إعـــــــلان

تقليص
لا يوجد إعلان حتى الآن.

ابليس اور حضرت موسي عليہ السلام

تقليص
X
 
  • تصفية - فلترة
  • الوقت
  • عرض
إلغاء تحديد الكل
مشاركات جديدة

  • ابليس اور حضرت موسي عليہ السلام

    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    اللھم صلي علي محمد وال محمد

    حضرت ابي عبداللہ جعفر بن محمد عليہ الصلوۃ والسلام رسول اکرم صلي اللہ عليہ والہ سے روايت کرتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ والہ نے فرمايا :
    " ايک مرتبہ حضرت موسي عليہ السلام بيٹھے ہوئے تھے کہ ابليس نمودار ہوا اور اس کے سر پر تاج کي مانند ايک کڑا تھا جو کہ مختلف رنگوں سے مزدوج تھا اور وہ حضرت موسي عليہ السلام کے قريب ہوا اور سلام کيا
    موسي عليہ السلام نے جوب سلام ديا اور سوال کيا کہ تم کون ہو ؟
    اس نے کہا : ميں ابليس ہوں ۔
    موسي عليہ السلام نے اس کے پاس آنے کي وجہ پوچھي حالانکہ اس کا آنا انبياء کے نزديک ممنوع ہے ۔
    ابليس نے کہا کہ ميں آپ کو اللہ تعالي کي طرف سے سلام کرنے کي غرض سے آيا ہوں
    موسي عليہ السلام نے سوال کيا کہ مجھے اس گناہ کے بارے ميں بتاؤ کہ جو بني آدم سے سرزد ہوتا ہے اورتمہارے تابع ہو جاتا ہے ؟
    ابليس نے کہا کہ جب وہ اپنے آپ ميں فخر محسوس کرتا ہے اور اپنے عمل کثير پر فخر کرتا ہے اور اپنے گناہوں کو چھوٹا محسوس کرتا ہے ۔
    پھر ابليس نے کہا اے موسي ! ميں آپ کو تين خصلتوں کي وصيت کرتا ہوں ۔

    کوئي شخص جب ايک (نامحرم) عورت کے ساتھ يا خود تنہائي ميں ہوتا ہے تو ميں ان دو کے ساتھ (گمراہ کرنے) کے لئے ہوتا ہوں ۔ يا اگر وہ تنہا ہو تو ميں خود اس کے ساتھ (گمراہي) کے لئے ہوتا ہوں

    اگر صدقہ دينے کي نيت کرو تو اسے فورا ادا کرو کيونکہ بندہ جونہي صدقہ دينے کي نيت کرتا ہے ميں اس کے فعل اور سوچ کے درميان ميں حائل ہوجاتا ہوں (تاکہ اس کو روک سکوں اور اسي لئے صدقہ موت تک کو ٹال سکتا ہے )

    اللہ تعالي سے (کسي فعل کے انجام دينے يا نہ دينے پر) عہد کرے کيونکہ اللہ سے وعدہ کرنے اور اس وعدہ کے وفاء کرنے کے دوران ميں اس ميں حائل ہوتا ہوں

    پھر ابليس چلايا کہ يہ ميں حضرت موسي عليہ السلام کو کيا بتا ديا جو کہ بني آدم کو راہ راست پر لانے والوں ميں سے ہے
يعمل...
X