت کرنے لگي۔
    و عنه عليه السّلام أيضا: «فلما خلق الله الأرض دحاها من تحت الكعبة ثم بسطها على الماء.
    آپ سے ہي مروي ہے کہ جب خدا وند عالم نے زمين کو خلق کيا تو اس کا فرش کعبہ کے نيچے سے پھيلانا شروع کيا پھر اسے پاني پر پھيلا ديا۔
يعمل...
X