بسم اللہ الرحمن الرحيم
اللھم صلي علي محمد وال محمد
اللھم صلي علي محمد وال محمد
1۔ جوشخص چاہتا ہے کہ تمام لوگوں سے قوي تر ہو وہ اللہ پر توکل رکھے
2۔ عالم کي فضيلت بندوں پر ايسے ہے جيسے سورج کي ستاروں پر
3۔ دين ميں تفقہ(فکر و تدبر) اختيار کرو کہ فقہ بصيرتوں کي کنجي اور عبادتوں کي اتمام اور انکو بلند مقام تک پہنچانے کاذريعہ ہے
4۔عالم کي عظمت اس کے علم اور تنازعات کو رفع کرنے ميں ہے، اور جاھل کي کمتري اس کے جھل ميں ہے
5۔عاقل کي کم عملي ، جاھل اور نفس پرست کے دوگنے عمل سے زيادہ مقبول ہے
6۔ اللہ اس پر رحم کرے جس نے تفقہ(دين ميں تفکر و تدبر) کيا ، اس نے لوگوں کو پہچان ليا اور مگر لوگ اسے نہ پہچان سکے ۔
7۔ (اللہ تعالي) نے اپنے بندوں کے درميان عقل سے افضل کوئي چيز تقسيم نہيں کي ، عقلمند کي نيند جاھل کي بيداري سے افضل ہے ۔
8۔ ہر چيز(کے وجود) کي دليل ہے اور عقل کي دليل تفکر ہے ۔
9۔ اور مومن کي موت واقع ہوتي ہے تو اس پر ملائکہ اور زمين روتي ہيں
10۔ جس کے ضمير نے ملامت چھوڑ دي اس پر اس کے دشمن(شيطان) نے قابو پاليا
11۔ مومن سے پانچ چيزيں کبھي جدا نہ ہونگي ۔ مسواک، کنگھي، جائے نماز، 34 دانوں کي تسبيح اور عقيق کي انگوٹھي ۔
12۔ جس نے اپني زبان کو صادق بنايا اس کا عمل دانائي ہوگيا۔اور جس نے اپني نيت بہتر کي اس کے رزق ميں اضافہ ہوگيا۔ اور جس نے اپنے اہل و اقارب کے ساتھ بھلائي کي اس کي عمر ميں اضافہ ہوگيا ۔
13۔جس نے ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کيا وہ ہم ميں سے نہيں ہے اور جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کيا اللہ نے برکت دي اور جو گناہ کيا اللہ تعاليٰ نے اس کي توبہ قبول کي اور بخش ديا ۔
14۔ امانتوں کا ادا کرنا اور سچائي رزق کا سبب بنتے ہيں اور خيانت اور جھوٹ تنگدستي اور مناقفقت کو لاتے ہيں ۔
15۔ چار چيزوں سے لوگوں نے علم کو پہچانا: سب سے پہلے اپنے رب کو پہچانو! پھر اس کي علت تخليق کو پہچانو! پھر وہ تم سے کيا چاہتا ہے وہ جانو! پھر ہر اس چيز کے بارے ميں جانو کہ جو تم سے خارج کرے
16۔ دنيا کي مثال سانپ کي مانند ہے کہ جس کا ظاہر خوبصورت اور باطن زہر آلود ہے، اور عقلمند اس سے احتياط کرتا ہے اور جاھل بچوں کي طرح ہاتھ ميں پکڑ ليتے ہيں (يعني دنيا کے تابع ہو جاتے ہيں)
17۔ جس نے اپني رائے(دين ميں) رکھي وہ ہلاک ہوگيا اور جس نے نبي کريم صلي اللہ عليہ والہ کي اہل بيت کو ترک کيا گمراہ ہوگيا اور جس نے قران مجيد اور قول نبي صلي اللہ عليہ والہ (کيونکہ قول نبي بھي وحي الہي ہے)کو ترک کيا کافر ہوگيا ۔
18۔ تين چيزيں قوۃ النظر کا سبب بنتي ہيں : سبزہ کي طرف نظر کرنا، جاري پاني کي طرف نظر کرنا اور خوبصورت چہرے کي طرف نظر کرنا۔
19۔ بدترين بندہ وہ ہے دو چہروں اور دو زبانيں رکھتا ہو (مراد مصداق آيت قراني کہ جب تنہائي ميں اپنے شياطين سے ملتے ہيں تو کہتے ہيں کہ ہم آپ کے سا تھ ہيں۔اور جب مومنوں سے ملتے ہيں تو کہتے ہيں کہ ہم تمہارے رب پر ايمان لائے ہيں)
20۔ اسلام سے ايک درجہ بلند ايمان ہے ، اور تقوي ايمان سے ايک درجہ بلند ہے ، اور يقين تقوي سے ايک درجہ بلند ہے اور اللہ تعالي نے يقين سے کم کوئي چيز اپنے بندوں ميں تقسيم نہيں کي