بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرج آل محمد
نوّاب كى تعداد ميں اختلاف ہے _ سيد بن طاؤس نے اپنى كتاب ' ربيع الشيعہ ' ميں جو نام ذكر كئے ہيں وہ يہ ہيں : ابو ہاشم داؤد بن القاسم ، محمد بن على بن بلال ، عثمان بن سعيد ، محمد بن عثمان ، عمر اہوازى ، احمد بن اسحاق ، ابو محمد الو جناى ، ابراہيم بن مہزيار ، محمد بن ابراہيم (رجال ابو على طبع سنہ 1102 ھ ص 312)_
شيخ طوسى نے وكلاء كے نام اسى طرح نقل كئے ہيں : بغداد سے عمرى ، ان كا بيٹا ، حاجز ، بلالى اور عطار ، كوفہ سے عاصمى ، اہواز سے محمد بن ابراہيم بن مہزيار ، قم سے احمد بن اسحاق ، ہمدان سغ محمد بن صالح ، رَى سے شامى واسدى ، آذربائجان سے قاسم بن العلاء اور نيشاپور سے محمد بن شاذان _ (رجال مامقانى طبع نجف ج 1 ص 200 ، اثبات الہداة ج 7 ص 294)
ليكن شيعوں كے درميان چار اشخاص كى وكالت مشہور ہے : ا_ عثمان بن سعيد 2_ محمد بن عثمان 3_ حسين بن روح 4_ على بن محمد سمرى _ ان ميں سے ہر ايك نے مختلف شہروں ميں نمائندے مقرر كرركھے تھے _( بحارالانوار ج 51 ص 362)
عثمان بن سعيد
عثمان بن سعيد امام حسن عسكرى (ع) كے موثق و بزرگ صحابہ ميں سے تھے _ ان كے متعلق بوعلى لكھتے ہيں : ' عثمان بن سعيد موثق و جليل القدر تھے ، ان كى توصيف كرنا سورج كو چراغ دكھانا ہے ' (رجال بوعلى ص 200) علامّہ بہبہانى لكھتے ہيں :' عثمان بن سعيد ثقہ اور جليل القدر ہيں (منہج البلاغ مؤلف علامہ بہبہانى ص 219) _ امام على نقى اور امام حسن عسكرى نے آپ كى توثيق كى ہے _
احمد بن اسحاق كہتے ہيں :' ميں نے امام على نقى كى خدمت ميں عرض كى ہيں كس كے ساتھ معاشرت كروں اور احكام دين كس سے دريافت كروں اور كس كى بات قبول كروں ؟ فرمايا: سعيد بن عثمان ہمارے معتمد ہيں _ اگر وہ تم سغ كوئي بات كہيں تو صحيح ہے _ انكى بات سنو، اور اطاعت كرو كيونكہ مجھے ان پر اعتماد ہے'_
ابوعلى نقل كرتے ہيں كہ: امام حسن عسكرى سے بھى ايسا ہى سوال كيا گيا تو آپ (ع) نے فرمايا: عثمان بن سعيد اور ان كے بيٹے پرمجھے اعتماد ہے _ تمہارے سامنے وہ جو روايت بھى بيان كريں وہ صحيح ہے _ ان كى بات سنو، اور اطاعت كرو كيونكہ مجھے ان پر اعتماد ہے _ اصحاب كے درميان يہ حديث اس قدر مشہور تھى كہ ابو العباس حميرى كہتے ہيں : 'ہم لوگوں كے درميان بہت زيادہ مذاكرہ ہوتا تھا اور اس ميں عثمان بن سعيد كى ستائشے كرتے تھے ' (بحارالانوار ج 51 ص 348)_
