بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
امام صاحب العصر والزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے زمانے میں ایک راوی کا بیان ہے کہ میرے گھر میں خدا نے بیٹا دیا۔ میں نے امام زمانہ علیہ السلام سے اجازت چاہی کہ کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ساتویں دن اسکا ختنہ کرادوں؟ اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
آپ علیہ السلام کی طرف سے جواب موصول ہوا کہ نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے اس کے ساتویں یا آٹھویں دن وہ لڑکا مرگیا میں نے خط کے ذریعے آپ کو آپ علیہ السلام کو اس کی موت کی اطلاع دی ۔
آپ علیہ السلام نے اس کے جواب میں لکھا: اللہ تعالیٰ اس کے عوض تمہیں دو بیٹے عطا کرے گا ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام جعفر رکھنا ۔
چنانچہ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالی نے مجھے دو بیٹے دئیے جن کے نام میں نے احمد اور جعفر رکھا ۔ میں نے ایک سال حج کی تیاری کی اور میں رخصت ہو کر روانہ ہونے کو تھا کہ آپ علیہ السلام کی طرف سے ایک رقعہ ملا جس میں لکھا تھا:
"ہمیں اس سال تمہارا حج پہ جانا پسند نہیں ہے ویسے تمہیں اختیار حاصل ہے"
راوی کہتا ہے کہ اس خط کیوجہ سے میں بہت غمگین ہوا اور میں نے جواب میں لکھا کہ آپ علیہ السلام کا حکم سر آنکھوں پر میں امسال حج پر نہیں جاؤنگا البتہ حج سے محرومی کا مجھے سخت دکھ ہے ۔
جواب میں آپ علیہ السلام نے فرمایا : غم نہ کرو خدا نے چاہا تو آئیندہ سال تم حج پر جاؤگے ۔
دوسرے سال میں نے حج کی اجازت کے لئے خط لکھا اور خط میں یہ بھی لکھا کہ میں نے محمد بن عباس کو اپنا عدیل (اونٹ پر دو بیٹھنے والے) بنا لیا ہے ۔
آپ علیہ السلام نے جواب میں لکھا : "حج پر ضرور جاؤ اور اسدی اچھا عدیل ہے اس پر کسی دوسرے کو ترجیح نہ دینا"