محمد بن اسمعيل و على بن عبداللہ كہتے ہيں :' سامرہ ميں ہم لوگ حضرت امام حسن عسكرى كى خدمت ميں شرف ياب ہوئے اس وقت شيعوں كى ايك جماعت بھى موجود تھى ناگہان بدر خادم آيا اور عرض كى ايك پريشان بال جماعت آئي ہے ، داخل ہونے كى اجازت چاہتى ہے _ آپ (ع) نے فرمايا : وہ يمن كے شيعہ ہيں اس كے بعد آپنے بدر خادم سے فرمايا: عثمان بن سعيد كو بلاؤ_ عثمان آئے ، امام نے فرمايا : تم ہمارے موثق وكيل ہو يہ جماعت جو مال خدا ليكر آئي ہے _ اسے تحويل ميں لے لو _ راوى كہتا ہے : ميں نے عرض كى : ہم تو يہ جانتے تھى كہ عثمان بہترين شيعہ ہيں ليكن آپ(ع) نے اس عمل سے ان كا مرتبہ بڑھا ديا اور ان كے ثقہ اور وكيل ہونے كا اثبات كرديا ہے _ آپ (ع) نے فرمايا : حقيقت يہى ہے جان لو كہ عثمان بن سعيد ميرے وكيل ہيں اور ان كا بيٹا ميرے بيٹے مہدى كا وكيل ہوگا _ (بحار الانوار ج 51 ص 345)
امام حسن عسكر ي(ع) نے اپنے بيٹے كے بارے ميں چاليس افراد ، منجملہ ان كے على بن بلال ، احمد بن ہلال ، محمد بن معاويہ اور حسن بن محبوب ، كے سامنے فرمايا: ' يہ ميرا جانشين اور تمہارا امام ہے اس كى اطاعت كرو ،واضح رہے آج كے بعد مدتوں تك تم اسے نہيں ديكھ سكوگے ، عثمان بن سعيد كى باتوں كو تسليم كرو اور ان كے حكم كے مطابق چلو كيونكہ وہ تمہارے امام كا جانشين ہے اور شيعوں كے امور كے حل و فصل اسى كے ہاتھ ميں ہيں _ (بحار الانوار ج 51 ص 346)
ان كى كرامات
ان تمام باتوں كے علاوہ ان كى طرف كچھ كرامات بھى منسوب ہيں جس سے ان كى صداقت ثابت ہوتى ہے _ ان ميں سے كچھ ملاحظہ فرمائيں _
شيخ طوسى نے اپنى كتاب ، غيبت ميں بنى نوبخت كيايك جماعت منجملہ اس كے ابوالحسن كثيرى سے روايت كى ہے كہ : قم اور اس كے مضافات سے عثمان بن سعيد كے پاس كچھ مال بھيجا گيا پہنچا نے والا جب واپس لوٹنے لگا تو عثمان بن سعيد نے كہا : ايك اور امانت تمہارے سپردكى گئي تھى وہ تم نے تحويل ميں كيوں نہيں دى ؟ اس نے عرض كى : ميرے پاس اور كوئي چيز باقى نہيں ہے _ عثمان بن سعيد نے كہا : واپس جاؤ اور اسے تلاش كرو _ چند دن تلاش كرنے كے بعد وہ شخص پھر آيا اور كہا : مجھے تو كوئي چيز دستياب نہيں ہوئي _ فلاں بن فلاں نے ہمارے لئے سردانى كے دوپارچے تمہارے سپردكئے تھے وہ كيا ہوئے ؟ عرض كى : خدا كى قسم آپ كى بات سچ ہے ليكن ميں بھول گيا اب نہيں معلوم كہ وہ كہاں ہيں _ اس كے بعد وہ دوبارہ اپنے گھر لوٹ آيا اور بہت تلاش كيا ليكن ناكام رہا _ پھر عثمان بن سعيد كے پا گيا ، اور پورا واقعہ بيان كيا تو انہوں نے كہا : فلان بن فلاں روئي بيچنے والے كے پاس جاؤ_ روئي كى دو تھيلے تم اس كے پاس لے گئے تھے ، جس تھيلے پر يہ تحرير ہو اسے كھول كر ديكھو وہ امانت تمہيں اس ميں ملے گى اس نے حكم كى تعميل كى پارچہ اس ميں ملا تو ان كى خدمت ميں پہنچا ديا (بحار الانوار ج 51 ص 316) _
محمد بن على اسود كہتے ہيں : ايك عورت نے مجھے ايك كپڑا ديا تھا كہ اسے عثمان بن سعيد كے پاس پہنچا دينا _ دوسرے كپڑوں كے ساتھ اسے ميں ان كى خدمت ميں لے گيا _ انہوں نے كہا : محمد بن عباس قمى كى تحويل ميں ديدو _ ميں نے حكم كى تعميل كي اس كے بعد عثمان بن سعيد نے پيغام بھيجا كہ فلاںعورت كا كپڑا تم نے كيوں نہيں ديا ؟ پس اس عورت كے كپڑے كى بات مجھے ياد آگئي تلاش بسيار كے بعد وہ ملاتو ميں تحويل ميں دے ديا _ (بحار الانوار ج 51 ص 335)
شيخ صدوق نے اپنى كتاب ' اكمال الدين' ميں لكھا ہے :' ايك شخص عراق سے عثمان بن سعيد كے پاس سہم امام لے كر گيا _ عثمان نے مال واپس كرديا اور كہا: اس ميں سے چار سو درہم اپنے چچا زاد بھائيوں كا حق نكال دو _ عراقى كو بڑا تعجّب ہوا _ جب اس نے حساب كيا تو معلوم ہوا كہ ابھى تك اس كے چچا زاد بھائيوں كى كاشتكارى كى كچھ زميں اس كے پاس ہے _ جب صحيح طريقہ سے آنے پائي كا حساب كيا تو ان كے چار سو ہى درہم نكلے _ لہذا اس نے مبلغ مذكور كو اموال سے نكال ديا اور بقيہ كو عثمان بن سعيد كے پاس لے گيا ، چنانچہ قبول كر ليا گيا _( بحار الانوار ج 51 ص 326، اثبات اهداةج7 ص 302)
اب احباب انصاف فرمائيں ، كيا عثمان بن سعيد كے بارے ميں وارد ہونے والى احاديث ، امام حسن عسكرى كے نزديك ان كى قدرومنزلت اور امام حسن عسكرى كے خاص اصحاب كا ان كے سامنے سراپا تسليم ہونے اور ان كے عادل ہونے پر شيعوں كے اتفاق كے با وجود كيا ان كے وعد ے ميں شك كيا جا سكتا ہے كيا يہ احتمال ديا جا سكتا ہے كہ انہوں نے لوگوں كو فريب دينے كى وجہ سے ايسا كيا؟ محمّد بن عثمان
عثمان بن سعيد كے انتقال كے بعد ان كے بيٹے محمد بن عثمان اپنے باپ كے جانشين ہوئے اور امام كے وكيل منصوب ہوئے _
شيخ طوسى ان كے بارے ميں لكھتے ہيں : محمد بن عثمان اور ان كے والد دونوں صاحب الزمان كے وكيل تھے اور امام كى نظر ميں معزز تھے _ (منہج المقال ص 305 ، رجال مامقانى ج 3 ص 149)
مامقانى نے لكھا ہے : محمد بن عثمان كى عظمت و جلالت اماميہ كے نزديك مسلم ہے _ كسى دليل و بيان كى محتاج نہيں ہے _ شيعوں كا اس بات پر اتفاق ہے كہ وہ اپنے والد كى حيات ميں امام حسن عسكرى كے بھى وكيل تھے اور حضرت حجّت كے بھى سفير تھے _ (رجال مامقانى ج 3 ص 149)
عثمان بن سعيد نے تصريح كى ہے كہ : ميرے بعد ميرا بيٹا ميرا جانشين اور نائب امام ہے _ (رجال مامقانى ج 1 ص 200)
يعقوب بن اسحاق كہتے ہيں : ميں نے محمد بن عثمان كے توسط سے امام زمانہ (ع) كى خدمت ميں خط ارسال كيا اور كچھ دينى مسائل معلوم كئے _ امام كى تحرير ميں جواب موصول ہوا آپ نے تحرير فرمايا تھا: محمد بن عثمان عمرى موثق ہيں اور ان كے خطوط ميرے ہى خط ہيں _ (بحار الانوار ج 51 ص 349)
انكى كرامات
محمد بن شاذان كہتے ہيں كہ : ميرے پاس سہم امام كے چار سو اسى درہم جمع ہوگئے تھے _ چونكہ ميں پانچ سو سے كم امام كى خدمت ميں نہيں بھيجنا چاہتا تھا اس لئے بيس اپنى طرف سے شامل كر كے محمد بن عثمان كے توسط امام كى خدمت ميں ارسال كرديئےيكن اس اضافہ كى تفصيل نہ لكھى _ امام كى طرف سے اس كى وصول يابى كى رسيد اس تحرير كے ساتھ موصول ہوئي : ' پانچ سو درہم تمہارے بيس درہم كے ساتھ موصول ہوئے ' (بحارالانوار ج 51 ص 337)_
جعفر بن متيل كہتے ہيں : محمد بن عثمان نے مجھے طلب كيا ، چند كپڑے اور ايك تھيلى ميں كچھ درہم ديئےور فرمايا: ' واسطہ جاؤ اور وہاں پہلا جو شخص ملے يہ كپڑے اور درہم اس كے حوالہ كردو '_ ميں واسطہ كے لئے روانہ ہوا اور پہلے جس شخص سے ميرى ملاقات ہوئي وہ حسن بن محمد بن قطاة تھے _ ميں نے انھيں اپنا تعارف كرايا ، معانقہ كيا اور كہا :' محمد بن عثمان نے آپ كو سلام كہلايا ہے اور آپ كے لئے يہ امانت ارسال كى ہے ' _ يہ بات سن كر انہوں نے خدا كا شكر ادا كيا اور كہا : محمد بن عبداللہ عامرى كا انتقال ہوگيا ہے _ اب ميں ان كا كفن لينے كے لئے نكلا ہوں _ جب ہم نے اس امانت كو كو كھولا تو ديكھا كہ اس ميں ايك مردہ كے دفن كى تمام چيزيں موجود ہيں _ جنازہ اٹھانے والوں اور گوركن كيلئے كچھ پيسے بھى تھے ، اس كے بعد تشييع جنازہ كے بعد انہيں دفن كرديا ' (بحار الانوار ج 51 ص 351) _
محمد بن على بن الاسود قمى كہتے ہيں :' محمد بن عثمان نے اپنى قبر تيار كرائي تو ميں نے وجہ دريافت كى ، كہا ، مجھے امام نے حكم ديا ہے كہ :' اپنے امور كو سميٹ لو' چنانچہ اس واقعہ كے دو ماہ بعد ان كا انتقال ہوا _ (بحار الانوار ج 51 ص 352)
محمد بن عثمان تقريباً پچاس سال تك نائب امام رہے اور 304 ھ ميں انتقال كيا _ (بحارالانوار ج 51 ص 352)
حسين بن روح
امام زمانہ كے تيسرے نائب حسين بن روح ہيں _ وہ اپنے زمانہ كے عقلمند ترين انسان تھے _ محمد بن عثمان نے انھيں امام زمانہ كا نائب منصوب كيا تھا _
بحار ميں مجلسى لكھتے ہيں : جب محمد بن عثمان كا مرض شديد ہو گيا تو شيعوں كے سر برآوردہ اور معروف افراد ، جيسے ابو على بن ہمام ، ابو عبداللہ بن محمد كاتب ، ابو عبداللہ باقطانى ، ابو سہل اسماعيل بن على نوبختى اور ابو عبداللہ بن وجنا ان كے پاس گئے اور ان كے جانشين كے بارے ميں سوال كيا تو انہوں نے فرمايا : ' حسين بن روح ميرے جانشين اور صاحب الامر كے وكيل و معتمد ہيں _ اپنے امور ميں ان سے رجوع كرنا _ مجھے امام نے حكم ديا ہے كہ حسين بن روح كو اپنا نائب مقرر كردو ' (بحارالانوار ج 51 ص 355)
جعفر بن محمد مدائينى كہتے ہيں : امام زمانہ كے اموال كو ميں محمد بن عثمان كے پاس لے جاتا تھا_ ايك روز چار سودرہم ان كى خدمت ميں پيش كيئےو فرمايا : اس پيسہ كو حسين بن روح كے پاس لے جاؤ _ ميں نے عرض كى ميرى خواہش ہے كہ آپ ہى قبول فرمائيں فرمايا: حسين بن روح كے پاس لے جاؤ، معلوم ہونا چاہئے كہ ميں نے انھيں اپنا جانشين قرار ديا ہے _ ميں نے دريافت كيا ، كيا امام زمانہ كے حكم سے آپ نے يہ كام انجام ديا ہے ؟ فرمايا: ' بے شك ' _ پس ميں اسے حسين بن روح كے پاس لے گيا _ اس كے بعد سہم امام كو ہميشہ انہيں كے پاس لے جاتا تھا _ (بحار الانوار ج 51 ص 352)
محمد بن عثمان كے اصحاب و خواص كے درميان بہت سے افراد تھے جو كہ مراتب ميں حسين بن روح سے بلند تھے _ مثلاً جعفر بن احمد متيل كے بارے ميں سب كو يقين تھا كہ منصب نيابت ان كے سپرد كيا جائے گا _ ليكن ان كى توقع كے خلاف اس منصب كيلئے حسين بن روح كو منتخب كيا گيا _ اور تمام اصحاب يہاں تك جعفر بن احمد بن متيل بھى ان كے سامنے سراپا تسليم ہوگئے _ (بحار الانوار ج 51 ص 353)
ابو سہل نوبختى سے لوگوں نے دريافت كيا : حسين بن روح كيسے نائب بن گئے جبكہ آپ اس منصب كے لئے زيادہ سزاوار تھے؟ انہوں نے كہا : امام بہتر جانتے ہيں كہ اس منصب كے لئے كس كا انتخاب كيا جائے _ چونكہ ميں ہميشہ مخالفوں سے مناظرہ كرتا ہوں _ اگر مجھے وكيل بنايا جاتا تو ممكن تھا كہ بحث كے دوران اپنے مدعا كے اثبات كيلئے امام كا پتہ بتا ديتا _ ليكن حسن بن روح مجھ جيسے نہيں ہيں ، يہاں تك كہ اگر امام اس كے لباس ميں چھپے ہوں اور لوگ قيچى سے پارہ پارہ كريں تو بھى وہ اپنا دامن نہيں كھوليں گے كہ امام نظر آجائيں _ (بحار الانوار ج 51 ص 359)
صدوق لكھتے ہيں : محمد بن على اسود نے نقل كيا ہے كہ على بن حسين بن بابويہ نے ميرے ذريعہ حسين بن روح كو پيغام ديا كہ صاحب الامر(ع) سے ميرے لئے دعا كراديں شايد خدا مجھے بيٹے عطا كرے _ ميں نے ان كا پيغام حسين بن روح كى خدمت ميں پہنچا ديا تين روز كے بعد انہوں نے اطلاع دى كہ امام نے ان كے لئے دعا كردى ہے عنقريب خدا انہيں ايسا بيٹا عطا كرے گا كہ جس سے لوگوں كو فيض پہنچے گا _ اسى سال ان كے يہاں محمد كى ولادت ہوئي _ اس كے اور بيٹے بھى پيدا ہوئے _ اس كے بعد صدوق لكھتے ہيں جب محمد بن على جب بھى مجھے ديكھتے تھے كہ محمد بن حسن بن احمد كے درس ميں آمدورفت ركھتا ہوں اور علمى كتابوں كے پڑھنے اور حفظ كرنے كا بہت زيادہ شوق ہے ، تو كہتے تھے : اس سلسلے ميں برابر بھى تعجب نہ كرو كہ تحصيل علم سے تمہيں اتنا شغف ہے كيونكہ تم امام زمانہ كى دعا سے پيدا ہوئے ہو _ (كمال الدين ج 2 ص 180)
ايك شخص كو حسين بن روح كى نيابت پر شك تھا _ پس اس نے موضوع كى تحقيق كے لئے بغير روشنائي كے قلم سے ايك خط لكھا اور امام زمانہ كى خدمت ميں ارسال كيا چند روز كے بعد امام نے حسين بن روح كے ذريعہ اس كا جواب ارسال فرمايا_ (اثبات الہداة ج 7 ص 340) _
326 ھ ، ماہ شعبان ميں حسين بن روح نے وفات پائي _ (رجال مامقانى ج 1 ص 200)
چوتھے نائب
امام زمانہ كو چوتھے نائب شيخ ابوالحسن على بن محمد سمرى تھے _ ان كے بارے ميں ابن طاؤس لكھتے ہيں :' انہوں نے امام على نقى اور امام حسن عسكرى كى خدمت كى اور ان دونوں امامو ں كا ان سے مكاتبہ تھا اور ان كے لئے بہت سى توقيعات مرقوم فرمائي ہيں _ وہ نمايان اور ثقہ شيعوں ميں سے ايك تھے _ (رجال مامقانى ج 2 ص 302)
احمد بن محمد صفوانى كہتے ہيں : حسين بن روح نے على بن محمد سمرى كو اپنا جانشين مقرر كيا تا كہ وہ ان كے امور انجام ديں _ ليكن جب على بن محمد سمرى كا وقت قريب آيا تو لوگ ان كى خدمت ميںآئے تا كہ ان كے جانشين كے بارے ميں سوال كريں _ انہون نے فرمايا : مجھے اپنا نائب بنانے كا حكم نہيں ملا ہے _ (بحاراالانوار ج 51 ص 360)
احمد بن ابراہيم بن مخلد كہتے ہيں : ايك دن على بن محمد سمرى نے بغير كسى تمہيد كے فرمايا : خدا على بن بابويہ قمى پر رحم كرے _ حاضرين نے اس جملہ كى تاريخ لكھ لى بعد ميں معلوم ہوا كہ اسى دن على بن بابويہ كا انتقال ہوا تھا _ سمرى نے بھى 329 ھ ميں وفات پائي _ (بحارالانوار ج 51 ص 360)
حسين بن احمد كہتے ہيں : على بن محمد سمرى كى وفات سے چند روز قبل ميں ان كى خدمت ميں تھا كہ امام زمانہ كى طرف سے صادر ہونے والے خط كو انہوں نے لوگوں كے سامنے پڑھا _ اس كا مضمون يہ تھا : ' على بن محمد سمري، خدا تمہارے انتقال پر تمہارے بھائيوں كو صبر جميل عطا كرے _ چھ روز كے بعد تمہارے اجل آجائے گى _ اپنے كاموں كو سميٹ لو اور اب كسى كو اپنا نائب مقرر نہ كرنا كيونكہ اس كے بعد غيبت كبرى كا سلسلہ شروع ہوگا _ ميں اس وقت تك ظاہر نہ ہونگا جب تك خدا كا حكم نہ ہوگا طويل مدت ، دلوں ميں قساوت اور زمين ظلم و جور سے نہ بھر جائے گى _ تمہارے در ميان ايسے افراد پيدا ہوں گے جو ظہور كا دعوى كريں گے _ ليكن يادر ہے ، سفيانى كے خروج اور آسمانى چيخ سے پہلے جو شخص ظہور كا دعوى كرے گا وہ جھوٹا ہے _ (بحار الانوار ج 51 ص 361)
شيعوں كا درميان چار اشخاص كى نيابت مشہور ہے _ كچھ لوگوں نے انپے مہدى ہونے كا جھوٹا دعوى كيا ہے ليكن دليل نہ ہونے كى بناپر ان كا جھوٹ آشكار ہوا اور ذليل ہوئے _ جيسا كا حسن شرعى ، محمد بن نصير نميرى ، احمد بن ہلال كرخى ، محمد بن على بن ہلال ، محمد بن على شلمغانى اورابوبكر بغدادى نے كيا تھا